مسائل میں گھرا ٹیڑھی راہوں کا سیدھا مسافر

مسائل میں گھرا ٹیڑھی راہوں کا سیدھا مسافر
مسائل میں گھرا ٹیڑھی راہوں کا سیدھا مسافر

  



5جون 2013ءکو اوراق پاکستان پر اس وقت ایک نئی تاریخ لکھی گئی،جب 14سال کے بعد میاں نوازشریف تیسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔قدرت کے بھید نرالے ہیں، جب میاںنوازشریف دو تہائی سے زیادہ ووٹ لے کر وزارتِ عظمیٰ کا حلف لے رہے تھے تو پرویز مشرف سابق ڈکٹیٹرحکومت پاکستان اپنے ہی گھر کی ”سب جیل “میں قید تھے اور ضمانت کے لئے مختلف عدالتوں میں ٹھوکریں کھا رہے تھے اور یہ قانون فطرت عیاں ہورہا تھا کہ ملک و قوم کے مجرم کو جلد یابدیر سزا ضرور ملتی ہے۔یہ حقیقت بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ میاںنوازشریف نے وزیراعظم کا عہدہ تیسری مرتبہ حاصل کیا اور انہوں نے پیپلزپارٹی کی نااہل حکومت کو مدت پوری کرنے کے لئے ”فرینڈلی اپوزیشن“ کا کردار ادا کیا، لیکن جمہوریت کو پٹڑی سے اترنے نہ دیا۔مارچ 2008 ءمیں جب پیپلزپارٹی برسرِ اقتدار آئی تو قوم نے خدا کا شکر ادا کیا تھا کہ فوجی راج سے نجات مل گئی، لیکن آصف علی زرداری کی مفاہمت کی پالیسی نے نہ صرف حکومت کی نااہلیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے، بلکہ ملکی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔صدر کی ایک ہی خواہش تھی کہ ان کی کرسی محفوظ رہے۔ان کے آئینی فرائض کی فہرست میں عوام کو کسی مفاد کا حق حاصل نہیں تھا،چنانچہ وہ انتخابات کے بعد آنے والے وزیراعظم کے لئے مسائل کے پہاڑ کھڑے کررہے تھے۔

یہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ صدر آصف علی زرداری اپنے مقاصد میں کامیاب رہے، لیکن یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ستمبر 2013ءمیں جب وہ ایوانِ صدر خالی کریں گے تو مستقبل ان کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟یہ سوال بھی اہم ہے کہدو وزرائے اعظم کو عضو معطل بنائے رکھنے کے بعد اب وہ اپنی صدارت کے آخری تین ماہ کس طرح گزاریں گے؟ کیا وہ اس حقیقت کو نوشتہءدیوار سمجھ لیں گے کہ وہ صرف رسمی صدر ہیں اور اب ان کے قالب میں سابق صدر چودھری فضل الٰہی کی روح سما جائے گی اور وہ اپنی شطرنج کی بساط لپیٹ ڈالیں گے؟ ظاہر ہے پاکستان کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہو چکا ہے۔وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد میاں نوازشریف نے قومی اسمبلی میں جو پہلی تقریر کی ،اسے ان کی گزشتہ تیرہ سال کی بے اقتدار زندگی کا عملی تجربہ قرار دینا چاہیے۔ان کی تقریر ایک حالات چشیدہ اور بحران گزیدہ سیاستدان کی تقریر تھی۔وہ اٹھارہ کروڑ عوام کی توقعات کوپوراکرنے کا عزم راسخ بھی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ دلکش نعرے نہیں لگائیں گے ،نہ ایسے وعدے کریں گے، البتہ پاکستان اور عوام کا مقدر بدلنے کے لئے نہ خود آرام سے بیٹھیں گے اور نہ اپنی ٹیم کو بیٹھنے دیں گے۔تبدیلی کے بنیادی کام کا آغاز کردیا گیا ہے اور اب کرپشن کسی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔اب صلاحیت، قابلیت، اہلیت اور میرٹ کو اہمیت دی جائے گی۔میری آنکھیں روشن پاکستان کا دمکتا ہوا چہرہ دیکھ رہی ہیں۔

بعض لوگوں کے نزدیک نوازشریف کی پہلی تقریر روایتی تھی۔مارچ 2008ء میں متفقہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد یوسف رضا گیلانی نے بھی ایسی ہی لچھے دار تقریر کی تھی، لیکن جب عمل کا وقت آیا تو ان کے چیف ایگزیکٹو کے اختیارات کو صدر آصف علی زرداری نے استعمال کیا اور نتیجہ کرپشن کی وہ عملداری ہے، جو ہر سرکاری ادارے میں پھیلتی چلی گئی، لیکن دوسری طرف اب آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے ادوار کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ عوام کو نظر انداز کرکے ان لوگوں کو قریب لا رہے تھے، جنہیں آصف علی زرداری بینظیر بھٹوکا قاتل قرار دیتے تھے ۔جو لوگ نوازشریف کو بدلا ہوا سیاستدان کہتے ہیں،ان کے تجزیے کو یکسر مسترد کرنا ممکن نہیں۔عنانِ اقتدار سنبھالنے سے پہلے انہوں نے خیبر پی کے میں تحریک انصاف کی کامیابی کا خیر مقدم کیا۔بلوچستان میں انہیں حکومت قائم کرنے کے مواقع حاصل تھے،لیکن انہوں نے ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلیٰ نامزد کرکے مفاہمت کی عملی مثال قائم کی اور سازشوں کے دروازے بند کردیئے۔

قومی اسمبلی میں نوازشریف کی پہلی تقریر مسلم لیگ(ن) کے منشور کے عین مطابق تھی۔اب اس بلیو پرنٹ میں نوازشریف اور ان کے ساتھیوں نے رنگ بھرنے ہیں ۔ان کا پہلا امتحان بھی شروع ہوچکا ہے۔مراد بجٹ ہے،جو ثابت کررہا ہے کہ نوازشریف معیشت کو کس طرح سہارا دینا چاہتے ہیں اور ایک عام آدمی کی حالت کس طرح سنواری جائے گی؟پاکستان قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اور کھلے لفظوں میں کہا جا رہا ہے کہ خزانہ خالی ہے۔اس صورت میں کیا ایک مرتبہ پھر کا سہ¿ گدائی لے کر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے دروازے کو کھٹکھٹانا پڑے گا؟ سابق حکومت نے خزانے کو لوٹنے ،اقربا کو نوازنے ،نااہلوں کو اہم ترین اداروں کا سربراہ بنانے اور کرپشن کو فروغ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی ۔تباہی اور بربادی کے اس سیلاب کے آگے میاں نوازشریف کو بند باندھنا ہے اور مخالف قوتوں کو آہنی ہاتھ سے اس طرح ڈیل کرنا ہے کہ جمہوریت کو گزند نہ پہنچے۔

بلاشبہ یہ کڑا امتحان ہے اور عوام توقع کرتے ہیں کہ نوازشریف اس میں کامیاب ہوں گے۔تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا بازار پھر گرم ہوگیا ہے۔متحدہ اب حزب اختلاف میں شامل ہے، لیکن واویلا بھی مچا ہوا ہے کہ اس کے کارکنوں کو قتل کیا جارہا ہے۔نوازشریف کی وزارتِ عظمیٰ کے پہلے دن ہی کراچی میں متحدہ کے کارکنوں کے قتل پر ہڑتال کی گئی تھی۔آصف علی زرداری نے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ پر اس شخص کو لگایا ہوا ہے ، جو پچھلے پانچ سال میں اس شہر میں امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔اس وقت متحدہ اور اے این پی بھی حکومت میں شامل تھیں، لیکن شہر لاشوں کا کھیت بنا ہوا تھا۔اب تنہا پیپلزپارٹی اس معاملے سے کس طرح نمٹے گی؟ نوازشریف پورے ملک کے وزیراعظم ہیں اور پورے ملک کو امن و امان دینا ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اس بحث کی روشنی میں یہ کہنا مناسب ہے کہ نوازشریف کے سامنے ڈرون حملے ہی مسئلہ نہیں،کراچی کے حالات بھی اہمیت رکھتے ہیں اور اپنی حکمرانی کے ابتدائی دنوں میں انہیں ایسے اقدامات کرنے ہیں، جن سے پورے ملک میں حالات بدلتے نظر آئیں اور طالبان کے ساتھ امریکہ نے جو رنجش پیدا کردی ہے، اس کا ازالہ کیاجا سکے۔دعا ہے مسائل میں گھری اس حکومت کی ٹیڑھی راہوں کا سیدھا مسافر اپنی منزل سے ہمکنار ہو جائے۔  ٭

مزید : کالم


loading...