جارحیت کے مقابلے میں پاک فوج کا عزم صمیم

جارحیت کے مقابلے میں پاک فوج کا عزم صمیم

  



چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کے تعاون سے ملک کے خلاف کسی بھی فوجی جارحیت کو ناکام بنانے کے لئے ہر اعتبار سے تیار ہے۔مسلح افراد کی پیشہ ورانہ تربیت اطمینان بخش ہے،تاہم پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں اور عوام کا تعاون بھی مسلح افواج کی کامیابی کے لئے انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ”عزم نو“مشقیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے انتہائی اہم ہیں، وہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ”عزم نو4“ مشقوں کی اختتامی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

قیام پاکستان کے ساتھ ہی نوزائیدہ مملکت کو دوسرے ان گنت مسائل کے ساتھ سیکیورٹی کے خدشات بھی درپیش ہوگئے تھے، بھارت کے ساتھ کشمیر میں جنگ ہوگئی اور بھارتی وزیراعظم نہرو اس مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گئے،جہاں انہوں نے کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور کشمیر میں بھارتی پوزیشن بہتر ہونے کی وجہ سے وہ اپنے اس وعدے سے مُکر گئے، اور آج تک استصواب رائے کی نوبت نہیں آئی، بعد میں بھارت کے ساتھ 65اور71ءمیں دو بھرپور جنگیں ہوئیں اور 99ءمیں دونوں ملکوں میں کارگل کا معرکہ بھی برپا ہوا، یہ جنگیں اور لڑائیاں تو ایک ایسے دشمن کے ساتھ ہورہی تھیں جو سامنے تھا، لیکن امریکہ میں نائن الیون کے بعد پاکستان دہشت گردی کے خلاف جو جنگ لڑرہا ہے وہ ایک بے چہرہ دشمن کے ساتھ ہورہی ہے۔اس جنگ کا کوئی مخصوص میدان اور متعین محاذ نہیں، دشمن جہاں کہیں کامیابی کے آثار دیکھتا ہے، وہیں کارروائی کر دیتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج کی ساری تربیت بھارت کے ساتھ جنگ کے حوالے سے تھی،دہشت گردی کی اس نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لئے شروع شروع میں ہمارے سیکیورٹی ادارے تیار نہیں تھے، نتیجے کے طور پر ہمارے افسروں اور جوانوں کو جانی قربانیاں دینا پڑیں، لیکن اب ہماری مسلح افواج نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی بھرپور تیار کرلی ہے۔بہت سے مواقع پر دہشت گردی کے منظم حملوں کا بھرپور مقابلہ کرکے انہیں ناکام بنایا گیا ہے۔کامرہ ایروناٹیکل کمپلیکس میں حملے کو ناکام بنا کر دہشت گردوں کے پورے جتھے کا صفایا کردیا گیا تھا، اس سے پہلے سوات میں دہشت گردوں کوشکست دے کر وادی میں امن بحال کردیا گیا تھا اور اب سوات کی خوبصورت وادی میں زندگی معمول کے مطابق ہے اور سیاح بھی آتے جاتے رہتے ہیں۔

پاکستان کی مسلح افواج قیام پاکستان کے بعدسے ہی آزمائشوں سے گزرتی رہی ہیں اور ملک و قوم کے دفاع میں قربانیوں کی سنہری روایات قائم کرتی رہی ہیں۔ہماری فوج دنیا کی ان چند افواج میں شامل ہے، جن کا پیشہ ورانہ معیار بہت اعلیٰ ہے اور اس معیار کو قائم رکھنے کے لئے وقتاً فوقتاً جنگی مشقیں اور وارگیمز ہوتی رہتی ہیں، اسی پیشہ ورانہ معیار اور قابلیت کا ہی نتیجہ ہے کہ آزمائش کی گھڑی میں ہماری مسلح افواج ہمیشہ کامران و کامیاب ٹھہری ہیں۔

پاکستان کی فوج شروع شروع میں ہتھیاروں کی کمی جیسے مسائل سے بھی دوچار رہی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب اس کے پاس جدید اسلحہ ہے۔پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے اور ایٹمی میزائل ٹیکنالوجی میں بھی اس کی مہارت مسلمہ ہے۔ایٹمی میزائلوں کی سیریز کی وجہ سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہوگیا ہے اور دشمن اس کے خلاف جارحیت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ایٹمی ڈیٹرنٹ نے خطے کو کسی بڑی جنگ سے محفوظ رکھا ہوا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے اندر جو دہشت گردی ہورہی ہے۔اس کی وجہ سے نہ صرف ہماری قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں، بلکہ معیشت کو بھی بھاری نقصان ہورہا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کو 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔41ہزار کے لگ بھگ پاکستانی شہری دہشت گردوں کی دہکائی ہوئی اس بھٹی کا ایندھن بن چکے ہیں ان حالات میں ہمیں خطرہ کسی بیرونی دشمن سے نہیں ،اندرونی دشمن سے ہے۔اس لئے ہمیں اپنی ساری توجہ دہشت گردی کے خاتمے کی طرف مرکوز رکھنی چاہیے۔

بنیادی طور پر یہ جنگ امریکہ نے شروع کی تھی، جب اس نے افغانستان پر فضائی حملہ کرکے طالبان کی حکومت ختم کی اور کابل کے تخت پر حامد کرزئی کو لا بٹھایا۔ تھوڑے عرصے تک طالبان کی قوت تتر بتر رہی، پھر انہوں نے امریکی اور افغان فورسز کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو اس کے ملبے کے ٹکڑے پاکستان پر بھی گرنے لگے، جن کا دائرہ بالآخر وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا،جب امریکہ نے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے شروع کئے تو ان حملوں میں بے گناہ بھی نشانہ بننے لگے، ردعمل سے امریکہ تو محفوظ رہا کہ اس کے جہاز حملہ کرکے واپس چلے جاتے اور امریکی فوجی بھی یہاں نہیں تھے،جن کے خلاف کارروائیاں کی جاتیں،نتیجے کے طور پر ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والوں کے ورثاءنے اپنا سارا غصہ پاکستان پر نکالا، خودکش حملے منظم کئے گئے اور پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے اہل کاروں سمیت پاکستانیوں کو نشانہ بنایا جانے لگا، یوں دہشت گردی کے خلاف اس ساری جنگ کا دائرہ پھیل کر پورے پاکستان کو محیط ہوگیا۔امریکہ میں دہشت گردی کا ایک ہی واقعہ ہوا۔ اس کے بعد اس نے اپنے آپ کو محفوظ کرلیا۔دنیا میں امریکہ کے سارے اتحادی بھی مختصر مدت کے لئے دہشت گردی کے حملوں کا نشانہ بنے بعد میں انہوں نے بھی ایسے انتظامات کرلئے کہ دہشت گردوں کو ان کے خلاف کارروائی میں کامیابی نہ ہوئی، پاکستان اس لحاظ سے واحد ملک ہے جو آج تک دہشت گردوں کا آسان ہدف چلا آ رہا ہے۔دہشت گردی ختم کرنے میں ہمیں کماحقہ ءکامیابی نہیں ہوئی۔پاکستان کے خلاف بیرونی جارحیت کا خطرہ اگرچہ کم ہو چکا ہے۔تاہم دہشت گردی کی اس جنگ کی وجہ سے ہمیں باقاعدہ جنگوں سے بھی زیادہ مالی اور جانی نقصان ہوچکا ہے۔اس لئے ہماری مسلح افواج کو اپنے ارکان کی تربیت کے اس پہلو سے بھی توجہ دینی چاہیے۔یہ جنگ اس لحاظ سے بھی مشکل جنگ ہے کہ اس میں دشمن سامنے نہیں ہوتا اور چھپ کر وار کرتا ہے۔روایتی جنگوں میں ایسا نہیں ہوتا، دہشت گردی کی اس جنگ کا مقابلہ مسلح افواج اور قوم کو مل کر کرنا ہے۔دہشت گرد ہمارے ملک کے اندر ہی موجود ہیں۔یہیں وہ اپنی تیاریاں کرتے اور اپنے خودکش بمباروں کو تربیت دیتے ہیں، اگر پوری قوم ہوشمندی سے ایسے لوگوں پر نظر رکھے تو دہشت گردوں کو قابو کرنا مشکل نہیں، حال ہی میں امریکی ریاست بوسٹن میں دہشت گردی کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس میں ایک دہشت گردسمندر میں ایک کشتی میں جا چھپا تھا لیکن چنددن میں اسے ڈھونڈھ نکالا گیا۔ایسا اس لئے ممکن ہوا کہ اس دہشت گرد کو کسی جگہ محفوظ پناہ گاہ نہ مل سکی، ہم بھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرسکتے ہیں۔بشرطیکہ ان پر کڑی نظر رکھی جائے، اس کے بعد ہی ہمارے سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

٭

مزید : اداریہ


loading...