اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس

اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس
اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس
کیپشن: l cor ghulam jilani khan

  

ایک دوست نے مجھے کل پوچھا: ”سائنس، ٹیکنالوجی اور عقل و دانش میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم کون سی ہے؟“.... مَیں نے جواب دیا: ”امریکی“.... پھر پوچھا: ”اور سب سے بےوقوف، جاہل اور پس ماندہ قوم؟“.... مَیں نے جواب دیا: ”وہ بھی امریکی!“

دوست کچھ تدبذب میں پڑ گیا اور حیرانی سے مجھے گھورنے لگا۔ مَیں نے اس کی مشکل بھانپ لی اور کہا: ”آپ شائد فارسی نہیں جانتے۔ مولانا روم نے سینکڑوں برس پہلے کہا تھا کہ علم کو اگر اپنی جان کے لئے استعمال کرو گے تو آپ کا دوست بنے گا لیکن اگر جسم کے لئے کرو گے تو دشمن بن جائے گا اور دشمن بھی ایسا زہریلا سانپ کہ ڈسے تو پانی مانگنے نہ دے۔ مَیں نے اسے اس بات کی مزید تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شاعر مشرق نے مولانا کو ویسے ہی اپنا مرشد نہیں کہہ دیا تھا۔ اقبال ؒ ملاﺅں کی تضحیک کیا کرتا تھا اور مولاناﺅں کا والہ و شیدا تھا۔ اس لئے صاحبِ مثنوی، مولانا روم کو پیرو مرشد تسلیم کرتا تھا....اسی لئے کہتا ہے:

پیرِ رومی خاک را اکسیر کرد

از غبارم جلوہ ہا تعمیر کرد

(ترجمہ: پیرِِ رومی نے میری مٹی کو سونا بنا دیا اور میرے غبار سے جلو ے تعمیر کر دیئے)

اُسی مولانا روم کا شعر ہے:

علم را بر تن زنی مارے بود

علم را بر جاں زنی یارے بود

امریکی قوم دنیا کی ترقی یافتہ ترین قوم ہونے کے باوجود پس ماندہ قوم اس لئے ہے کہ اس نے علم و دانش اور سائنس و ٹیکنالوجی کو ”جسم“ (تن) پر مارا ہے ،اس لئے وہ ترقی کر کے سانپ بن گئی ہے۔ اگر ”جاں“ پر مارا ہوتا تو انسان کی دوست بن جاتی۔ مسلمانوں نے علم کو ”جان“ پر مارا اس لئے علم ان کا یار ہے۔

کیا ہوا اگر مسلمان ٹیکنالوجی اور سائنس میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ محض سائنس کی انتہا خود کشی ہے لیکن وہ سائنس جو انسانی بھلائی کے کام آئے اس کی انتہا قربِ خداوندی ہے۔

میرا دوست یہ سُن کر کہنے لگا: ”کرنل صاحب! میرا خیال تو یہ تھا کہ آپ فوج میں رہے ہیں اس لئے عقل و ہوش کی بات کریں گے۔ لیکن یہ جو آپ فرما رہے ہیں یہ تو کسی نیم مُلا کا وعظ معلوم ہوتا ہے جو وہ کسی گاﺅں کی مسجد میں جاہل اور نیم خواندہ دیہاتیوں کے سامنے کر رہا ہے۔.... ذرا عقل سے کام لیجئے۔ جذباتی نہ بنئے اور بتایئے کہ کیا جنگ، سائنس نہیں ہے؟.... کیا ہم نے اس سائنس سے بچھڑنے کی سزا نہیں پائی؟.... کیا مسلم اقوام سائنس، ٹیکنالوجی اور بطورِ خاص جنگی ٹیکنالوجی میں پس ماندہ نہیں رہ گئے اور اسی وجہ سے آج زبوں روز اور خوار و ذلیل نہیں ہو رہے ؟....“

مَیں نے اپنے دوست کو کہا کہ یہ ایک طویل بحث بن جائے گی۔ آپ نے میرے فوج میں ہونے کا ذکر کیا ہے اس لئے مَیں آپ کو صرف دو مثالیں دے کر اپنا نقطہ ¿ نظر واضح کروں گا۔ ایک مثال جنگ عظیم دوم میں سے ہے اور دوسری افغانستان کی اس جنگ سے کہ جو 1980ءکے عشرے میں سوویت یونین کے خلاف لڑی گئی۔ .... ان دونوں مثالوں میں ایک مشترک ربط بھی ہے جو مَیں آخر میں عرض کروں گا۔

دوسری جنگ ِ عظیم ہٹلر نے شروع کی۔ یکم ستمبر 1939ءکو جرمن میکانائزڈ فورسز نے پولینڈ پر حملہ کیا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ پھر ہٹلر نے مئی 1940ءمیں فرانس پر حملہ کیا اور اسے روندتا ہوا انگلش چینل تک چلا گیا۔1941ءکے موسم بہار کے آتے صرف برطانیہ ہی واحد یورپی ملک رہ گیا تھا جو جرمنوں کی یلغار سے بچ گیا اور وہ بھی اس لئے کہ ان کی راہ میں انگلش چینل کی آبی دیوار حائل ہو گئی تھی۔ جرمنوں نے برطانیہ پر فضائی حملے کئے اور اس کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان کیا۔ اس لڑائی کو ”بیٹل آف برٹن“ کا نام دیا جاتا ہے۔ تاہم اس بیٹل (Battle) کا کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔

اس کے بعد جرمنی نے جون1941ءمیں روس پر یلغار کر دی۔ اس یلغار کو آپریشن باربروسہ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن جرمن ٹینک اکتوبر1941ءکے اواخر میں عین ماسکو کے دروازوں پر جا کر رُک گئے۔.... موسم سرما، وقت سے دو ہفتے پہلے شروع ہو گیا تھا۔.... ماسکو کے اردگرد کے جنگی میدانوں میں شدید برف باری نے جرمنوں کو ماسکو فتح نہ کرنے دیا۔

اس کے بعد تین برس تک جرمن اور رشین فورسز روس کے میدانوں، جنگلوں، دریاﺅں، جھیلوں اور کوہساروں میں برسر پیکار رہیں ۔ آخر 1944ءکے اواخر میں جنگی نتائج کا پانسہ روس کے حق میں پلٹنا شروع ہوا۔ ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی کرسک (Krusk) میں لڑی گئی جس میں جرمنوں کو شکست ہوئی۔ پھر اپریل 1945ءکے اواخر میں روسی اور کچھ دنوں بعد امریکی اور برٹش افواج جرمنی کے دارالحکومت برلن میں داخل ہو گئیں۔ ہٹلر نے خود کشی کر لی اور اس طرح مئی 1945ءمیں یہ دوسری عالمی جنگ (یورپ میں) ختم ہو گئی۔

چھ برسوں پر محیط اس دوسری عالمی جنگ کی چھ ہزار سے زیادہ تاریخیں لکھی جا چکی ہیں۔ یہ تمام تاریخی کتب انٹرنیٹ کی آمد سے پہلے دنیا بھر کی عسکری لائبریریوں میں محفوظ تھیں۔ آج ان پر یہ اضافہ ہوا ہے کہ ان میں سے آدھا تحریری مواد انٹرنیٹ پر آ چکا ہے۔ کوئی قاری اگر استفادہ کرنا چاہے تو برس ہا برس تک ”مصروفِ استفادہ“ رہ سکتا ہے۔

دوسری عظیم جنگ کے مورخوں نے بیک زبان ہو کر جن دو عوامل کو روس کی کامیابی اور جرمنوں کی ناکامی کا سبب قرار دیا، ان میں ایک تو روس کا قدیم اور ٹوٹا پھوٹا مواصلاتی سڑکچر تھا اور دوسرا روسی سپاہی کی وارٹیکنالوجی سے ”کم آگاہی“ تھی۔.... مَیں اس کی تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔

پولینڈ، فرانس، بلجیم، ناروے، اٹلی، یونان، سویڈن وغیرہ کا سڑکوں کا نیٹ ورک بڑے اعلیٰ پیمانے کا تھا۔ ان سڑکوں پر جرمن ٹینک اور توپخانہ (سیلف پرا پلڈ آرٹلری) بھاگتا دوڑتا، آن کی آن میں دشمنوں پر جا پڑا۔ اس دوڑ میں جرمن فضائیہ بھی شامل ہو گئی۔ ملٹری ہسٹری میں اس طریقہ ¿ جنگ کو ”بلز کریگ“ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ جرمن زبان کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے ”برق آسا جنگ“ یا ایسی جنگ جو آسمانی بجلی کی طرح تندو تیز ہو۔.... دیکھتے ہی دیکھتے جرمن مشینی دستے مغربی اور وسطی یورپ کے ملکوں پر ٹوٹ پڑے اور ان کو شکست ِ فاش دے دی۔

لیکن روس کا معاملہ بالکل مختلف نکلا!

روس کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی تھیں، جگہ جگہ کیچڑ اور دلدل نے جرمن یلغار کی رفتار سست کر دی۔ ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور سافٹ گاڑیاں بریک ڈاﺅن کا شکار ہو گئیں۔ اور جب بعد از مرمت ان کو دوبارہ قابلِ حرکت بنایا گیا تو ماسکو پہنچنے کا وہ ہدف جو ہٹلر نے مقرر کر رکھا تھا وہ تاخیر کا شکار ہو گیا۔ اوپر سے موسم سرما کی جلد آمد نے بھی روسیوں کی مدد کی اور جرمن وار ٹیکنالوجی، اس کی بلز کریگ اور اس کا سارا لاجسٹک سسٹم، روسیوں کی پسماندگی، ان کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور راستوں، کی نذر ہو گیا۔

یہ ٹیکنالوجی کی جدت اور قدامت کا براہ راست مقابلہ تھا جس میں قدامت نے جدت کو پچھاڑ دیا۔

ہمارا نرم رو قاصد، پیامِ زندگی لایا

خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے

روسیوں کی فتح اور جرمنوں کی شکست کی دوسری وجہ روسی سپاہی کا وہ مورال تھا جو بے انتہا جانی نقصانات کے باوجود بھی پست نہ ہو سکا۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھیں دوسری عالمی جنگ اتحادیوں نے اگر جیتی اور اگر جرمنوں نے ہاری تو اس کا سبب روسیوں کا وہ عظیم الشان مورال تھا جو جدید ٹیکنالوجی کا مرہونِ احسان نہ تھا۔.... جرمنی نے سائنس کو تن پر مارا اور روس نے اس کو جاں (مورال) پر مارا اور مولانا روم کے شعر کی حقانیت ثابت کر دی۔

دوسری مثال مَیں نے اپنے دوست کو اس افغان کی دی جو جدید وار ٹیکنالوجی کی ابجد سے بھی ناآشنا تھا۔ لیکن اس کا جذبہ ¿ شوق جسے تاریخ نے ”افغان جہاد“ کا نام دیا وہ بے مثال تھا۔ یہ انوکھا ستم قابلِ غور ہے کہ1945ءمیں جس وجہ سے روسیوں نے جرمنوں کو مارا،35برس بعد1980ءعین اسی وجہ سے افغانوں نے روسیوں کو مار بھگایا!

تاریخ کے جھروکوں سے جھانک کر دیکھیں تو افغان جہاد جو افغانوں نے سوویت یونین کے خلاف لڑا، اس کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا۔ روس کا پہلا فوجی 25دسمبر 1979ءکو دریائے آمو کو عبور کر کے افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا اور اس کا شکست خوردہ آخری فوجی1988ءمیں اُسی دریائے آمو کے پل سے واپس ماسکو جا رہا تھا!

میرا ایک عزیز جو ان ایام میں ایک جونیئر کیپٹن تھا اس نے افغانوں کی جرا¿ت، استقامت اور ہمت کے بہت سے واقعات سنائے۔ اس کی یونٹ پارا چنار میں صف بند تھی اور وہ وہاں ایک پوسٹ کا پوسٹ کمانڈر تھا۔ پوسٹ کا نام بالاحصار تھا (قلعہ بالا حصار اور ہے۔ اسی نام کے دو گاﺅں فاٹا میں اوربھی ہیں۔ ایک پارا چنار سے تقریباً 10،15 میل کے فاصلے پر ہے اور دوسرا باجوڑ میں ہے) .... یہ واقعہ مَیں اسی عزیز کی زبانی بیان کروں گا۔

”ہماری ائر ڈیفنس رجمنٹ ان دنوں پارا چنار میں تھی اور مَیں بالا حصار گاﺅں میں ایک پوسٹ کمانڈر تھا۔ وہاں ہماری دو طیارہ شکن گنیں لگی ہوئی تھیں۔ یہ گاﺅں عین پاک افغان سرحد کے اوپر واقع ہے اور کافی اونچی جگہ پر ہے۔ وہاں سے نیچے اور سامنے دیکھیں تو دور دور تک منظر صاف نظر آتا ہے۔ مَیں ایک روز اپنی دوربین لگائے سامنے پھیلے منظر کا جائزہ لے رہا تھا۔ سوویت یلغار زوروں پر تھی۔ مَیں نے دیکھا کہ تین سوویت ٹینک ایک بل کھاتی ہوئی کچی سڑک پر جا رہے تھے۔ ان کا ایک دوسرے سے فاصلہ تقریباً چار پانچ فرلانگ ہو گا۔ دوپہر کا وقت تھا اور حدِ بصارت (Visibility) کافی کلیئر تھی۔ دور تک کا منظر صاف نظر آتا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ سب سے آگے والے ٹینک سے تقریباً دو تین فرلانگ کے فاصلے پر اچانک ایک اوٹ سے80برس کا بابا اور اس کے ساتھ اس کی 70،75برس کی بیوی نکلی۔ بیوی کے سر پر لکڑیوں کا ایک چھوٹا سا گٹھا رکھا تھا اور بابے کے ساتھ ایک مریل سا گدھا تھا جس پر لکڑیاں لدی ہوئی تھیں۔ .... پھٹے پرانے کپڑے اور دونوں میاں بیوی کی صورتِ حال ایک عام غریب کسان سے مختلف نہ تھی۔ دونوں پاﺅں سے ننگے تھے۔ بڑھیا کے ایک ہاتھ میں لاٹھی تھی جس کو وہ ٹیکتی ہوئی لنگڑاتی جاتی تھی اور دوسرے سے لکڑیوں کے گٹھے کو سنبھالے ہوئے تھی۔ بابا بھی بہت مفلوک الحال سا لگتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بھی گدھے کو ہانکنے کے لئے ایک لکڑی سی تھی۔

سب سے اگلا ٹینک اور یہ میاں بیوی ایک دوسرے کے مخالف سمت میں چلے آ رہے تھے۔ جونہی ایک موڑ آیا اور ٹینک کی رفتار دھیمی ہوئی۔ بابا نے گدھے کو ایک لاٹھی مار کر نیچے گرایا، لکڑیوں کے گٹھے کے نیچے سے ایک RPG-7چھپایا ہوا تھا جسے اُس 80برس کے بظاہر فقیر منش بوڑھے نے بجلی کی سی تیزی کے ساتھ ٹینک پر کلوز رینج سے داغ دیا۔ ایک دھماکہ ہوا۔ بڑھیا تو فوراً زمین پر لیٹ گئی اور بابا اپنے گدھے اور لکڑیوں کے گٹھے کی آڑ میں چھپ گیا۔

ٹینک شعلوں میں نہا رہا تھا اور وہ میاں بیوی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے قریب ہی ایک گھاٹی کی طرف بھاگ رہے تھے۔ مجھے یہ سارا منظر خواب سا معلوم ہوا۔ مَیں نے دور بین (Binocular) آنکھوں سے ہٹائی تو ٹینک سے شعلے بلند ہو رہے تھے اور پیچھے والے دونوں ٹینک رک کر پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے۔“

مَیں بڑے غور سے اس عزیز کی باتیں سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ ”علم را بر جاں زنی یارے بود“ کی تفسیر کیا ہے۔

اس مورال اور جذبے کو ہم عزم و حوصلہ بھی کہتے ہیں.... یہ کہاں سے پیدا ہوتا ہے، کیسے پیدا ہوتا ہے، کیسے گھٹتا بڑھتا ہے اور انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں، یہ تمام پہلو گہرے مطالعے اور عمیق مشاہدے کے طلب گار ہیں۔ اقبال نے نے اسی مورال کو ”لہو“ کا نام دیا ہے۔ لہو وہ نہیں جس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے بلکہ لہو وہ ہے جو انسان کو روز و شب کی قید سے نکال کر آفاقی قدروں کا امانت دار بنا دیتا ہے:

اگر لہو ہے بدن میں تو خوف ہے نہ ہراس

اگر لہو ہے بدن میں تو دل ہے بے وسواس

ملا جسے یہ متاعِ گراں بہا اس کو

نہ سیم و زر سے محبت ہے نے غم ِ افلاس

مزید :

کالم -