سماجی بے راہ روی پر خاموش رہنے کا وقت نہیں:میرواعظ عمر فاروق

سماجی بے راہ روی پر خاموش رہنے کا وقت نہیں:میرواعظ عمر فاروق

  

سرینگر(کے پی آئی)متحدہ مجلس علما کے امیر و حریت( ع ) چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کشمیر کے طول و ارض میں جاری اصلاح معاشرہ کی مہم میں علما، اور دانشوروں کے ساتھ ساتھ سماج کے تمام طبقوں کا پرخلوص تعاون طلب کیا۔علامہ انور شاہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام ٹنگ چک آری مرگ لولاب کے تاریخی میدان میں جلسہ سیرت النبی ؓ کے اجلاس کے دوران میرواعظ نے رسول رحمت ؓکی عظیم اور آفاقی تعلیمات سیرت طیبہ کے مختلف گوشوں پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے وادی لولاب کے عظیم سپوت اور عالم اسلام کی ایک نمایاں ترین دینی و علمی نابغہ روزگار شخصیت علامہ انور شاہ کشمیری اور قابل فخر شاگرد مہاجت ملت مفسر قرآن میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ کو انکی گرانقدر دینی و علمی خدمات کے لئے زبردست الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا۔ میرواعظ نے اعداد و شمار کی روشنی میں کشمیر میں اخلاقی گراوٹ اور بے راہ روی کے مسلسل واقعات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اب ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ بزرگوں اور اولیائے کرام کی یہ سرزمین گزشتہ چند برسوں سے جن بے شمار جرائم اور برے کاموں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے وہ انتہائی تکلیف دہ اور تشویشناک ہے ۔

ارتداد ، بے دینی ، بے راہ روی ، منشایات اور اخلاقی گراوٹ کے خلاف متحدہ مجلس علما اور اس سے وابستہ دینی و اصلاحی تنظیموں اور مقتدر علما نے جو ہمہ گیر مہم چھیڑ رکھی ہے اسے ہر قیمت پر کامیاب بنایا جائیگا ۔ میرواعظ نے میڈیا سے جڑے انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات کے غلط استعمال کو نئی پود کے اندر بے حیائی اور فحاشی کے فروغ کی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر چیز کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں جن کا استعمال کرنے والوں پر انحصار ہوتا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ من حیث القوم حصول حق خودارادیت کے لئے جو بیش بہا قربانیاں دی جارہی ہیں ہم اس جدوجہد کی حفاظت جبھی کرسکتے ہیں اور آزادی کی نعمت سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں جب ہم اپنے اعمال و کردار میں سدھار پیدا کریں۔انہوں نے کہا کہ خطہ میں امن و سلامتی کے قیام کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق نکالنا انتہائی ناگزیر ہے اور اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہی۔ اس لئے حکومت ہند کو چاہئے کہ وہ اس حوالے سے فریقین کے ساتھ جامع اور پر امن مذاکرات کے لئے اقدامات یقینی بنائی۔ میرواعظ نے دارالقرآن کاسنگ بنیاد بھی رکھا۔ بعد میں پروگرام کے مطابق میرواعظ نے دارالعلوم خیر دارین خیر آباد سوگام میں اساتذہ اور طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انہیں دینی علوم کے ساتھ ساتھ مروجہ علوم اور سائنس و ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں سے لیس ہونے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ زمانے کے چیلنجز کا اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مقابلہ کیا جاسکی۔ اس مرحلے پر میرواعظ کے ہاتھوں مسجدکا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ۔ان مواقع پر ادارہ کے بانی مولانا محمد شفیع مکی، جو ایک طویل عرصے سے علاقہ بھر میں دینی اور اصلاحی کوششوں میں ایک نمایاں رول ادا کر رہے ہیں میرواعظ کی خدمت میں خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے خطہ کشمیر میں صدیوں سے میرواعظ خاندان کی دینی، ملی، اصلاحی اور سیاسی خدما ت کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے علاقہ لولاب کے عوام کی جانب سے انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ان مواقع پر مولانا غازی حسین مکی( جو طویل عرصے سے مکہ مکرمہ سعودی عرب میں درس و تدریس اور حجاج کرام کی رہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں) مفتی نظام الحق کرمانی ندوی ، مفتی سعید احمد بخاری، مولانا مشتاق احمد نقشبندی، مولانا ایم ایس رحمن شمس، مولانا غلام رسول لولابی، قاری شمیم احمد اور دیگر علما نے بھی خطاب کیا۔

مزید :

عالمی منظر -