عالمی طاقتوں کی طرف سے ایران کے صدارتی انتخابات میں اعتدال پسند امیدوار کی کامیابی کا محتاط خیرمقدم

عالمی طاقتوں کی طرف سے ایران کے صدارتی انتخابات میں اعتدال پسند امیدوار کی ...

  



                واشنگٹن / اقوام متحدہ(اے پی پی) ایران میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں اعتدال پسند عالم دین حسن روحانی کی کامیابی کا عالمی طاقتوں نے محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا نے حسن روحانی کی کامیابی پر کہا کہ وہ جوہری تنازعے کے حل کے لیے ایران کے ساتھ براہ راست بات چیت کو تیار ہے۔وائٹ ہاو¿س نے ایک بیان میں کہا کہ ان براہ راست مذاکرات کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی تشویش دور کی جائے۔

 اور تنازعے کا سفارتی حل تلاش کیا جائے۔وائٹ ہاو¿س نے ایران میں صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ کے دوران میڈیا اور انٹرنیٹ پر سنسر شپ اور پکڑ دھکڑ کی کارروائیوں پر تنقید کی ہے جس کی وجہ سے آزادی اظہار محدود ہوکررہ گئی اور لوگوں سے اجتماع کا حق بھی چھین لیا گیا۔واضح رہے چونسٹھ سالہ نومنتخب صدر حسن روحانی ماضی میں امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے عزم کا اظہار کرچکے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے نئے صدر کے انتخاب پر ایران کو جوہری پروگرام سے دستبردار کرانے کے لیے بین الاقوامی دباو¿ جاری رکھنے پر زوردیا ہے۔انتہا پسند اسرائیلی لیڈر نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو ایران پر دباو¿ میں کمی نہیں لانی چاہیے۔روسی صدر ولادی میر پوتین نے حسن روحانی کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔انھوں نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ حسن روحانی کی کامیابی سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔کریملن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ''روسی صدرنے علاقائی سلامتی اورعالمی استحکام میں ایران کے ساتھ دونوں ملکوں کے مفاد میں مختلف شعبوں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔خلیجی ریاستوں نے بھی حسن روحانی کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہاہیان نے نومنتخب ایرانی صدر کو مبار باد کا ایک ٹیلی گرام بھیجا ہے جس میں انھوں نے ایران کے ساتھ دونوں ممالک کے عوام کے مفاد تعلقات بڑھانے پر زوردیا ہے۔درایں اثنائ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری تنازعے کے فوری سفارتی حل کی تلاش کے لیے حسن روحانی کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے اپنے مبارک باد کے پیغام میں ایران پر زوردیا ہے کہ وہ علاقائی اور عالمی امور میں تعمیری کردار ادا کرے۔انھوں نے صدارتی انتخابات میں ووٹ کی بلند شرح کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے کہا کہ پیرس حسن روحانی کے ساتھ مل کرکام کرنے کو تیار ہے لیکن ایران کا جوہری پروگرام اور اس کی شامی تنازعے میں مداخلت ایجنڈے میں سرفہرست ہوگی۔برطانیہ نے نومنتخب صدر حسن روحانی سے کہا ہے کہ وہ ایران کو ایک مختلف ڈگر پر ڈالیں جبکہ جرمن وزیرخارجہ گائیڈو ویسٹر ویلے نے ان کی کامیابی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل اصلاحات اور تعمیری خارجہ پالیسی کا انتخاب ہے۔ادھر شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے حسن روحانی پر زوردیا ہے کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد صدر بشارالاسد کی حمایت کے ضمن میں پالیسی پر نظرثانی کریں جبکہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے بڑے زبردست انداز میں نومنتخب ایرانی صدر کو مبارک باد دی ہے اور ان کی کامیابی کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...