بجٹ، حکومت اور اپوزیشن رویوں کا میزانیہ

بجٹ، حکومت اور اپوزیشن رویوں کا میزانیہ

  



مسلم لیگ (ن) کی حکومت ابھی اڑنے بھی نہیں پائی تھی کہ بجٹ کی آزمائش میں گرفتار ہوگئی۔ اسحاق ڈار نے بجٹ 2013-14ءکو اندریں حالات میں چاند بتایا، جبکہ اپوزیشن نے اسے مسلم لیگ (ن) کا چہرہ بتایا۔ اصل مالی و معاشی حالات کا جنہیں علم ہے، وہ جانبین کی باتیں سُن کر ہنس دئیے اور چُپ رہے کہ انہیں ”دونوں کا پردہ“ مقصود تھا۔ بجٹ 2013-14ءمسلم لیگ (ن) کے لئے آزمائش بنا اور اپوزیشن کے چہرے کو بھی بے نقاب کر گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی یہ مجبوری قابلِ فہم تھی کہ اسے بجٹ کی تیاری کے لئے بالکل وقت نہیں ملا۔ بجٹ دستاویزات پہلے سے تیار تھیں۔ رواں مالی سال کے نظرِ ثانی تخمینے سے کم دستیاب وسائل نے بجٹ میزانیہ میں خاطر خواہ تبدیلیوں کا امکان مزید مدھم کر دیا، لیکن اس کے باوجود بجٹ کے مجموعی اقدامات مسلم لیگ (ن) کی ترجیحات کا پتہ ضرور دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان اقدامات کی نوعیت سے ہی یہ اندازہ ہوگیا کہ حالات میں انقلابی تبدیلی کے لئے مسلم لیگ (ن) کے عالی دماغوں کے پاس عامیانہ روش سے ہٹ کر کچھ نکات ہیں یا وہی گھسے پٹے اور آزمودہ نسخے ہیں، جن سے مرض بڑھتا ہے، جوں جوں اس کی دوا ہوتی ہے۔

مجموعی تاثر یہی اُبھرتا ہے کہ تازہ اور انقلابی خیالات کی کمیابی نمایاں ہوئی ہے۔ خزانے کی تنگ دامنی اپنی جگہ، لیکن کچھ ایسے بجٹ اقدامات سے بچا جا سکتا تھا، جن سے مالی منفعت تو معمولی تھی، مگر ہاہا کار غیر معمولی ہوئی، مثلاً سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ، حاجیوں پر ٹیکس میں اضافہ، سالانہ دو لاکھ سے زائد تعلیمی فیس پر ٹیکس وغیرہ۔ اس گناہِ بے لذت پر میڈیا اور عوام میں احتجاج اور بھداڑنے کے بعد حکومت نے اب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا فیصلہ کرلیا ہے، لیکن اس قسم کے لایعنی اقدامات کی تجویز کو شروع ہی میں رد کر کے غیر ضروری طعنہ زنی اور الزام تراشی سے نئی نویلی حکومت کی ساکھ کو بچایا جاسکتا تھا۔ اسی طرح کچھ ایسے گِھسے پٹے اقدامات تجویز کئے گئے، جن کا انجام بار بار دیکھا جا چکا ہے۔ وسائل بڑھانے کے لئے بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار، نگران حکومت نے جاتے جاتے جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافہ کیا۔ ابھی اس اقدام کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بجٹ میں مزید ایک فی صد اضافے کی تجویز پیش کر دی گئی۔

جی ایس ٹی کا معیشت میں وسیع البنیاد اثر ہے۔ ایک یا دو فیصد کے اضافے سے جہاں مہنگائی کا خدشہ ہے، دوسری طرف اس سے کاروباری شعبے میں کاروباری لاگت اور مالی بوجھ بڑھنے کا بھی اندیشہ ہے۔ اگلے دو سال میں پانچ لاکھ نئے ٹیکس گزار ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کی نوید تو ہے، مگر کیسے؟ اس کی تفصیل ندارد تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ جو افراد اور کاروباری ادارے ٹیکس نیٹ میں ہیں، ان پر مزید بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ آمدن ٹیکس کے دو نئے سلیب بنا دئیے گئے ہیں اور ٹیکس کی انتہائی شرح میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح درآمد کی سطح اور ادائیگی کے وقت ٹیکس کٹوتی کی شرح میں کئی صورتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اور دیگر کئی ایسے اقدامات ہیں، جن سے مالی وسائل میں طویل المدتی اضافہ تو کبھی نہیں ہوا، البتہ ٹیکس نیٹ سے گریز کا رجحان اورکرپشن کا فروغ ضرور رواج پاتا ہے۔ نئی حکومت کو غیر روایتی اقدامات اور معیشت کو دور رس سٹرٹےجک راہ کی نشان دہی کر کے اپنی معاشی ترجیحات اور طرزِ نظامت کا اظہار کرنا چاہئے تھا، مگر بدقسمتی سے یہ توقع خام ثابت ہوئی۔ معیشت میں بڑھوتری کے لئے سرمایہ کاری میں اضافہ، کاروباری لاگت میں کمی، امن و امان اور معاشی اصلاحات کے پروگرام کا واضح خاکہ ضروری تھا، لیکن بجٹ اصلاً اعداد و شمار کا میزانیہ ثابت ہوا، روایتی اور عامیانہ۔

بجٹ نے حکومت کو یقیناً آزمائش سے دوچار کیا، لیکن لگے ہاتھوں اپوزیشن کے چہرے سے بھی ہلکا سا نقاب سرکا دیا۔ پی پی پی کے پانچ سالہ دورِ حکومت کے بجٹ اقدامات سے عام آدمی پر جن فیوض و برکات اور ریلیف کی بارش ہوئی، وہ سب پر واضح ہے، مگر آفرین ہے خورشید شاہ پر جنہوں نے خم ٹھونک کر کہا کہ اس بجٹ نے عام آدمی کو بالکل ریلیف نہیں دیا، بلکہ یہ بجٹ تو سراسر عوام دشمن ہے۔ ایم کیو ایم کو بھی بجٹ میں عوام دشمنی کے سوا کچھ نظر نہیں آیا، بلکہ پی ٹی آئی کو عوام دشمنی اور مایوسی کا بجٹ میں اس قدر سیلابِ بلا نظرآیا کہ انہوں نے ملک بھر میں بجٹ مخالف مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹی وی میڈیا انتخابات کے بعد کسی نئی وحشت کی تلاش میں تھا، جس کی بنیاد پر سنسنی خیزی اور جنگی جنون ایسی کیفیت برپا رہ سکے، تاکہ ”ریٹنگ“ کی دکان چلتی رہے۔ بجٹ کی شکل میں انہیں غیبی امداد مل گئی.... عوام پر تلوار، مہنگائی کا بم.... ظلم کی آندھی.... اور نہ جانے کیا کیا؟

ملکی معیشت کا ازلی مسئلہ یہی ہے کہ وسائل میں اضافے کی خواہش حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ہے، لیکن اس کے لئے ٹیکس نیٹ بڑھانے، براہ راست ٹیکسوں میں اضافے جیسے اقدامات کے ردِعمل سے خوف زدہ ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کو مجبوری یا ناک کا مسئلہ ضرور بناتے ہیں، لیکن ٹھوس حل سامنے لانے سے پہلو تہی ہے۔ لے دے کر ایک ہی تان ہے کہ کرپشن ختم کر کے صدہا ارب روپے حاصل کر لئے جائیں....”نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی“.... دوسری مانوس تان یہ ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرے۔ انتخابات کے پاپڑ بیلنے کے بعد کوئی بھی صوبائی یا وفاقی حکومت ایسی سادگی کی ”متحمل“ ہو سکتی ہے، نہ ہی اسے عادت ہے۔ سو یہ دونوں راگنیاں ہمیشہ کی طرح سننے میں اچھی ،لیکن عمل میں ناکارہ ہیں۔ اس بجٹ کی صورت میں ہمیں حکومت اور اپوزیشن کی جو جھلک دکھائی دی ہے، اس میں ماضی کی سی لا حاصل تکرار اور روایت کی پھٹکار نمایاں ہے۔ دونوں ہی بے معنی، لیکن امید کی جانی چاہئے کہ حکومت اور اپوزیشن وقت کی نزاکت کا ادراک کریں اور اپنی اپنی جگہ مثبت اقدامات پر کمر بستہ ہوں۔     ٭

مزید : کالم


loading...