مشرف غداری کیس میں وزیر قانون کو فریق بنانے کیلئے درخواست دائر

مشرف غداری کیس میں وزیر قانون کو فریق بنانے کیلئے درخواست دائر

  



                                اسلام آباد(آن لائن) پرویز مشرف غداری کیس میں نئے وزیر قانون زاہد حامد کو مقدمے میں فریق بنانے‘ کام سے روکنے‘ آئین توڑنے کا ریکارڈ ٹمپرنگ سے بچانے اور حکومت پاکستان کو ہدایت جاری کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کردی گئی‘ درخواست احسن الدین شیخ نے پیر کے روز دائر کی جس میں انہوں نے وفاقی حکومت‘ سابق صدر پرویز مشرف اور نئے وزیر قانون زاہد حامد کو فریق بنایا ہے۔ انہوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سابق صدر نے ایک سازش کے تحت آئین توڑا اور ججز کیخلاف کارروائی کی۔ ان کی اس کارروائی میں اس وقت کی کابینہ میں موجودہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد بھی شامل تھے۔ 3 نومبر 2007ءکی ایمرجنسی میں 61 ججز کو نہ صرف کام کرنے سے روکا گیا بلکہ ان کو غیرقانونی طور پر نظربند بھی کیا گیا۔ درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہ زاہد حامد کو وزیر قانون بنانے کا مقصد پرویز مشرف کو ملک سے فرار کرانے کیلئے محفوط راستہ فراہم کرنا ہے کیونکہ مذکورہ وزیر قانون پرویز مشرف کے دیرینہ دوستوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کے دور حکومت میں وزیر نجکاری تھے۔ غداری کیس کا تمام ریکارڈ چونکہ وزارت قانون کے پاس ہوتا ہے وہ اس میں ٹمپرنگ کرسکتے ہیں اسلئے انہیں عدالت طلب کرے اور ریکارڈ سمیت دیگر معاملات پر ہدایات جاری کرے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...