اشیاءو مصنوعات کی قلت کو درآمدات کے ذریعے پوری کرنے کی پالیسی ختم کی جائے

اشیاءو مصنوعات کی قلت کو درآمدات کے ذریعے پوری کرنے کی پالیسی ختم کی جائے

  



                                اسلام آباد (اے پی پی) صنعت کاروں اور ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ ماضی کی پالیسیوں میں تبدیلی لائے اور اشیاءو مصنوعات کی قلت کو درآمدات کے ذریعے پوری کرنے کی پالیسی ختم کی جائے۔ جس سے مقامی پیداوار میں اضافہ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ رسد میں کمی سے مقامی اداروں اور کاشت کاروں کو مواقع دستیاب ہوں گے کہ وہ اپنی پیداوار میں اضافہ کے ذریعے مقامی مارکیٹوں کی رسد کو پورا کرسکیں زرعی شعبہ کے ماہر اور فامرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر حامد ملہی نے کہا ہے کہ ضروری غذائی اجناس کے علاوہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں شوکت عزیز نے بھارت سے آلو ‘ پیاز اور ٹماٹروں سمیت دیگر سبزیوں کی درآمد کی اجازت دی تھی جس سے غذائی اشیاءکا افراط زر تیزی سے بڑھ گیا تھا جبکہ مقامی کاشت کار چھوٹی فصلوں ‘ سبزیوں اور دالوں وغیرہ کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات کی حوصلہ افزائی کے باعث مقامی کاشت کاروں نے کاشت میں کمی کردی۔

جس سے ملک میں سبزیوں کی قلت میں اضافہ ہوگیا۔ حامد ملہی نے کہا کہ بھارت میں زرعی شعبہ کو بھاری سبسڈیز دی جاتی ہیں مقامی کاشت کار بھارت سے درآمد کی جانے والی سبزیوں کے نرخوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ مقامی پیداوار کو فروغ حاصل ہو جس سے شعبہ کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ صنعت کاروں نے بھی درآمدات کی بجائے مقامی انڈسٹری کے فروغ کی پالیسی مرتب کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صنعتی پیداوار کو فروغ حاصل ہوگا اور روز گار کے وسیع مواقع پیدا کئے جاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی مصنوعات کے مقابلہ کے لئے مقامی صنعتوں کی سہولیات بڑھائی جائیں جس سے ملکی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا اور ملکی معیشت مستحکم ہوگی۔

مزید : کامرس