تھانہ، پٹواری کلچر اور سیکرٹریٹ

تھانہ، پٹواری کلچر اور سیکرٹریٹ
تھانہ، پٹواری کلچر اور سیکرٹریٹ

  



پہلا لفظ تھانہ ہے، اس کے بارے میں اظہارِ خیال کر لوں۔ تھانے کا انچارج ایس ایچ او ہوتا ہے ۔وہ قانون اور قاعدے کے مطابق انسپکٹر رینک کا ہونا چاہئے ، لیکن اے ایس آئی اور سب انسپکٹر بے شمار تھانوں اور چوکیوں کے ایس ایچ اوز ہیں۔ ان تمام چوکیوں تھانوں میں ایک محرر ہوتا ہے۔ اس کے بھی اسسٹنٹ اور نائب ہوتے ہیں۔صوبے میں کسی بھی تھانے دار یا ایس پی کی جرا¿ت یا ہمت نہیں کہ وہ کسی بھی حکومتی یا اپوزیشن کے ممبر کا جائز کام نہ کرے، اس کی عزت نہ کرے، اس کی تھانے یا دوسرے پولیس کے دفتروں میں آو¿ بھگت نہ کرے۔ میری معلومات کے مطابق کسی بھی حکومتی ممبر کا تھانے دار سے اس وقت پھڈا پڑتا ہے، جب اس علاقے کا منتخب ایم پی اے یا صوبے کے سربراہ تک رسائی رکھنے والے شخص کا ناجائز اور غلط کام نہیں ہوتا یا ان کے کاموں کو ان کی خواہشات کے مطابق نہیں کیا جاتا ،تو یہ بہت ہی معزز شخص اس تھانے کے ایس ایچ او، ایس پی یا ایس ایس پی کا تبادلہ کروا دیتا ہے۔ اس معزز شخص کی ایک ہی ضد ہوتی ہے کہ فلاں تھانے کا ایس ایچ او فلاں کو لگا دو یا فلاں حلقے میں فلاں ایس پی یا ڈی ایس پی کو لگاو¿۔ یہاں سے کرپشن شروع ہوتی ہے۔

کرپشن کی اصل جہ ہی کسی بھی تھانے کا ایس ایچ او سفارشی لگوانے سے شروع ہوتی ہے۔ جب کسی تھانے میں ایس ایچ او لگوانے والا اپنے پانچ کام ناجائز اورغلط کروائے گا،تواس سے دوگنا ایس ایچ او (تھانیدار) اپنے کرے گا۔ بدنام کون ہوگا، شہرت کس کی خراب ہوگی، تھانیدار کی۔ چونکہ تھانیدار نے اپنے سرپرست کو خوش رکھنا ہے تو جب کوئی بھی فرد یا نمائندہ اپنے ضلع کا ایس پی اپنی مرضی کا صوبے کے سربراہ سے لگوائے گا تو کیا وہ اس حلقے کے تھانے نیلام کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا۔ جب ضلع کے ایس پی یا ڈی پی او کو علم ہو کہ مجھے فلاں شخص نے اس جگہ پرتعینات کروایا ہے ،تو پھر وہ کس طرح اپنی نوکری خراب کرے گا۔ دوسرے الفاظ میں صوبے کے سربراہ کی ناراضگی مول لے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مصطفی کھر، حنیف رامے کی حکومتوں سے لے کر اب تک زندگی کے بہت سے نشیب و فراز سے واقف ہوں۔ بے شمار لوگ تھانوں کی آمدن سے امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں۔ صوبے کے حکمرانوں کے قریبی لوگ بھی تھانے کی کرپشن میں ملوث ہوتے ہیں۔

اختیار کے مالک لوگ بہت سمجھ دار اور عقل مند ہوتے ہیں۔ ان کی نظر ہی صوبے کے سربراہ پر اور ان کے نزدیک جی حضوری کے شہنشاہوں پر ہوتی ہے، اگر صوبے کا سربراہ اپنے ممبر کو یہ پوچھ لے کہ تمہارا کون سا کام ہے ،جو ایس پی، ڈی پی او یا ایس ایچ او نے نہیں کیا، اگر کام جائز ہو، عوام کی بھلائی کا ہو، تو صوبے کے سربراہ کو متعلقہ آفیسر سے اچھے طریقے سے باز پُرس کر کے اس کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ اگر تھانے سے رشوت ختم کرنی ہے یا صوبے سے پولیس گردی ختم کرنی ہے، تھانہ کلچر تبدیل کرنا ہے تو صوبے کے حکمران کو خود کو بدلنا ہوگا۔ اپنے اختیارات پولیس کے محکمے کے سربراہ کو دینے ہوں گے اور پولیس کے سربراہ آئی جی، ڈی آئی جی یا آر پی او سے امن و امان اور رشوت کو ختم کرنے کے متعلق جواب طلبی کرنی ہوگی اور ان افسروں کے اختیارات میں دخل اندازی قطعی طور پر ختم کر کے ان کو با اختیار بنانا ہوگا۔ تھانہ کلچر پر بڑے بڑے مضمون لکھے جا سکتے ہیں،تقریریں کی جاسکتی ہیں، تھانیدار کو اس کی ڈیوٹی تک محدود رکھا جائے، تھانے کے ایس ایچ او کو تمام اختیارات دے کر اس سے اس کے حلقے سے رزلٹ لیا جائے۔ اگر کوئی ایس ایچ او اپنے علاقے میں امن و امان قائم نہیں رکھ سکتا، چوریاں، نوسربازیاں، ڈکیتیاں روکنے میں ناکام رہتا ہے۔پولیس میں بے شمار ملازمین ایمانداری اور فرض شناسی سے ڈیوٹی دینے کے لئے تیار ہیں، لیکن اس میں سیاسی دخل اندازی بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے تھانیدار لاپرواہی اختیار کرتا ہے، اگر تھانے میں ملازمین کی تعداد ضرورت کے مطابق ہو جو کہ بالکل نہیںہے، تھانوں میں نفری کی بہت کمی ہے۔ اگر ایس ایچ او سارا دن حکمرانوں کے روٹس پر کھڑا رہے گا، اگر پولیس کی نفری (سپاہی) بھی سارا دن علاقے میں جلسے اور جلوسوں کی ڈیوٹی پر مامور رہے گی،تو پھر کس طرح وہ علاقے کے لوگوں کے کام ایماندری اور فرض شناسی سے کریں گے۔

سیاسی روٹوں پر ٹریفک پولیس وارڈن ڈیوٹی دیں۔ یہ کس قدر ظلم اور زیادتی ہے کہ حکمران کے گھر سے لے کر دفتر تک تمام راستے میں سو سوفٹ پر ایک ایک سپاہی کھڑا کر دیا جائے۔ اس راستے کے تمام چوکوں اور کوٹھیوں، رہائش گاہوں کے گیٹوں پر پولیس ملازمین ڈیوٹیاں دیں۔ اگر روٹس پر کھڑے ملازمین جن کی تعداد ہزاروں میں بنتی ہے عوام کی حفاظت کے لئے ،بینک ڈکیتیاں کرنے والے ڈاکوو¿ں کے خلاف، گاڑیاں چھیننے والوں کے خلاف، سڑکوں پر راہزنی کرنے والوں کے خلاف اور دوسرے جرائم کی سرکوبی کے لئے ان کو لگایا جائے۔ ان ملازمین کو پتہ ہو کہ ہم اپنی صحیح ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنے آفیسر کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ پولیس کو بھرتی ہی امن و امان کے لئے کیا جاتا ہے۔ پولیس ملازمین کودوسرے سرکاری ملازمین سے بالکل مختلف کاموں اور ڈیوٹیوں کے لئے بھرتی کیا جاتا ہے، لیکن جب کسی بھی پولیس ملازم سے دن رات ڈیوٹی لی جائے گی،پولیس ملازم بذریعہ سفارش اپنی تعیناتی اچھی سے اچھی جگہ پر کروانے کی کوشش کرے گا۔ اس سے کرپشن شروع ہوتی ہے اور پولیس ملازمین اپنے سرپرست سفارش کرنے والے کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنے کے لئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالے گا۔ کرپشن کا رواج ڈالے گا، ناکوں پر بلاوجہ عوام کو تنگ کرے گا۔

صوبے میں امن و امان کا مسئلہ بہت خراب ہے۔ حکمرانوں کی جانوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ ان کی حفاظت بہت ضروری ہے، لیکن چوبیس گھنٹے روٹس پر ملازمین کو کھڑے کرنے سے کوئی مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ حکمرانوں کے ساتھ جس طرح گاڑیوں کے قافلے چلتے ہیں، حکمران گاڑیوں کے جمگھٹوں میں سفر کرتے ہیں۔ ان کے راستے میں مکھی اور مچھر بھی ان کی گاڑی کو نہیں چُھو سکتا۔ دس دس پندرہ پندرہ گاڑیوں کے قافلوں پر سفر کرنے والوں کو روٹس لگے سفر پر کیا خطرہ ہو سکتا ہے، لیکن سینکڑوں ملازمین کو سارے راستے پر کھمبوں کی طرح کھڑے کرنا قطعی طور پر غیر مناسب ہے۔ اگر اس طرح پولیس فورس کو استعمال کرنا ہے تو پھر تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے دعوے اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔ پولیس کے تبادلوں اور تفتیش کو سیاسی عنصر سے بچا کر ہی پولیس کی عزت و احترام کو بچایا جاسکتا ہے، جب تک پولیس تبادلوں اور تفتیش میں سیاسی مداخلت جاری رہے گی،کرپشن کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

تمام پاکستانی خصوصاً پنجاب کے شہری یہ سوچنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر آئی جی جو کہ صوبے میں پولیس کا سربراہ ہے، ایمانداری اورفرض شناسی سے اپنے اختیارات استعمال کرے، کسی بھی ریجن یا ڈویژن کے آفیسر کو غلط سفارشی ٹیلیفون نہ کرے، خط نہ لکھے تو پھر پولیس ملازمین صحیح ایکشن میںآنے کی امید ہے، کسی بھی ضلع میں کسی بھی تھانے میں سفارش سے ایس ایچ او نہ لگایا جائے۔ سفارش سے تعیناتی مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔عوام کی یہ بات بہت حد تک صحیح ہے کہ اگر آر پی او، ڈی پی او فرض شناس ہوں، رشوت خور نہ ہوں، عیاش نہ ہوں،ایس ایچ او سے ماہانہ وصول نہ کریں، ان سے غلط ڈیمانڈ نہ کریں تو پھر بہت حد تک ایس ایچ او کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ سابقہ ادوار سے پولیس کو دو حصوں آپریشن اور تفتیش میں تقسیم کر نے سے رشوت کے ریٹ دوگنا ہوگئے ہیں۔ اس سسٹم کو ختم کر کے ایس ایچ او کو تمام ذمہ داری دے کر اس سے جواب لیا جائے۔ پولیس کے محکمے سے سیاسی مداخلت کاخاتمہ بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہو سکتا، سیاسی نعرہ ہی ہو سکتا ہے۔ پٹواری کی بھی بہت مشہوری ہوگئی ہے۔ تھانے کے محرر کا لکھاہوا آئی جی تک سچ سمجھا جاتاہے۔

پٹواری کا لکھا ہوا سب سے بڑا ادارہ بورڈ آف ریونیو تک اوکے ہوتا ہے۔ پٹواری تعلیم کے لحاظ سے پیدل ہی سمجھ لیں، جس طرح اس کے اختیارات ہیں۔ میٹرک، ایف اے معمولی بات ہے۔ پٹواری بہت ہی شان و شوکت اور رعب والی نوکری ہے، بہت کم لوگوں کا دھیان اس طرف جاتا ہے۔ جس طرح تقریباً تمام ایس ایچ اوز نے ضمنیاں (مقدمے کی فائلیں) لکھوانے کے لئے پرانے اور ریٹائرڈ پولیس ملازمین رکھے ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح تقریباً ہر پٹواری نے اپنے اپنے پٹوار خانے میں دو، دو، تین ، تین پرائیویٹ آدمی فردیں نکلوانے کے لئے رکھے ہوتے ہیں۔ اگر پٹواری صحیح علاقے (حلقے) میں تگڑی سفارش سے لگا ہوتو یہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہوتا، یہ پٹواری سسٹم بہت پرانا ہے۔ اس کو ٹھیک کرنے کے لئے بھی سفارش سیاسی مداخلت کوختم کرنا ہوگی۔ ساری زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائز کر کے زمینوں کا نظام ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ کیا پی آئی اے کا نظام کمپیوٹرائزڈ نہیں ہے؟ یہ ادارہ بالکل فیل ہو چکا ہے۔ پاسپورٹ کا نظام کمپیوٹر سے منسلک نہیں ہے ؟جب صرف ایک تار خراب ہو جائے، ایک بھی سٹیشن یا شہر کی بجلی چلی جائے، تمام نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، پٹواری بے شک زیادہ پڑھا لکھا طبقہ نہیں ہے، لیکن معاشرہ میں با عزت مقام رکھتا ہے، کسی بھی ضلع میں اس محکمہ مال کے آفیسر کے دورے کے تمام اخراجات پٹواری ہی برداشت کرتا ہے۔ پٹواری بھی اچھے حلقے میں بہت بڑی بڑی سفارشوں سے لگتے ہیں۔ ممبر بورڈ آف ریونیو بہت ہی بڑا ادارہ ہے۔ ان کے ممبران بھی بہت بڑے بڑے بیورو کریٹ ہوتے ہیں۔ یہ زمینوں کے بڑے پرانے اور بڑے کیس عدالتوں میں سماعت کرتے ہیں ۔تمام رپورٹس پٹواری اور تحصیلدار کی سچی ہوتی ہیں۔ (جاری ہے)    ٭

مزید : کالم


loading...