گل ِمراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے

گل ِمراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے
گل ِمراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے
کیپشن: naseem shahid

  

آپریشن ضرب عضب کے سلسلے میں یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ وزیر اعظم محمد نوازشریف، چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور فوج کے ترجمان کے بیانات میں ایک بات مشترک ہے کہ آپریشن مقصد کے حصول تک جاری رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟ اس کی وجہ ماضی میں کئے جانے والے اُدھورے آپریشن ہیں، جو سیاسی قوتوں کے دباﺅ، نا موافق حالات اور بڑے پیمانے پر متاثرین کی نقل مکانی سے پیدا ہونے والے مسائل کے باعث مقاصد کے حصول سے پہلے ہی ختم کرنے پڑے، جس کی وجہ سے فوج کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور ملک کے اندر بھی یہ تاثر پروان چڑھا کہ شاید دہشت گردی کا علاج فوجی آپریشن سے ممکن نہیں۔ غالباً اسی پس منظر کو سامنے رکھ کر سول و عسکری قیادت اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ آپریشن ضرب عضب کو ہر صورت میں مکمل کیا جائے گا۔

بادی النظر میں اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں۔ اس آپریشن کے لئے اس وقت جس قدر ساز گار فضا موجود ہے، اس سے بڑھ کر کوئی توقع کی ہی نہیں جا سکتی۔ عمران خان نے بھی فوجی آپریشن کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری طرف حافظ محمد سعید بھی آپریشن کی حمایت میں سامنے آ چکے ہیں۔ گویا وہ لوگ بھی جو طالبان کے خلاف طاقت کے استعمال کی بھرپور مخالفت کرتے تھے، اب فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے اگرچہ قومی اسمبلی کی قرارداد پر دستخط نہیں کئے، جس میں فوجی آپریشن کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ان دونوں جماعتوں کی طرف سے آپریشن کی مخالفت کا تاثر بھی نہیں دیا جا رہا، نہ ہی کوئی شدید مخالفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پہلی بار اس قسم کی فضا پیدا ہوئی ہے ،جس میں ایک وسیع البنیاد اتفاق رائے نظر آ رہا ہے۔ ملک سے دہشت گردی ختم کرنے اور ارض وطن کے چپے چپے پر امن بحال کرنے کا شاید اس سے اچھا موقع پھر کبھی ہاتھ نہ آئے۔

اس آپریشن کے حوالے سے ابھی تک جو انتظامات دیکھنے میں آ رہے ہیں، وہ اس امر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ سول و عسکری قیادت اس آپریشن کے تمام پہلوﺅں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مثلاً شہروں میں فوجی دستوں کی تعیناتی، سیکیورٹی انتظامات میں بہتری، آپریشن کی نگرانی اور قوم کو اس کے نتائج سے آگاہی کے لئے ایک رابطہ کمیٹی کا قیام، جس میں سول و عسکری اداروں کے ارکان شامل ہیں، ایسے قدامات ہیں، جو اس آپریشن کے لئے مکمل تیاری و یکجہتی کو ظاہر کرتے ہیں۔اس آپریشن کی کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں سیاسی درجہ¿ حرارت کو کم سے کم رکھا جائے۔ ویسے تو اس آپریشن کی وجہ سے حکومت پر سیاسی دباﺅ کم ہونے کی امید ہے، کیونکہ یہ آپریشن اس قدر اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ حکومت کے خلاف جاری مہمات کے پس منظر میں چلے جانے کا امکان ہے، تاہم اس کے باوجود حکومت کو اپنی طرف سے اس بات کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہئے کہ سیاسی سطح پر محاذ آرائی کا سلسلہ شروع نہ ہو، کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں اس آپریشن پر اعتراضات کی راہ بھی نکل سکتی ہے۔

 یہ بات تو واضح نہیں کہ حکومت کے خلاف شیخ رشید احمد کے لانگ مارچ،عمران خان کے جلسوں اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں کا اب کیا مستقبل ہے؟ البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایک جنگی فضا میں بڑے بڑے جلسوں یا ریلیوں سے امن وامان کے سنگین مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ دہشت گردی کے واقعات اگر ان جلسوں اور ریلیوں میں پیش آئے تو صورتِ حال کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ مجھے حکومتی سطح پر ابھی تک ایسی کوئی سرگرمی نظر نہیں آ رہی، جس کا مقصد حکومت مخالف سیاستدانوں کو اپنی سرگرمیاں ملتوی کرنے پر آمادہ کرنا ہو۔ بات تو صرف دس بارہ دن کی ہے، اس کے بعد رمضان المبارک کی وجہ سے ویسے ہی سب احتجاجی سرگرمیاں ختم ہو جائیں گی، تاہم جب تک اس حوالے سے حکومت سنجیدہ کوششوں کا آغاز نہیں کرتی اپوزیشن کی طرف سے احتجاج کا التوا دکھائی نہیں دیتا۔ اس موقع پر حکومت کو ہر ممکن محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہئے.... مثلاً لاہور میں منہاج القرآن کے سامنے سے بیریئر ہٹانے کا واقعہ انتہائی غیر دانشمندانہ تھا، جس کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایک طرف آپ حساس مقامات، مدرسوں، مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی بڑھا رہے ہیں اور دوسری طرف برسوں سے لگے ہوئے بیریئر ختم کرنا چاہتے ہیں، یہ بے وقت کی راگنی سوائے مسائل پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں دے سکے گی۔

حکومت اور عسکری قیادت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہو گی کہ جس قسم کا اتفاقِ رائے اور حمایت آپریشن کے آغاز میں نظر آ رہی ہے، وہ آپریشن کی کامیابی تک موجود رہے۔ وقت گزرے گا تو بہت سے مسائل جنم لیں گے۔ مخالفین اپنے بچاﺅ کے لئے بہت سی کہانیاں گھڑیں گے، جن میں آپریشن کے دوران معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات بھی شامل ہوں گے۔ دوسری طرف شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات بھی میڈیا سامنے لائے گا۔ ایسا اس سے پہلے کئے جانے والے آپریشنوں کے دوران بھی ہو چکا ہے۔ آج جو مذہبی جماعتیں رائے عامہ کی وجہ سے آپریشن کے معاملے پر خاموش ہیں، پھر بولنا شروع ہو جائیں گی۔ جس کا لا محالہ فائدہ دشمنوں کو پہنچے گا۔ پھر ایسا بھی ممکن ہے کہ طالبان کے کچھ دھڑے ہتھیار ڈال کر مذاکرات پر آمادگی ظاہر کریں۔ ظاہر ہے ان کی بات بھی سنی پڑے گی، گویا جوں جوں وقت گزرے گا، آپریشن آگے بڑھے گا۔ منظر نامہ بھی تبدیل ہوتا رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قسم کی ہر صورت حال کے لئے تیار رہا جائے۔

پاکستان کے چھوٹے بڑے شہروں میں آپریشن ضرب عضب کے رد عمل کو کم سے کم رکھنے کے لئے چاروں وزرائے اعلیٰ نے عسکری قیادت اور اعلیٰ سیکیورٹی افسران سے اجلاس اور مشاورت کی ہے، جو خوش آئند بات ہے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس آپریشن کو ہر سطح پر انتہائی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ا گر چاروں صوبے امن و امان کو یقینی بنانے میں کامیاب رہتے ہیں اور دہشت گردوں کو امن تباہ نہیں کرنے دیتے تو یہ اس آپریشن کی بالواسطہ ایک بڑی کامیابی ہو گی۔ کچھ ایسے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ آپریشن کا دائزہ ہر اس جگہ تک بڑھایا جائے، جہاں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں انٹیلی جنس اطلاعات موجود ہیں۔ مثلاً ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب میں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جائے، اسی طرح کراچی میں بھی ایک بڑے آپریشن کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو بہت سوچ سمجھ کر اور تمام پہلوﺅں پر نظر رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ گنجان آباد شہروں میں آپریشن آسان نہیں ہوگا۔ سویلین آبادی کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے۔ سویلین آبادی کے انخلاءکی صورت میں بھی بے شمار مسائل پیدا ہوں گے، تاہم ان سب خدشات کے باوجود اس ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گردوں کے خلاف ہر جگہ آپریشن ہی مسئلے کا واحد حل ہے۔

بظاہر یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ امریکہ فوجی آپریشن کی مکمل حمایت کر رہا ہے ،تاہم اس معاملے پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ کے اس خطے میں معاملات ابھی تک بہت اُلجھے ہوئے ہیں، ایک طرف وہ خود دہشت گردوں کو گوانتا نا موبے سے آزاد کر رہا ہے اور دوسری طرف ہمیں دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کا کہہ رہا ہے۔ ہمیں بھارت اور افغانستان پر بھی اس حوالے سے زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہئے اگرچہ وزیر اعظم محمد نوازشریف نے افغان صدر حامد کرزئی کو فون کر کے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں تعاون طلب کیا ہے، مگر حامد کرزئی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جنگ ہمیں خود اپنی حکمت عملی اور اپنی مدد آپ کے تحت لڑنی ہے۔ اس جنگ کا سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ قوم متحد رہے۔ دوسرا تقاضا یہ ہے کہ فوج کی مکمل اور غیر مشروط حمایت جاری رکھی جائے اور تیسرا تقاضا یہ ہے کہ سیاسی قوتیں اس مسئلے پر کسی سیاسی انتشار یا مصلحت کا شکار نہ ہوں۔ ہماری صورتِ حال خواجہ حیدر علی آتش کے اس شعر کی عکاس ہے:

تھکیں جو پاﺅں تو چل سر کے بل، نہ ٹھہر آتش

گل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے

مزید :

کالم -