پوش علاقوں میں پانچ مرلے کے مکانوں پر ٹیکس

پوش علاقوں میں پانچ مرلے کے مکانوں پر ٹیکس

  



            لاہور (صبغت اللہ چودھری) اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو غیر منقولہ جائیدادوںپر کیپیٹل گین ٹیکس جمع کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے جس کے تحت پنجاب میں 2 کنال اور اس سے بڑے گھروں پر ٹیکس لگادیا گیا ہے۔ اس سے پہلے 5 مرلہ تک کے گھر ٹیکس سے مستثنیٰ تھے لیکن پوش علاقوں میں واقع پانچ مرلے کے گھر بھی ایسے ہیں جن پر ٹیکس لگنا چاہیے چنانچہ ایسے گھروں کا استثنا ختم کر دیا گیا ہے اور اب ان گھروں کے مالکان سے ٹیکس لیا جائیگا۔ اس وقت شہروں میں دس مرلے پر محیط غیر منقولہ جائیداد ٹیکس سے مستثنیٰ ہے لیکن بعض جائیدادوں کی مالیت بہت زیادہ ہے اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ دس مرلے کی ایسی جائیدادوں پر گین ٹیکس رقبے کی بجائے مالیت پر وصول کیا جائیگا۔ غیر منقولہ جائیدادوں پر ٹیکس کی نئی شرح کے مطابق جہاں غیر منقولہ جائیدادوں کی قدر ریکارڈڈ ہے وہاں ریکارڈڈ قدر کا 2 فیصد ٹیکس لیا جائیگا، جہاں ایسا نہیں ہے وہاں رقبے کے حساب سے ایک سو روپیہ فی مربع فٹ ٹیکس لیا جائیگا، جہاں غیر منقولہ جائیداد تعمیر شدہ ہے وہاں تعمیر شدہ رقبے پر دس روپے فی مربع فٹ کے حساب سے ٹیکس لیا جائیگا ۔ نئے بجٹ میں تفریحی ٹیکس کم کئے گئے ہیں، سرکس پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے، گھوڑوں کی ریس پر ٹیکس فی ٹکٹ 200 روپے یا فیس داخلہ کے 200 فیصد کے مساوی وصول کیا جائیگا ، جو بھی زیادہ ہو۔فیشن شو پر اٹھنے والے اخراجات کے 200 فیصد کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جائیگا، ایسے میوزیکل شوز جن میں داخلہ فیس 500 روپے یا اس سے زیادہ ہوگی وہاں 200 فیصد ٹیکس وصول کیا جائیگا، موٹر ٹیکس کی وصولی کی تاریخیں اب متعین کر دی گئی ہیں۔ مکانوں کی فروخت پر بھی گین ٹیکس لگا دیا گیا ہے ، اگر مکان کا قبضہ ایک سال رکھنے کے بعد اسے فروخت کیا جائیگا تو قیمت کا 5 فیصد گین ٹیکس یا پھر علاقے کی ریکارڈڈ قیمت کا 2 فیصد وصول کیا جائیگا، ایک سال سے زیادہ عرصے تک مکان قبضے میں رکھنے کے بعد اگر فروخت ہوگا تو 4 فیصد گین ٹیکس وصول کیا جائیگا۔ دو سال سے زائد اور تین سال سے کم کی صورت میں 3 فیصد ، تین سال سے زیادہ ، چار سال سے کم کی صورت میں 2 فیصد ، چار سال سے زیادہ اور پانچ سال سے کم کی صورت میں ایک فیصد جبکہ 5 سال سے زیادہ قبضہ میں رکھنے کے بعد اگر مکان فروخت ہوگا تو کوئی ٹیکس نہیں لیا جائیگا۔

مکان ٹیکس

مزید : صفحہ اول