تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ دو کنال اور بڑے گھروں پر لگثری ٹیکس عائد

تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ دو کنال اور بڑے گھروں پر لگثری ٹیکس عائد

  



                لاہور (رپورٹنگ ٹیم ) پنجاب حکومت نے مالی سال 2013-14 کے لئے 897 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے،آئندہ بجٹ کیلئے مزدور کی کم از کم اجرت دس ہزار روپے ماہانہ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، بجٹ میں 2 کنال اور اس سے زائد رقبے کے گھروں پر لگڑری ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2سے 4کنال والے بنگلے پر 5لاکھ ، 4 سے 8 کنال پر 10لاکھ اور8کنال سے بڑے بنگلے پر 15لاکھ ٹیکس تجویزکیاگیاہے،پنجاب میں تعلیم ، صحت اور عدلیہ کے سوا تمام سرکاری اداروں میں بھرتیوں اور سرکاری گاڑیوں پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے جبکہ وزیر اعلیٰ ہاﺅس کے اخراجات میں 30 فیصد کمی کر دی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کابجٹ اجلاس سوموار کی شام 5 بجکر 45 منٹ پر تقریباسوا گھنٹے کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال کی زیر صدارت شروع ہوا، بجٹ وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے پیش کیا۔ بجٹ تقریر میںانہوں نے کہا کہ بجلی بحران پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے 20 ارب 43 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کریں گے اور کوشش کریں گے کہ قوم کو اس سے نجات دلائیں، بحران کے خاتمے کیلئے گنے کے پھوک سے توانائی کے منصوبے شروع کئے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کا حصول اولین ترجیح ہے، 2014 ءتک پٹواری کلچر کا خاتمہ کر دیں گے،جبکہ ترکی اور متحدہ عرب امارات کے تعاون سے پولیس نظام کو ترقی دی جائیگی ، مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ بجٹ میں سماجی شعبہ جات کے لیے 90ارب 79 کروڑروپے ، انفرا اسٹرکچر کیلئے 90ارب 78کروڑروپے،پیدواری شعبہ جات کے لیے 11ارب 9کروڑ روپے تجویزکئے گئے ہین۔دوسری جانب ٹیکس کی مدمیں 126ارب سات کروڑ کا ہدف رکھا گیاہے،بجٹ میں 2 کنال اور اس سے زائد رقبے کے گھروں پر لگڑری ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2سے 4کنال والے بنگلے پر 5لاکھ ، 4 سے 8 کنال پر 10لاکھ اور8کنال سے بڑے بنگلے پر 15لاکھ ٹیکس تجویزکیاگیاہے۔مزید براں این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو702ارب 12کروڑ روپے تجویزکئے گئے ہیں۔صوبائی محصولات بشمول ٹیکس ونان ٹیکس ریونیو کی مد میں 169ارب روپے تجویزکئے گئے ہیں۔بجٹ میں امن و امان اور پولیس کے لیے 93ارب 71کروڑ روپے ،جنرل ایڈمنسٹریشن کیلئے 101ارب 6کروڑروپے ، تعلیم کے لیے 210 ارب روپے ،توانائی کے شعبے کے لیے 20ارب 43کروڑ روپے تجویز کئے گئے ہیں۔میٹروبس 3 بڑے شہروں پنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں شروع کی جارہی ہے۔محکمہ خوراک کیلئے 20 ارب روپے، کھیلوں کے فروغ کیلئے 2 ارب 20 کروڑ روپے، زراعت کیلئے 5 ارب روپے، سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 275 ارب روپے، تعلیم کی مد میں 33 ارب روپے، فروغ تعلیم کیلئے 2 ارب روپے، پولیس کیلئے 77 ارب روپے، صحت کیلئے 21 ارب روپے، سماجی شعبوں کیلئے 90 ارب روپے، 100 کمپیوٹر لیبز کیلئے ایک ارب 50 کروڑ روپے، دیہی خواتین کیلئے 50 کروڑ روپے، دانش سکولوں کی تعمیر کیلئے 3 ارب روپے، پنجاب میں مستحق طلباءکی امداد کیلئے 2 ارب روپے، درسی کتب کی مفت فراہمی کیلئے 3 ارب 30 کروڑ روپے، پنجاب ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کیلئے 7 ارب 50 کروڑ روپے، ہائی سکولز میں سائنس لیبارٹریز کیلئے 1 ارب پچاس کروڑ روپے، ہائر ایجوکیشن کیلئے 6 ارب 67 کروڑ روپے، چیف منسٹر اجالا سکیم کیلئے ایک ارب روپے، عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے 17 ارب روپے، ہنر مند افراد کی تربیت کیلئے 3 ارب روپے، بائیو گیس اور شمستی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں کیلئے ساڑھے سات ارب روپے، طلباءکیلئے سولر کیمپ سکیم میں ایک ارب روپے اور لیپ ٹاپ سکیم کیلئے 4 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کیلئے پیش کردہ 30ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے جس کا مجموعی حجم 897ارب 56کروڑ 93لاکھ 11ہزار روپے ہے جو رواں مالی سال کے نظر ثانی شدہ بجٹ کے مقابلہ میں25.25 فیصد ، 180ارب 94کروڑ 87لاکھ روپے زائد ہے ۔ آئندہ مالی سال کے لئے مجموعی وصولیوں کا تخمینہ 889ارب 61کروڑ45 لاکھ 76ہزار روپے اور مجموعی اخراجات کا تخمینہ 949ارب 31کروڑ 45لاکھ76 ہزار روپے لگایا گیا ہے بجٹ خسارہ بیرونی امداد سے پورا کیا جائے گا ۔ مجموعی وصولیوں میں ریونیو وصولیوں کا ہدف 871ارب 95کروڑ33 لاکھ 17ہزار روپے ، سرمایہ جاتی وصولیوں کا ہدف 17ارب 66کروڑ12 لاکھ 59ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ اخراجات میں اخراجات جاریہ کا تخمینہ607 ارب 56کروڑ 93لاکھ11 ہزار روپے ، سرمایہ جاتی اخراجات کا تخمینہ 51ارب 74کروڑ52لاکھ65 ہزار روپے لگایا گیا ہے ۔ آئندہ مالی سال کے لئے ترقیاتی اخراجات کی مد میں 290ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ ریونیو وصولیوں میں فیڈرل ٹیکس پول سے حصہ 702ارب 12کروڑ6 لاکھ46 ہزار روپے ، رائلٹی و گیس ڈیوٹی میں صوبائی حصہ 6ارب 60کروڑ62 لاکھ 42ہزار روپے ، وفاقی گرانٹ 7ارب 81کروڑ62 لاکھ44 ہزار روپے ، صوبائی ٹیکس وصولیوں کا تخمینہ 126ارب 70کروڑ27لاکھ99ہزار روپے اور نان ٹیکس وصولیوں کا تخمینہ 43ارب 12کروڑ98لاکھ 72ہزار روپے لگایا گیا ہے ۔ صوبائی ٹیکس وصولیوں میں براہ راست ٹیکس کا ہدف 37ارب 91کروڑ89 لاکھ 50ہزار روپے اور بلا واسطہ ٹیکس کا ہدف 88ارب 78کروڑ38 لاکھ 49ہزار روپے ہے ۔ سرمایہ جاتی وصولیوں میں قرضوں اور ایڈوانس ریکوری کا ہدف 38کروڑ 53لاکھ 25ہزار روپے اور قرضوں پر آمدنی کا تخمینہ 17ارب 27کروڑ 59لاکھ34ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ سٹیٹ ٹریڈنگ فنانسنگ پر آمدنی کا تخمینہ 140ارب 63کروڑ91 لاکھ 25ہزار روپے لگایا گیا ہے ۔ ۔ جاریہ اخراجات میں جنر ل پبلک سروس کے اخراجات کا ہدف345 ارب 32کروڑ 74لاکھ34ہزار روپے ، امن و امان کے لئے 93ارب 71کروڑ 88لاکھ 58زار روپے ، معاشی امور کے لئے75 ارب 65کروڑ 29لاکھ 40ہزار روپے ، ماحولیاتی تحفظ کے لئے 11کروڑ67 لاکھ 30ہزار روپے ، ہاﺅسنگ اینڈ کمیونٹی امور کے لئے 4ارب 27 لاکھ 89ہزار روپے ، صحت کے لئے44 ارب 62کروڑ96 لاکھ 27ہزار روپے ، ثقافت اور مذہبی امور کے لئے 1ارب 33کروڑ47 لاکھ 79ہزار روپے ، تعلیمی امور اور سروسز کے لئے 40ارب 59کروڑ 65لاکھ 39ہزار روپے اور سماجی امور کے لئے2 ارب18کروڑ 96لاکھ 15زار روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ سرمایہ جاتی اخراجات کے اہداف میں بیرونی و اندرونی قرضوں کے اصل زر اور سود کی ادائیگی کے لئے 21ارب 45کروڑ 72لاکھ روپے ، قرضوں اور ایڈوانسز کے لئے22 ارب 10کروڑ74 لاکھ43ہزار روپے ، میڈیکل سٹورز سٹیٹ ٹریڈنگ کے لئے 3کروڑ25 لاکھ 75ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پنجاب بجٹ

مزید : صفحہ اول