چیف جسٹس کے بھتیجے کا اغوا

چیف جسٹس کے بھتیجے کا اغوا

  

ملتان سے حساس ادارے کے ایک افسر عمر کو پیرکے روز اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ اپنے گھر سے روانہ ہو کر دفتر جا رہے تھے۔ عمر موجودہ چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بھتیجے ہیں، یوں ملتان سے اغوا ہونے والا یہ دوسرا مغوی بھی ہائی پروفائل ہے۔یوں بھی اس کا اپنا تعلق ایک ایسے ادارے سے ہے جو دہشت گردی اور اغوا برائے تاون جیسی وارداتوں کا سراغ لگانے پر مامور ہے۔دوروز گزر جانے کے بعد ابھی تک مغوی کا سراغ نہیں لگایا جا سکتا، پولیس کی طرف سے ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

ملتان سے 2013ءمیں انتخابات کے دوران سابق وزیراعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کو بھی اغوا کیا گیا تو پولیس نے ملتان کی ناکہ بندی کی اور برآمدگی کا دعویٰ کیا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور مغوی شمالی علاقے میں کالعدم تحریک کے پاس پہنچا دیا گیا، اب بھی پولیس وہی کام کررہی ہے اور تاحال اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔انسپکٹر عمر کااغوا کوئی معمولی واقع نہیں، اسے منظم طریقے سے اغواءکیا گیا، جس میں ایک کار اور موٹرسائیکل والے سات افراد نے حصہ لیا۔موٹرسائیکل سوار تین افراد نے مغوی کی کار روکی اور قریب کھڑی کار سے آنے والے اسلحہ برداروں نے اسے کار سے نکال کر اپنی کار میں منتقل کرلیا اور آناً فاناً لے کر فرار ہو گئے۔کوئی بھی مدد نہ کر سکا اور نہ ہی کوئی یہ بتانے کو تیار ہے کہ ملزم جانے پہچانے بھی تھے یا نہیں۔

ملتان ہی نہیں، یہ واردات حساس اداروں اور ضلع سے لے کر صوبائی انتظامیہ تک کے لئے انتہائی تشویش کی علامت ہے کہ عوامی تحفظ کے لئے کام کرنے والے اہل کاروں کی خود اپنی کوئی سیکیورٹی یا ضمانت نہیں ہے۔انسپکٹر عمر کے اغواکی واردات سے یہ احساس اجاگر ہو رہا ہے کہ ملزم انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں سے زیادہ اچھے منصوبہ ساز اور نڈر ہیں، ابھی تک ملزموں کی طرف سے نہ تو کوئی رابطہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی مطالبہ سامنے آیا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاحال مغوی کو ملزموں کے ٹھکانے تک نہیں پہنچایا گیا، اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر ہی مغوی کا سراع مل سکتا ہے اور اسی سے کچھ سراغ کی بھی توقع کی جا سکتی ہے اگر ملزم مغوی کو نکال لے جانے میں کامیاب ہو گئے تو ان کے پاس ایک اور اہم شخصیت ہو جائے گی اور اس طرح سودے بازی کی کوشش کی جائے گی۔شمالی وزیرستان میں شروع کئے جانے والے آپریشن کے ساتھ ملک بھر میں حفاظتی انتظامات کی بات کی گئی، لیکن اس واردات نے لوگوں کا اعتماد متزلزل کیا ہے، پولیس کے لئے چیلنج ہے اور اسے قبول کرکے عوامی توقعات پر پورا اترنا چاہیے۔

مزید :

اداریہ -