روس نے عدم ادائیگی پر یوکرین کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی

روس نے عدم ادائیگی پر یوکرین کو گیس کی فراہمی منقطع کر دی

  

                                                                    ماسکو(آن لائن)گیس معاملے پر روس اور یوکرائن کے مذاکرات نا کا م ہو نے کے بعد روسی کمپنی گیس پروم نے یوکرائن کو گیس کی ترسیل معطل کر دی ۔ اس بندش سے کئی یورپی ممالک بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔یورپی یونین کی معاونت میں روس اور یوکرائن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی کیف حکومت کر رہی تھی۔ مذاکرات کی ناکامی کے باوجود یورپی یونین کے مصالحت کار بدستور پ±ر امید ہیں کہ مزید ڈائیلاگ سے مفاہمت کی راہ ڈھونڈ نکالی جائے گی۔ کیف حکومت کو گیس کی ترسیل کی بندش کے ساتھ ساتھ مشرقی یوکرائن کے اہم صنعتی شہر ڈونیٹسک میں ایک اور اقتصادی جھٹکا سہنا پڑ اور وہ مرکزی بینک کی مقامی شاخ پر باغیوں کا قبضہ ہے۔روس کی جانب سے یوکرائن پر واضح کر دیا گیا تھا کہ اگر بقایاجات ادا نہ کیے گئے تو عالمی وقت کے مطابق صبح چھ بجے گیس کی سپلائی معطل کر دی جائے گی۔ دوسری جانب کیف حکومت کی جانب سے ماسکو کو بقایا جات کی مد میں کوئی رقم ادا نہیں کی گئی ہے۔ اس تناظر میں یوکرائن کے وزیراعظم آرسینی یاٹسین ی±ک کا کہنا ہے کہ یہ روس کی جانب سے یوکرائنی ریاست پر ایک اور طرح کی جارحیت ہے۔ ا±دھر امریکا نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یوکرائن کے لیے گیس کی سپلائی بحال کر دے۔روس کے قومی ادارے گیس پروم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گیس کی معطلی سے بعض یورپی ملکوں کو گیس کی بندش کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یوکرائن کے لیے گیس کی بندش گزشتہ دہائی میں تیسری دفعہ کی گئی ہے۔ گیس پروم کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ا±س نے یوکرائن کے خلاف سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں قائم ثالثی عدالت میں 4.5 بلین ڈالر کا دیوانی مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ اس کے جواب میں کیف حکومت نے اعلان کیا ہے کہ گیس پروم کے خلاف ماضی میں ادا کی گئی زائد رقم کی ریکوری کے لیے چھ بلین ڈالر کا جوابی دعویٰ دائر کیا گیا ہے۔ گیس پروم کے سربراہ الیکسی مِلر نے روسی ٹیلی وڑن کو بتایا کہ ا±ن کی کمپنی کی جانب سے سویڈن کی عدالت میں بقایا جات کی ادائیگی کے حوالے سے ایک اور مقدمہ بھی دائر کیا گیا ہے اور اِس میں 18 بلین ڈالر کے بقایا جات کا مدعا اٹھایا گیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق روسی گیس کمپنی کے فیصلے کے تناظر میں یوکرائن نے گیس کا ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے اور امکاناً اس ذخیرے سے رواں برس کی سردیوں میں گھروں اور دفاتر کو گرم رکھنے والے نظام میں خلل نہیں ہو گا۔

 ایسے ہی خیالات لندن کے ادارے کیپیٹل اکنامکس کی جانب سے سامنے آئے ہیں اور اِس ادارے کا کہنا ہے کہ کیف حکومت کے پاس خاصا ذخیرہ موجود ہے اور یہ رواں برس کے اختتام تک چلے گا۔

مزید :

عالمی منظر -