گیس کی قیمتوں میں 62 فیصداضافے کو صنعتی ترقی کا قتل قرار دیتے ہیں‘سائٹ

گیس کی قیمتوں میں 62 فیصداضافے کو صنعتی ترقی کا قتل قرار دیتے ہیں‘سائٹ

  

کراچی (اکنامک رپورٹر)سائٹ ایسوی ایشن آف انڈسٹری کے چئیرمین یونس ایم بشیر نے گیس کی قیمتوں میں 62 فیصداضافے کو صنعتی ترقی کا قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت کی مضبوطی کا انحصار صنعتی ترقی پر ہے تاہم ملکی معیشت میں صنعتوں کا بیس فیصد حصہ ہونے کے باوجود حکومت عملی طور پر صنعتوں کی بحالی میں سنجیدہ نہیں جسکی حالیہ مثال گیس کی قیمتوں میں 62% فیصد کا بھاری اضافہ واپس نہ لیناہے تاہم انہوں نے اس اضافے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیس کا معاملہ پہلے ہی کورٹ میں زیر سماعت ہے توحکومت کس طرح سے ازخود اضافہ کر سکتی ہے ۔ لہٰذا حکومتی فیصلے کے بعد صنعتوں کی بحالی اب ممکن نہ رہی۔سائٹ ایسوسی ایشن سے جاری اعلامیے کے مطابق یونس ایم بشیر کا کہنا تھا کہ ایک جانب تو حکومت ملک میں کاروباری اور صنعتی اداروں کو ترغیبات اور سہولیتں فراہم کر نے کے اعلانات کر رہی ہے تو دوسری جانب جی آئی ڈی سی میں اضافہ کر کے موجودہ پیداوری سرگرمیوں کوبری طرح متاثر کر نے جیسے اقدامات اٹھاتی ہے جس کے نتیجے میں صنعتکار اپنی فیکٹریوں کو بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صنعتکار برآمدی سودے میں بھی محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ چئیرمین سائت ایسوی ایشن نے مزید کہا کہ صنعتکاروں کوٹیکسٹائل پیکج کے فوائد سے کئی گنا زیادہ نقصان جی آئی ڈی سی کے اعلان سے اٹھانا پڑیگا۔ دوسری جانب انکا کہنا تھا کہ بہت سے ملکی اور غیرملکی سرمایہ کار مخدوش حالات اور صنعتوں کے حوالے سے حکومت کی سخت پالیسی کی وجہ سے بیرون ملک اپنا سرمایہ منتقل کر چکے ہیں اور بعض اس پر غور کر رہے ہیں۔ جبکہ حکومت نے گیس کی قیمتوں میں 62% فیصد اضافہ کر کے صنعتوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے،خطے کے دیگر ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ بنگلہ دیش میں بھی گیس کی قیمتیں دو ڈالر کے لگ بھگ ہے ۔چنانچہ حکومت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ صنعتیں لگے گی۔

توروزگار میں اضافہ اور جرائم میں کمی ہوگی۔ چئیر مین بونس ایم بشیر نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے مطالبہ کیا کہ صنعتوں کے مسائل کے سد باب کیلئے جی آئی ڈی سی کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے ،اور اگر موجودہ صورتحال اور برآمدی سودے جلد ازجلدطے نہیں پائے تورواں سال صنعتوں پر اسکے منفی اثرات مرتب ہونگے۔

مزید :

کامرس -