برداشت کا کلچر!

برداشت کا کلچر!

  

چیف جسٹس مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کوئٹہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاشرے میں برداشٹ کے کلچر کو فروغ دینے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ دین متین کی تعلیمات اور ہماری معاشرتی اقدار کا بھی تقاضا ہے کہ معاشرے میں برداشت کا شعور پیدا کرکے معاشرے کو مثبت بنایا جائے۔

محترم چیف جسٹس نے اپنی تقریرمیں یہ موقف مثالیں دے کر بھی واضح کیا۔وہ بالکل درست فرماتے ہیں، آج صورت حال یہی ہے کہ کوئی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔معمولی معمولی بات پر جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور یہ عدم برداشت ہی ہے جس کی وجہ سے سوسائٹی میں خلفشار ہے بلکہ بات اس حد تک بھی کہی جا سکتی ہے کہ نہ صرف معاشرے بلکہ معاشروں اور پھر ممالک کے درمیان بھی برداشت ہی کے عمل کو اپنا کر برے نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ معاشرے میں طبقاتی اور مسلکی فسادات بھی عدم برداشت ہی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔دین اسلام میں تو خاص ہدایت ہے اور پھر خود پیغمر اسلام نے عمل کرکے نصیحت کی جس کی صحابہ کرامؓ نے بھی پیروی کی۔اسی طرح دوسرے مذاہب میں بھی اس پر زور دیا گیا لیکن عمل نہیں کیا جاتا اور عمل نہ ہونے کے باعث تلخیاں بڑھتی ہیں۔مسٹر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی نصیحت بروقت ہے۔آج ہمارا معاشرہ جس خلفشار کا شکار ہے اس کی ایک وجہ یہ عدم برداشت بھی ہے، اس لئے بہتر عمل اسے اپنانا ہے۔

مزید :

اداریہ -