دہشت گردی پنجہ آزمائی چاہتی ہے!

دہشت گردی پنجہ آزمائی چاہتی ہے!
دہشت گردی پنجہ آزمائی چاہتی ہے!

  



یہ رونا دھونا بے معنی ہے۔ دشمن تلاش نہیں ہوتا تو کم از کم چوکیداری کو ہی بہتر کرلیں۔ کوئٹہ اور زیارت میں جو کچھ ہوا ، اس کی تشہیر تو ہو چکی۔ کوئٹہ میں طالبات کی بس میں دھماکے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی نے قبول بھی کر لی ہے۔ بے ضرر اور معصوم طالبات نے کسی کا کیا بگاڑا تھا کہ ان کی زندگی کے چراغ ہی گل کر دئیے گئے۔ دہشت گردوںنے جو کیا، انہیں وہی کچھ کرنا چاہئے تھا۔ ان کی خدمات ہمارے دشمنوں نے اسی کام کے لئے حاصل کی ہیں، لیکن ہمارے اپنے جو کچھ کر رہے ہیں، اس پر تشویش ناک افسوس ہوتا ہے۔ کوئٹہ میں جہاں دھماکے ہونا اور بموں کاپھٹنا معمول بن گیا ہے، سیکیورٹی سے صرف نگاہ کیوں کی جارہی ہے؟کوئٹہ میں جو لوگ بھی عام لوگوں کی حفاظتی ذمہ داریوں پر مامور ہیں ، اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں بری طرح ناکام کیوں ثابت ہو رہے ہیں؟ بولان میڈیکل کمپلیکس پر سیکیورٹی کیوں موجود نہیں تھی کہ دہشت گرد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے؟ طالبات کی بس کی نگرانی کیوں نہیں کی گئی کہ اس میں دھماکہ خیز مادہ اتنی آسانی سے رکھ دیا گیا اور طالبات جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں، جو بچیں وہ طویل عرصے تک خوف میں مبتلا رہیں گی۔

بولان کمپلیکس پر مطلوبہ سیکیورٹی کیوں موجودنہیں تھی؟دہشت گردکس طرح اندرداخل ہو گئے؟لیکن یہاں کیا کیا جائے ۔ عدالت میں جج صاحب کی موجودگی میں مسلح افراد داخل ہو کر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ ہے ہماری سیکیورٹی کا نظام ۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اہم مقامات کی سیکیورٹی غیر اہم قسم کے لوگوں کے سپرد کی ہوئی ہے۔ کوئی افسر انہیں چیک نہیں کرتا۔ مَیں نے کئی شہروں میں ڈیوٹی پر موجود پولیس والوں ، جیل کے اہل کاروں اور بعض ا ہم مقامات پر بندوق تھامے کھڑے سپاہیوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے موبائل فون سے کھیل رہے ہوتے ہیں اور اس میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ انہیں پاس کھڑے ہوئے شخص کی موجودگی کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ اگر کسی افسر کو شک ہے تو بھیس بدل کر میرے ساتھ چلے، مَیں اسے ایسے مناظر سے لطف اندوز کراتا ہوں ۔ جو کچھ ہورہا ہے، اس کے نتائج کئی لحاظ سے بھیانک نکلیں گے۔ صدر مملکت، وزیر اعظم ، وزرائ، وزرائے اعلیٰ ، اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو ہوش نہیں ہے کہ اس ملک میں کس بڑے پیمانے پر لوگ نفسیاتی ، ذہنی اور جسمانی مریض بنتے جارہے ہیں ۔ کیا انہیں اس وقت احساس ہوگا، جب ایسے لوگوں کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوجائے گا کہ ہسپتالوں میں بستر نہیں ہوں گے اور نفسیاتی علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی تو اس ملک میں ویسے ہی قلت ہے۔

دہشت گردی کی وجہ سے مریضوں کی تعداد میں جس طرح کوئٹہ، پشاور اور کراچی میں اضافہ ہو رہا ہے، مَیں حیران ہوتا ہوں کہ اس کا اندازہ ہمارے کرتا دھرتا لوگوں کو کیوں نہیں ہو پا رہا ؟ بولان میڈیکل کمپلیکس پر حملے کے وقت لگ رہا تھا جیسے دہشت گردوں کی پوری کمپنی مصروف جنگ ہے، لیکن بعد کی اطلاعات ہیں کہ صرف دو افراد تھے۔ ایک نے تو کمال ہی کردیا کہ اس نے سب ہی کو پانچ گھنٹے تک مصروف رکھا۔ کیا دہشت گردوں کی یہ چابک دستی اور پھرتیلا پن یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی نہیں ہے کہ ان کی تربیت تجربہ کاروں کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ وہ تو درست ہے، لیکن انگلیاں اٹھتی ہیں اپنی طرف اور اپنے کرتوتوں کی طرف۔ ہم کیوں ناکام رہے کہ اپنے شہروں، اپنی عمارتوں اور اپنے بچوں کی حفاظت نہیں کر سکے؟ اس کی ذمہ داری کس پر عائد کریں، کس کے سامنے گریہ وزاری کریں؟

کیا ہم ایک کے بعد دوسرے تجربے سے دوچار ہوتے رہیں گے۔ کراچی میں مہران بیس، کامرہ بیس، جی ایچ کیو، ریلوں پر حملے، عام علاقوں میں حملے! ہم ہیں کہ بس رونا دھونا کرتے ہیں ، پھر دوسرا دن اسی طمطراق سے شروع کردیتے ہیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ ہماری حکومتیں ہیں کہ نہ لوگوں کی تربیت کرتی ہیں اور نہ انہیں ذہنی طور پر تیار کرتی ہیں کہ انہیں دہشت گردی کی صورت حال میں کیا کرنا ہوگا؟ پھر کہاں ہیں سیکیورٹی فراہم کرنے والے ادارے اور ان کے افسران؟ کیا ان افسران کی ذمہ داری صرف ائر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھنے کی ہے۔ انہیں سمجھ نہیں آتی کہ ہم حالت جنگ میں ہیں؟کیا ان میں سے کوئی بھی فیلڈ مارشل منٹگمری نہیں ہے جو اپنی فوجوں کو یہ کہے کہ واپسی ممکن نہیں ہے۔ مرنا اور جینا اب ایک ساتھ ہے۔جنرل منٹگمری کے ان ہی الفاظ نے دوسری جنگ عظیم میں دنیا کے معروف جرمن جنرل رومیل کو شکست سے دو چار کر دیا تھا۔ جنرل رومیل کی شکست نے ہی جنرل منٹگمری کو فیلڈ مارشل بنوایا تھا۔ اس سے بہت قبل طارق بن زیاد بھی ایسا ہی کر چکے تھے۔ انہوں نے تو کشتیاں ہی جلوادی تھیں تاکہ واپسی کا کوئی سلسلہ ہی نہ رہے.... مگر ہمارے افسران تو ایسے ہیں جو صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔

شک دور کرنے کے لئے مشرقی پاکستان پر لکھی ہوئی کتابیں پڑھ لیں۔ بعض افسران کی ”بہادری“ کی داستانیں رقم ہیں۔ کراچی ہو یا کوئٹہ، پشاور ہو یا کوئی اور جگہ، حکومت کو چاہئے کہ افسران سے رضامندی حاصل کرے کہ وہ مرنے یا مارنے کو تیار ہیں تو ملازمت کریں یا پھر گھر جاکر آرام کریں، کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے، جس میں ہمیں کامیابی حاصل کرکے زندہ رہنا ہوگا یا پھر موت سے ہمکنارہونا ہوگا۔ سڑک حادثات میں بھی تو لوگ مرتے ہیں۔ بظاہر موت سے چمٹنا مشکل ہوتا ہے، لیکن موت تو ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار کسی طور ممکن نہیں ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں افسران کوئٹہ میں موجود ہیں، کوئی بھی ایسا نہیں جو کوئٹہ کو محفوظ بنانے کے لئے عملی اقدامات کر سکتا ہو۔ یہ کسی طرح بھی مشکل نہیں ہے۔ جو مشکل نہیں ہوتا، وہ ناممکن بھی نہیں ہوتا ۔ کوئٹہ کوہر ہر طرف سے سیل کرنا ہوگا۔ یہ ذمہ داری چھوٹے درجے کے ملازمین سے ادا نہیں ہو سکتی۔ اس ذمہ داری کے لئے بڑے عہدیداروں کو ہی سڑک پر کھڑا ہونا ہوگا۔ اگر پولیس نے کرنا ہے تو ایس ایس پی کے عہدے کا افسر کرے یا پھر فوج ہے تو میجر کے عہدے کا افسر کرے۔ وہ بذات خود کوئٹہ اور کراچی یا پشاور میں داخل ہونے اور جانے کے تمام راستوں پر ڈیوٹی ادا کریں۔ کوئی گاڑی اور کوئی شخص کسی قیمت پر شناخت کے بغیر داخل نہ ہو سکے اور نہ جا سکے۔ ایسا کریں ،پھر دیکھیں کہ دہشت گرد کس طرح اسلحہ لے کر بولان میڈیکل کمپلیکس میں داخل ہوتے ہیں؟ اتنی بڑی تعداد میں گولہ بارود، ہتھیار کندھے پر رکھے ہوئے بیگ میں تونہیں آسکتے ہیں۔ سڑک کا راستہ ہی اختیار کیا جاتا ہے۔ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جب سڑک کا راستہ ہی کسی ذمہ دار چوکیدار کے بغیر ہوگا تو پھر دہشت گرد تو داخل ہو ں گے۔

عام لوگوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی دہشت گردوں کی کسی نہ کسی طرح پشت پناہی کر رہے ہیں۔ ڈھیلا ڈھالا حفاظتی نظام سوائے خوش فہمی کے کچھ اور نہیں۔ اگروفاقی یا صوبائی حکومتیں عام لوگوں کا تحفظ نہیں کر سکتیں تو پھر گورنر ہا ﺅس ، وزیر اعلیٰ ہاﺅس سے سیکیورٹی ہٹائی جائے، وزراءسے سیکیورٹی واپس لی جائے۔ کسی افسر کو بھی سیکیورٹی فراہم نہ کی جائے۔اس بات میں کیا جواز ہے کہ جو عوام کے ٹیکسوں پر پلیں، انہیں تو بھر پور سیکیورٹی ملے اور جو ٹیکس ادا کریں، وہ تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے رہیں۔ یہ کیسا طرزحکمرانی ہے؟ وزیر داخلہ کوئٹہ پہنچے، یہ ایک باعث تحسین قدم ہے، لیکن انہیں کوئٹہ میں ہی قیام کرنا چاہئے۔ جب تک وہ کوئٹہ کی حفاظت کا پوری طرح انتظام نہیں کر لیتے، انہیں خود کوئٹہ میں بیٹھنا چاہئے ۔ بیانات سے کام نہیں چلے گا، بیا بان میں گھومنا ہوگا، تب ہی دہشت گردوں اور ملک دشمنوں سے پنجہ آزمائی ہو سکے گی۔     ٭

مزید : کالم


loading...