دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کا عزم

دہشت گردی کے خاتمے اور امن کی بحالی کا عزم

  

وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف شمالی وزیرستان میں آپریشن ”ضرب عضب“ مقاصد کے حصول تک جاری رہے گا، ہم مذاکرات کررہے تھے لیکن دوسری جانب تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ہماری نیک نیتی پر مبنی پیش رفت کو اسی جذبے کے ساتھ نہیں لیا گیا کراچی ائرپورٹ پر حملے کے بعد مشاورت سے آپریشن کا فیصلہ کیا، دہشت گردی نے معیشت کو گہرا زخم لگایا، ہمارے کھیل کے میدان خالی ہو گئے، کسی قیمت پر ملک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔آپریشن سے متاثرہ افراد کے لئے خصوصی سنٹر قائم کر دیئے گئے ہیں، سیاسی جماعتوں، میڈیا، تمام طبقات اور پوری قوم کو مسلح افواج کی پشت پر کھڑا ہو جانا چاہیے۔علماءکرام اہل وطن کی رہنمائی کریں۔ہم پاکستان کی تاریخ بدل کر اسے امن کا گہوارہ بنائیں گے۔امن کی راہ اختیار کرنے والوں کے لئے خصوصی مراکز قائم کر دیئے ہیں۔انہیں پرامن زندگی گزارنے کا موقعہ فراہم کریں گے۔ وزیراعظم نوازشریف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اظہار خیال کررہے تھے، انہوں نے ایوان بالا (سینٹ) اور ایوانِ زیریں(قومی اسمبلی) میں ایک ہی لکھا ہوا بیان پڑھا۔

دوسری جانب چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے شمالی وزیرستان میں آپریشن شروع کیا گیا، شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے ختم کرکے حکومتی رٹ قائم کریں گے، دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا، آپریشن دہشٹ گردی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کے لئے شروع کیا گیا۔جنرل راحیل شریف نے ان خیالات کا اظہار نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (اسلام آباد) میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔قومی اسمبلی نے اپنے اجلاس میں عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کی ہے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں متاثرین کی بھرپور دیکھ بھال کریں۔قومی اسمبلی سے باہر بھی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے آپریشن کی حمایت کردی ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ جب حکومت نے طالبان سے مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا اور اس مقصد کے لئے اے پی سی بلائی تھی تو تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ طور پر مذاکرات کے حق میں رائے دی تھی، لیکن مذاکرات کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور کسی نہ کسی وجہ سے مذاکرات کی گاڑی شروع سے ہی ہچکولے کھانے لگے، اگر دہشت گردی کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو جاتا اور حکومت کی رٹ بحال ہو جاتی تو بہت اچھا ہوتا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔چنانچہ وہ سیاسی جماعتیں جو اے پی سی کے وقت مذاکرات کے حق میں تھیں ایک ایک کرکے مخالف ہوتی چلی گئیں، انہیں اپنی رائے بدلنے میں حالات و واقعات نے اہم کردار ادا کیا، جب دہشت گردی کی وارداتیں رکنے میں نہ آئیں تو یہ محسوس کیا گیا کہ مذاکرات سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔بظاہر مذاکرات کو حکومت کی کمزوری پرمحمول کیا گیا اور بعض سیاسی شخصیات نے برملااس کا اظہار بھی کیا۔خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے آخری وقت تک مذاکرات کی حمایت جاری رکھی، لیکن اب بدلے ہوئے حالات میں تحریک انصاف نے بھی اپنی رائے بدل لی ہے اور عمران خان نے دعا کی ہے کہ آپریشن کامیاب ہو، انہوں نے فوج کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ہم مذاکرات کررہے تھے لیکن دوسری جانب تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔مذاکرات میں اگر دونوں جانب خلوصِ نیت کا اظہار ہوتا تو ان کی کامیابی کا امکان تھا لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بعض عناصر ان مذاکرات کو ناکام بنانے پر تُلے ہوئے تھے دہشت گردی کی وارداتیں رک جاتیں تو بھی مذاکرات کے حامیوں کے ہاتھ مضبوط ہو جاتے، لیکن ایسا نہیں ہوا، چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے حامی بھی اپنی رائے بدلتے چلے گئے اور اب نوبت آپریشن تک پہنچ گئی جو دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔حکومت کو اس بات کا کریڈٹ دیا جانا چاہیے کہ جب دہشت گردی کی وارداتیں نہ رکنے کے باعث مذاکرات کی عام مخالفت شروع ہو گئی تھی اور حکومت کو ہر جانب سے یہ طعنے مل رہے تھے کہ وہ دہشت گردوں کے آگے جھک گئی ہے اور یہاں تک کہا گیا کہ حکومت امن کی بھیک مانگ رہی ہے تو بھی اس نے مذاکرات کا راستہ نہ چھوڑا اور کسی نہ کسی طرح بات آگے بڑھائی جاتی رہی، لیکن جب ہرطرف سے مایوسی ہوئی اور کراچی جیسا واقعہ ہو گیا تو حکومت کو بھی مذاکرات کا راستہ ختم کرکے جوابی کارروائی کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ہمارے خیال میں مذاکرات کو بلاوجہ طول دینے سے ان کی افادیت ہی ختم ہو کر رہ گئی اگر فوری طور پر ان کا کوئی نتیجہ نکل آتا اور بات آگے بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی تو بھی مذاکرات ختم کرنے کے حامیوں کو اطمینان بخش جواب دیا جا سکتا تھا، لیکن جب کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تو بات آپریشن تک پہنچ گئی۔

قبائلی بہادر اور پُرامن لوگ ہیں لیکن وہاں کے حالات خراب کرنے میں زیادہ تر کردار ان غیر ملکیوں نے ادا کیا جن کے اپنے عزائم اور اپنا ایجنڈا ہے۔انہوں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کر رکھا ہے اور پُرامن قبائلی عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے جو قبائلی لوگ ان کی راہ میں مزاحم ہونے کی کوشش کرتے ہیں انہیں علاقے سے نکال دیا جاتا ہے۔اب آپریشن ”ضرب عضب“ شروع کردیا گیا ہے اور وزیراعظم نوازشریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اسے دہشت گردی کے خاتمے تک جاری رکھنے کا عزم کیاہے تو قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ملک سے دہشت گردی کا عفریت ختم ہوگا اور بارود کی بُو کی بجائے گلوں کی خوشبو سے یہ چمن ایک بار پھر مہک اٹھے گا۔

مزید :

اداریہ -