پٹھانوں کا”جن “کے” منہ “ میں ہاتھ ڈالنے کا اعلان

پٹھانوں کا”جن “کے” منہ “ میں ہاتھ ڈالنے کا اعلان
پٹھانوں کا”جن “کے” منہ “ میں ہاتھ ڈالنے کا اعلان

  



نمل نامہ (محمد زبیراعوان )پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کی حکومت نے بجلی کی طویل بندش کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیاہے ۔ پاکستان اور پاکستانی معاشرے کے مسائل بھی دیگر معاشروں جیسے ہی ہیں لیکن کچھ مسائل پاکستانی قوم نے اپنے لیے خود پیدا کیے ہوئے ہیں ، ہم افواہوں پر یقین اور نکمے بیٹھ کر کچھ پالینے کی زیادہ توقع رکھتے ہیں ۔بعض اوقات یہ افواہیں سچ ہی ثابت ہوتی ہیں، کہاجاتاہے کہ جو بات زیادہ لوگ کررہے ہوں ، وہی سچ ہوتاہے ۔دس سے بارہ مئی2013ءکے دوران یعنی ملک میں ہونیوالے عام انتخابات کے موقع پر بلاتعطل چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی گئی لیکن مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعدایک مرتبہ پھر بجلی بحران شدت اختیار کرگیا۔

بجلی کوئی ایسی چیز نہیں جو پیداکرکے کسی ڈبے میں محفوظ کی جاسکے یا تاریں ڈھانپ کر بجلی بچالیں ۔انتخابات کے موقع پربلاتعطل بجلی کی فراہمی سے شبہ ہوتاہے کہ سسٹم میں بجلی پیداکرنے کی صلاحیت موجود ہے لیکن کسی نااہلی ، کوتاہی یا سیاسی چال کے تحت عوام کو لوڈشیڈنگ کے ”جن “ کے منہ میں دھکیلا جارہاہے ۔انتخابات کے اگلے دن اطلاع تھی کہ سعودی حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے اپنے وسائل مسلم لیگ ن کی حکومت کو پیش کررہی ہے ،یہ کوئی انہونی بات نہیں ،کیونکہ ماضی میں ایٹمی دھماکوں کے بعد سعودی عرب پاکستان کو بیل آﺅٹ پیکج دیتارہاتھا۔ اب سننے میں آیاہے کہ پہلی اطلاع عام ہوگئی تھی اور نئی حکومت کاکریڈٹ خدشے میں تھاجس کی وجہ سے مزید لوڈشیڈنگ کرنے کا آزمودہ فارمولاجاری رکھنے کا فیصلہ کیاگیا۔بظاہر وزیراعظم میاں نواز شریف لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے سنجیدہ بھی دکھائی دیتے ہیں اور وہ چینی ہم منصب سے بھی توانائی بحران کے خاتمے کیلئے مدد مانگ چکے ہیں ۔ سندھ میں سی این جی سٹیشن ایک دن بعد ایک دن کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے جبکہ قومی گرڈ سے کے ای ایس سی کو ملنی والی ساڑھے چھ سومیگاواٹ بجلی کی بھی معطلی کاامکان ہے ۔

 شام کوبجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران تازہ ہوا لینے چند دوست پارک میں بیٹھے تھے کہ تایا رفیق بھی مونچھوں کو تاﺅدیتاوہاں آگیا۔۔۔کوئی سلام نہ دعا۔ ۔ ۔بولے تو”آپ بھی صحافی بنے پھرتے ہو، آپ لوگ اتنابتانے میں بھی ناکام رہے کہ آخر بجلی جاتی کہاں ہے“؟؟؟ہم سو چ بچارمیں پڑگئے کہ اب کیابتائیں ؟ ”راجہ رینٹل “کاکہہ سکتے ہیں اور نہ ہی اب” زرداری“ کو مورد الزام ٹھہراسکتے ہیں ،گذشتہ دورحکومت کی طرح موجودہ حکمرانوں نے بجلی بحران گذشتہ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر دن تو پورے کرنے ہی ہیں ۔

 عدالتی احکامات اور عوامی احتجاج کے باوجود پاکستان کے چند خاص لوگوں اور دفاتر کے علاوہ قوم کیلئے بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔ پنجاب کے مغربی ضلع میانوالی میںعمران خان کی نمل یونیورسٹی سمیت 18گھنٹوں سے زائد کی لوڈشیڈنگ جاری ہے جس کی وجہ سے شہری جون کے سخت ترین موسم میں بعض اوقات پینے کے پانی کی بوندبوند کو ترستے ہیں ۔ خیبرپختونخواہ میں عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور دیگر روایتی سیاسی جماعتوں کی حکومت کے برعکس دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کااعلان کردیا ۔ سینئر وزیرسراج الحق کا کہناتھاکہ بجٹ کے بعد بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ کیخلاف عدالت جائیں گے ۔ دعاہے کہ خیبرپختونخواہ حکومت کے عدالت جانے سے دیگر صوبے بھی ”رنگ “پکڑیں،نااہل ”چہیتوں “ کی پکی چھٹی ہو اور ملک بھر میں بجلی کی منصفانہ اور زیادہ سے زیادہ تقسیم ہو،تاکہ ملک میں صنعتوں کا پہیہ چل سکے اور شہریوں کو جون کی گرمی میں کچھ ”ٹھنڈک “نصیب ہو ۔

مزید : بلاگ


loading...