مصر میں قانونی اصلاحات کے لیے پینل قائم ہو گیا

مصر میں قانونی اصلاحات کے لیے پینل قائم ہو گیا

  

                                     قاہرہ(ثناءنیوز)مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے مروجہ قوانین کے نئے دستور کے مطابق جائزے اور قانونی اصلاحات کے لیے ایک سپریم کمیٹی کے قیام کی غرض سے صدارتی فرمان جاری کیا۔اس کمیٹی میں جج صاحبان ،وکلا ،قانون کے پروفیسر حضرات اور ماہرین قانون شامل ہوں گے۔اس نئے قانون ساز پینل کے سربراہ وزیراعظم ابراہیم محلب ہوں گے اور پارلیمانی امور کے وزیر ،دستوری جج ،اسٹیٹ کونسل کے سربراہ ،ملک کے مفتیِ اعظم ،جامعہ الازہر کے نائب سربراہ ،کابینہ کے مشاورتی بورڈ کے سربراہ ،اسٹیٹ کونسل کے شعبہ قانون سازی کے سربراہ اور وزیر عدل کے قانون سازی کے معاون اس کے ارکان ہوں گے۔یہ کمیٹی مصر کے دستور 2014 کی دفعات کی روشنی میں صدر اور وزیراعظم کی جانب سے جاری کردہ فرامین اور احکامات کا جائزہ لے گی اور ان دفعات سے ہم آہنگ قوانین کے مسودے تیار کرے گی۔مصری روزنامے الاہرام کی ایک رپورٹ کے مطابق صدارتی فرمان میں کہا گیا ہے کہ تمام قانون سازی نئے دستور کی دفعات کے مطابق ہونی چاہیے۔یہ نئی کمیٹی مصری قوانین میں موجود ابہام کو دور اور دہرے پن کو بھی ختم کرے گی۔یہ وزارتوں کی جانب سے وضع کیے گئے فرامین کی بھی نوک پلک سنوارے گی۔کمیٹی یہ کام آیندہ پارلیمانی انتخابات کے انعقاد سے قبل مکمل کرے گی۔واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج نے گذشتہ سال جولائی میں منتخب صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ایک نقشہ راہ وضع کیا تھا جس کے تحت پہلے ملک کا نیا دستور مرتب کیا گیا،اس کو عبوری حکومت نے ریفرینڈم میں منظور کرایا تھا اور اس کے تحت گذشتہ ماہ ملک کے نئے صدر عبدالفتاح السیسی کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔مصر کے ترمیم شدہ دستور کے تحت آیندہ پارلیمانی انتخابات کا عمل 17 جولائی سے قبل شروع ہوجانا چاہیے۔

مزید :

عالمی منظر -