پانی میں کلورین شامل کرنے والی مشینیں خراب گیسٹرو کی وباﺅ میں شدت کا خدشہ

پانی میں کلورین شامل کرنے والی مشینیں خراب گیسٹرو کی وباﺅ میں شدت کا خدشہ

  



                 لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت میں واسا کے 480ٹیوب ویلوں کی اکثریت میں کلورین ملانے والے کلورینیٹرز خراب ہوگئے جنہیں موسم برسات کی آمد سے قبل درست کرانا تھا جو نہیں کرائے جاسکے دوسری طرف پانی میں کلورین کی مقدار بڑھائی نہیں جاسکی جس کے باعث شہر میں پانی کی وجہ سے آلودگی بڑھ جانے سے پیٹ کی بیماریوں میں اضافہ کا امکان ہے صوبائی دارالحکومت کے ٹیوب ویلوں کو کلورین مہیا نہیں کی گئی جس کے باعث شہر میںموسم برسات کے دوران گیسٹرو اور پیٹ کے دیگر امراض میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے بتایا گیا ہے موسم برسات میں واسا پانی میں کلورین کی مقدار بڑھانے کا پابند ہے اور اسی کے لئے پانی میں کلورنیشن کی جاتی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ واسا نے موسم برسات کے لئے تاحال اضافی کلورنیشن کے لئے کلورین کی خریداری نہیں کی حالانکہ مون سون کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے شہر میں گیسٹرو کے مریضوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے اسی کے باوجود واسا کلورنیشن کےلئے مقدار بڑھا نہیں سکا تفصیلات کے مطابق موسم گرما اور خصوصاً مون سون کے دوران پانی میں زہریلے مادے اور کثافتیں بڑھنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس کےلئے واسا ہر ٹیوب ویل پر پانی میں کلورین ڈالنے کےلئے کلورین کے ڈرم رکھ دیتا ہے اور عام دنوں کے مقابلے میں اس موسم میں پانی کے اندر کلورین کی مقدار بڑھا دی جاتی ہے ذرائع نے بتایا کہ موسم شروع ہوچکا ہے اور 50فیصد سے زائد ٹیوب ویلوں پر کلوری نیٹرزدرست نہیں کئے جاسکے بتایا گیا ہے کہ واسا کا پانی میں کلورنیشن کا طریقہ کار طے ہے جس کے مطابق پانی میں ون پی پی ایم کلورین پر ملین یا اس کے حساب سے ڈالی جاتی ہے اور ایسے علاقے جہاں پانی میں آلودگی کی شکایات ہوں یا ایسے علاقے جہاں پانی کی سپلائی کا نظام یا پائپ لائن پرانی ہوں وہاں ون پی پی ایم پر ملین واٹر یا اس کے فارمولے کو تبدیل کیا جاتا ہے اور اسی کی مقدار میں آدھے پی پی ایم کا اضافہ کیا جاتا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ واسا کے سنٹرل سٹور سے 50 فیصد ٹیوب ویلوں کےلئے کلورین مہیا نہیں کی جا رہی اور ایس ڈی او سے کہا جا رہا ہے کہ کلورین گیس کی سپلائی نہیں آئی اور نئے کنٹریکٹ نہیں کئے گئے جس سے شہر میں پانی کی خرابی سے گیسٹرو میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیٹ کی وہ بیماریاں جو آلودہ پانی کے باعث حملہ آور ہوتی ہیں ان کے اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے اسی حوالے سے ڈی ایم ڈی واسا سیّد اقتدار شاہ سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسی بات نہیں ہے کلورین خرید لی گئی ہے اور سٹاک میں موجود ہے اگر سٹور کیپر کسی کو کلورین دینے سے انکار کر رہا ہے یا متعلقہ ایس ڈی او اس پر توجہ نہیں دے رہا تو پورا ایکشن لیا جائے گا اور کلورین کی پانی میںملاوٹ کو یقینی بنایا جائے گا 15 جون سے مقدار بڑھائی جانی ہے اس پر مکمل عملدرآمد کرائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...