بھارت کا ائیر بیس کی توسیع کیلئے 38سوکنال اراضی پر قبضہ کیلئے اقدامات

بھارت کا ائیر بیس کی توسیع کیلئے 38سوکنال اراضی پر قبضہ کیلئے اقدامات

  



                    سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کے فوجی تسلط کو مزید مستحکم کرنے کیلئے بھارتی وزارت دفاع سرینگر کے ہوائی اڈے کے قریب اپنی ائیر بیس کو توسیع دینے کی غرض سے ضلع بڈگام میں مستقل طورپر 38سو کنال اراضی حاصل کر رہی ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک مقامی روزنانے ”گریٹر کشمیر “ نے سرکاری ذریعوں کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ کاریوا دامودار نامی اس اراضی کے حصول کے بعد یہ مکمل طورپر بھارتی وزارت دفاع کے کنٹرول میں ہوگی ۔اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی زمین کی حد بندی کا عمل مکمل کر کے رپورٹ تیار کر لی ہے ۔ یہ اراضی پہلے سے بھارتی فضائیہ کے استعمال میں تھی جو اسے اپنے ائیر بیس اور ہوائی اڈے کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھے جبکہ اراضی کا کچھ حصہ بھارتی فوج کے زیر استعمال بھی تھا ۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق ریونیو اتھارٹیز نے بڈگام میں لینڈ ریکوزیشن اینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت زمین کے حصول کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کیلئے تمام کارروائی مکمل کر لی ہے۔

 جس کے بعد وزارت دفاع کو فوج اور فضائیہ کے استعمال کیلئے زمین کے حصول کی راہ ہموار ہو گی ۔ ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ چار جون کو ڈویژنل کمشنر کشمیر کو اپنی حتمی رپورٹ بھجوائی تھی اور زمین کے حصول کا حتمی مرحلہ کمشنر کی طرف سے یہ رپورٹ محکمہ داخلہ کو بجھوانے کے بعد شروع ہو گا ۔ یہ زمین کرال پورہ، واتھورہ، بچھرو، دیو باغ ، رنگرتھ، گوگو، ہمہامہ اور واووسہ سمیت بڈگام کے سات دیہات کے رہائشیوں کی ہے اور وہ بھارتی وزارت دفاع کے ساتھ قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...