چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایم پی اے اور بس ہوسٹس میں جھگڑے کا نوٹس لے لیا

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ایم پی اے اور بس ہوسٹس میں جھگڑے کا نوٹس لے لیا

  



                    سرگودھا (ثناءنیوز) چیف جسٹس لاہور ہائےکورٹ نے ایم پی اے اور بس ہوسٹس میں جھگڑے کا نوٹس لے لیا‘دوران سفر مسلم لیگ (ن) خاتون ایم پی اے نگہت شیخ اور بس ہوسٹس اقراءنواز کے مابےن ہونے والے جھگڑے کے واقعہ کی ابتدائی عبوری رپورٹیں وزیر اعلیٰ پنجاب کو پےش کر دی گئیں‘ حساس ادارے اور پولیس کی رپورٹس میں تضاد‘ وزیر اعلیٰ کے بعد چیف جسٹس کے نوٹس لیے جانے پر پولیس افسران نے سر جوڑ لیے‘ ذرائع کے مطابق حساس ادارہ کی مرتب کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بس میں جھگڑے کی ابتداءخاتون ایم پی اے نگہت شیخ نے کی اور بس ہوسٹس کو تھپڑ بھی پہلے ایم پی اے نے ہی مارا جبکہ نگہت شیخ بس ہوسٹس کے ساتھ ساتھ مسافروں سے بھی الجھتی رہیں‘ ایم پی اے کے پانی مانگنے پر ایک بار بس ہوسٹس اقراءانوار نے پانی کا گلاس دیا ‘ اسی دوران خاتون ایم پی اے نے دوبارہ پانی مانگا تو بس ہوسٹس نے اسے کہا کہ علاقہ گزر جانے دو جس پر ایم پی اے طیش میں آ گئی‘ سروس ایریا بھیرہ میں رکنے پر دیگر مسافروں کے ساتھ ہوسٹس جونہی بس سے اتری تو ایم پی اے نگہت شیخ نے اسے تھپڑ مارے‘ جس کا نشان بس ہوسٹس کے دائےں گال پر واضح ہے‘ پولیس کی طرف سے مرتب کردہ ابتدائی رپورٹ میں دونوں طرف سے جھگڑا ظاہر کیا گیا ہے‘ اس طرح حساس ادارے اور پولےس کی رپورٹوں میں واضح تضاد ہے۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائےکورٹ عمر عطاءبندیال نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرگودھا عبدالستار سے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام پہلوﺅں کو مد نظر رکھ کے رپورٹ مرتب کر کے عدالت میں پےش کی جائے‘ دوسری طرف اعلیٰ سطح پر نوٹس لےے جانے پر مقامی پولیس کے افسران نے سر جوڑ لیے ہےں اور معاملے کو سلجھانے اور ایم پی اے و بس ہوسٹس میں صلح کےلئے بھی کوششیں شروع ہو گئی ہےں‘ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس واقعہ کا بغیر تحقیق کے فوری مقدمہ درج کرنے پر ڈی پی او سلطان احمد چودھری سے وضاحت بھی مانگ لی ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...