بڑے گھروں پر لگثری ٹیکس کسی بھی متعلقہ محکمہ کی مشاورت کے بغیر لگایا گیا

بڑے گھروں پر لگثری ٹیکس کسی بھی متعلقہ محکمہ کی مشاورت کے بغیر لگایا گیا

  



            لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) پنجاب حکومت کی طرف سے صوبے میں 2کنال یا اس سے بڑے گھروں پر کسی بھی متعلقہ سرکاری محکمے کو اعتماد میں لیے بغیر ٹیکس عائد کیا گیا۔ٹیکس کی تجویز راتوں رات تیار کی گئی ۔جبکہ لگژری ٹیکس کی وصولی ۔پراپرٹی ٹیکس کی موجودگی میں ناممکن ہوگی۔قانون کے مطابق ڈبل ٹیکسیشن کی اجازت نہیں ہے۔ قبل ازیں پنجاب حکومت فارم ھاﺅس ٹیکس کی وصولی کے حوالے سے بھی ایسی مشکل کا شکار رہ چکی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ پنجاب حکومت نے صوبے میں دو کنال یا اس سے بڑے گھروں پر لگژری ٹیکس کے نام سے نیا ٹیکس عائد کردیا ہے۔ جس کے تحت دو سے چار کنال تک کے گھروں پر سالانہ 5لاکھ روپے ، چار سے آٹھ کنال کے گھروں پر سالانہ 10لاکھ روپے اورآٹھ کنال سے بڑے گھروں پر سالانہ 15لاکھ روپے لگژری ٹیکس عائد کیا گیا۔ لیکن حکومت نے تاحال اس ٹیکس کی وصولی کا اختیار کسی محکمے تو نہیں دیا۔ اور نہ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ گھروں کے تعمیراتی رقبے کو مد نظر رکھا جائیگا۔ یا پھر مجموعی رقبے کے تحت نیاٹیکس وصول کیا جائیگا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 16جون تک مذکورہ ٹیکس کی تجویز زیر غور نہیں تھی۔ اور ٹیکس کی تجویز راتوں رات تیار کی گئی۔لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹنگ ایریاز میںشامل صوبے میں تمام چھوٹے بڑے گھر پہلے ہی پراپرٹی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ایسے میں ان سے لگثرری ٹیکس کی مد میں دوہرے ٹیکس کی وصولی قانوناً مشکل ہوگی اور اس سے قبل پنجاب حکومت مالی سال 2011-12ءمیں صوبے کے فارم ھاﺅسوں پر فارم ہاﺅس ٹیکس عائد کرکے ایسی مشکل سے دوچار رہ چکی ہے۔ عدالت عالیہ نے پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے والے فارم ھاﺅسوں سے فارم ہاﺅس ٹیکس لینے سے حکومت کو روک دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پراپرٹی ٹیکس کی موجودگی میں بڑے گھروں سے لگژری ٹیکس کی وصولی ڈبل ٹیکسیشن کے زمرے میں آئیگی۔

مزید : صفحہ اول


loading...