”پپی ، بٹ اور سردار صاحب“

”پپی ، بٹ اور سردار صاحب“
 ”پپی ، بٹ اور سردار صاحب“

  



پپی سے مراد مسلم لیگ نون کا پورے شہر ہی نہیں بلکہ صوبے اورملک بھر میں مشہور کارکن صلاح الدین پپی، بٹ سے مراد عطاءاللہ بٹ اور سردار صاحب سے مراد سردار ایاز صادق ہیں۔چودھری اختر رسول، سید توصیف شاہ اور بہت سارے دوسرے اس استقبالیہ تقریب میں موجود تھے جس کا اہتمام ان دونوں کمٹڈلیگی کارکنوں نے سردار ایاز صاد ق کے اعزاز میں کیا تھا، سردار ایاز صادق کانٹے دار مقابلے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو شکست دینے کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر بھی منتخب ہو چکے تھے اور اسح±ق ڈار نومنتخب حکومت کا پہلا وفاقی بجٹ پیش کر چکے تھے۔

میں پہلی بات ان کارکنوں کی کروں گا جن کے چہرے مسلم لیگ نون کی کامیابی پر چمک رہے تھے، کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے اجتماع دور سے دیکھتے ہی الگ الگ پہچان سکتے ہیں، مسلم لیگ نون کے کارکن اس شہر کے عام چہرے ہیں اور شائد مسلم لیگ نون کی کامیابی کے پیچھے راز بھی یہی چھپا ہوا ہے کہ میاں نواز شریف اورمیاں شہباز شریف نے عام آدمی کو اپنی حب الوطنی اور اہلیت کا یقین دلا دیا ہے جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے اجتماعات میں آپ کو بہت بڑی تعداد چہرے ، مہرے سے ہی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے پڑھوں ہوو¿ں کی نظر آئے گی۔ میں نے ان لیگی کارکنوں سے اکثر بحث کی ہے، یہ لمبی چوڑی بحث بازیاں نہیں کرتے، اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں میں نہیں پڑتے مگر شریف برادران کی قیادت پر اپنے غیر متزلزل یقین کا اظہار کر کے آپ کی تمام دلیلیں ضائع کر کے رکھ دیتے ہیں۔ صلاح الدین پپی کو میں سالہا سال سے جانتا ہوں، یہ تب ہی پرویز رشید کے ساتھ ہی ہوتا تھا جب مسلم لیگ ہاو¿س ، مسلم لیگ نون کے پاس ہوتا تھا، کمٹ منٹ کا یہ حال کہ سردار ایاز صادق کے اعزاز میں استقبالئے کا اہتمام کیا تو ساتھ ہی واضح کر دیا کہ یہاں صرف ان کارکنوںکو بلایا گیا ہے جو آج سے بارہ ، تیرہ سال پہلے ہونے والے الیکشن میں بھی مسلم لیگ نون کے ساتھ کھڑے تھے اور پرویز مشرف کی آمریت میں بھی پارٹی کے لئے ایف آئی آریں بھگتتے رہے ۔

مسلم لیگ نون کے ایسے ہی قربانیاں دینے والے کارکن بہت دیر تک کسی اعزاز اور عہدے سے محروم رہے حتیٰ کہ تیس اکتوبرکو مینار پاکستان پر تحریک انصاف کے جلسے کا مرحلہ آ گیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ نون نے تحریک انصاف کے جلسے کے بعد نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور سولر انرجی لیمپس وغیرہ دے کر نوازنا شروع کیا جبکہ میں کہتا ہوں کہ اس جلسے کے بعد اصل میںلیگی کارکنوں کی لاٹری نکل آئی، بہت سارے سپیشل اسسٹنٹ بن گئے،سرکاری گاڑیاں بھی مل گئیں اور وہ اس پوزیشن میں بھی آ گئے کہ سرکاری دفاتر میں عوامی مسائل حل کروا سکیں۔ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اگر شہبا زشریف اپنے پچھلے دور میں بلدیاتی انتخابات کروا دیتے تو ان کے سینکڑوں ، ہزاروں کارکن اکاموڈیٹ ہوجاتے، انہیںحکومت کی آخری مدت کے دوران مختلف محکموں میں دفاتر اور گاڑیاں دے کر اکاموڈیٹ نہ کرنا پڑتا۔ اب بھی اگر وعدے کے مطابق نومبر ،د سمبر میں بلدیاتی انتخابات ہوجاتے ہیں تو نہ صرف آئینی اور جمہوری نظام کے تقاضے پورے ہوں گے بلکہ آپ کو پانچ سال تک ایک ایسی سیاسی فوج مہیا رہے گی جو عوام کے مسائل حل کرتے ہوئے شریف برادران کا دفاع کرتی رہے گی۔میں نے تو اپنی صحافتی زندگی میں سیاسی زندگی کو قریب سے دیکھا اور جانا ہے کہ یہ کارکن ہی کسی سیاسی رہنما کی اصل طاقت ہیں۔

سوال یہ ہے کہ یہ سیاسی فوج کہاں کام آتی ہے۔ یہ سیاسی فوج اپنے لیڈر کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کے لئے عام انتخابات کے معرکوں میں گلی محلوں میں لڑ رہی ہوتی ہے۔ میں سردار ایاز صادق کو دیکھتاہوں تو حیرانی ہوتی ہے کہ ان میں کون سا جوہر چھپا ہوا ہے کہ ہر دفعہ اچھرے سے لے کر گڑھی شاہو تک پھیلے ہوئے اس حلقے کے عوام انہیں کامیاب کروا دیتے ہیں چاہے مقابلے پر تبدیلی اور نئے پاکستا ن کے نعرے کے ساتھ عمران خان جیسا لیڈر ہی کیوں نہ ہو اور چاہے ان کے نیچے سے صوبائی نشست تین میں سے دو مرتبہ حلقے کے دکھ سکھ میں شریک رہنے اور لوگوں سے تعلق نبھانے والامیاں اسلم اقبال ہی کیوں نہ جیت لے۔ مسلم لیگ نون کی قیادت نے زبردست سیاسی چال چلتے ہوئے اپنے سب سے بڑے مخالف کو ہروانے والے سردار ایاز صادق کو انعام میں قومی اسمبلی کی سپیکری اس تنقید کے باوجود دے دی کہ سارے اہم عہدے لاہور لے لیا گیا ہے، یہ انعام وفاداری کا بھی ہو سکتا ہے اور شرافت کا بھی،وفاداری یوں کہ سردار ایاز صادق کے قدم کبھی بھی ڈگمگاتے ہوئے نہیں دیکھے اور شرافت یوں کہ ان کی ذات کے ساتھ کوئی ایسا سکینڈل نہیں دیکھا جس کی وجہ سے انہیں شرمندہ ہونا پڑا ہو۔ عجیب منکسر المزاج آدمی ہیں ، سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد بھی معمولی تاخیر سے آنے پرایک کارکن سے معذرت کر رہے تھے، ” معذرت مجھے والدہ کو گھر لے کر جانا تھا او روہاں سے یہاں کے لئے نکلنا تھا اس لئے دس منٹ تاخیر ہو گئی“۔ ان کا رکھ رکھاو¿ تو اسی وقت ظاہر ہو گیا تھا جب ان کے مخالف تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے امیدوار سربراہ عمران خان گلبرگ میں ہونے والے حادثے میں زخمی ہوئے تو شوکت خانم ہسپتال میں سب سے پہلے پہنچنے والا یہی ان کا سیاسی اور انتخابی حریف تھا۔وہ سردار ٹرسٹ کے ذریعے حلقے والوں کی فلاحی میدان میں خدمت کرتے رہے، اب وہ اپنی اسی وفاداری، شرافت اور رکھ رکھاو¿ کو پوری قوم اور اس کے نمائندہ ایوان کے بہترین مفاد میں استعمال کر سکتے ہیں۔

بات ہو رہی ہے اس استقبالیہ تقریب کی جس میں استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے صلاح الدین پپی نے کہا کہ انہوں نے پچھلے دس سال سردار ایاز صادق کو کچھ نہیںکہا، ان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا مگر اب انہیںکارکنوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا، ان کے مسائل حل کرنا ہوں گے، سردار ایاز صادق کے حلقے کا ایشو یہ بھی ہے کہ شادمان سے گڑھی شاہو تک تو محسن لطیف کارکنوں کو سنبھال لیں گے مگر دوسری طرف ان کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار چودھری اختر رسول ہار چکے ہیں لہذا وہاں کے کارکن اپنے ایشو کو حل کروانے کے لئے سردار ایاز صادق کی طرف ہی دیکھیں گے ۔تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے میںنے واضح طور پر وزیر خزانہ اسحق ڈار کی طرف سے پیش کی گئی بجٹ تجاویز کی مخالفت کی ، میں نے کہا کہ اعزاز احمد آذر کے اشعار ” درخت جاں پہ عذاب رت تھی، نہ برگ جاگے نہ پھول آئے، بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے، ملول آئے، وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں ،اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں، ہمارے حصے میں عذر آئے، جواز آئے ، اصول آئے“ کی طرح عوام کی حصے میں ہمیشہ اچھے کل کے وعدوں کے ساتھ عذر ، جواز اور اصول ہی کیو ں آتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے معصوم او رمجبور کارکنوں نے اس پر بھی تالیاں بجا دیں ، یہ تالیاں ان کی معاشی مجبوریوں اور بجٹ سے جنم لینے والی مہنگائی کے خوف نے بجوائیں ورنہ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ میں ان کے نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کو رتی برابر بھی ڈگمگانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔۔۔ وہاں کارکنوں کی بھرپور محبت کے ساتھ رخصت ہوتے ہوئے میرا دل ان کی سیاسی رواداری پر سلیوٹ کرنے کو بھی چاہاکہ اگر کسی اور سیاسی جماعت کے ایسے اجتماع میں ان کے خلاف بات کر دی جاتی تو میرا ہال سے باہر نکلنا ہی مشکل ہوجاتا۔

سردار ایاز صادق پرتو دہری ذمہ داری عائد ہو گئی ہے، انہوںنے دس سال قومی اسمبلی کی رکنیت اپوزیشن میں انجوائے کی ہے مگر اب انہیں خاص طور پر اپنے حلقے کے کارکنوں اور غریب عوام کے مسائل کے حل کو خصوصی ترجیح دینا ہو گی، میں نے سپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ ایک مرتبہ پھر میاں نواز شریف کے اپنے عہدے کی آئینی اورپارلیمانی مدت پوری نہ کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں ، آپ کے سامنے اس ایوان کی طبعی عمر پوری کروانے ہی نہیں اسے حقیقی عوامی نمائندہ ایوان بنانے کا چیلنج بھی ہے، ماضی میں اس ایوان کی متفقہ طور پر منظور کی ہوئی قراردادیں ردی کی ٹوکری میں ڈالی جاتی رہیں، ارکان کو محض ربڑ سٹمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا جس کے اب آپ کسٹوڈین ہیں۔۔۔دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن میں ہر مرتبہ کامیاب رہنے والے سردار ایاز صادق ان محاذوں پر بھی کامیاب رہتے ہیں یا نہیں۔

مزید : کالم


loading...