افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں:اوباما

افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں:اوباما
افغان طالبان سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں:اوباما

  



کابل / واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ ادفغان طالبان سے مذاکرات کرنے کے لئے تیار ہے اور مذاکرات اس  وقت  ہونگے جب افغان طالبا ن القاعدہ سے روابط ختم کریں گے ۔امریکہ نے افغان طالبان کی جانب سے قطر میں دفتر کے افتتاح کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا ہے۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران طالبان پرتشدد کارروئیاں روکنے، القاعدہ سے تعلقات ختم کرنے اور افغان آئین تسلیم کرنے کے حوالے سے دباو¿ ڈالا جائے گا۔ مذاکرات کے دوران امریکی فوجی کی رہائی اور دیگرقیدیوں کے تبادلے کا ایجنڈا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب قطر کی حکومت کا کہنا ہے کہ دارلحکومت دوحہ میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے جب کہ امریکی حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا عمل آئندہ ہفتے سے شروع ہو گا۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ایک غیر ملکی خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے دو حہ میں آج شام سے دفتر کھولنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دفتر کھولنے کا مقصد طالبان اور باقی دنیا کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ دوسری جانب سے سیاسی دفتر کے افتتاح پر افغان صدر حامد کرزئی نے اعلان کیا ہے وہ بہت جلد افغانستان کی اعلی امن کونسل کا وفد طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر بھیجیں گے۔واضح رہے کہ حامد کرزئی رواں سال کے شروع تک طالبان کے افغانستان سے باہر آفس کھولنے کے شدید مخالفت تھے تاہم امریکی مداخلت کے بعد وہ امن مذاکرات کی میز پر طالبان کی موجودگی پر رضامند ہوئے۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں


loading...