واقعہ کی جوڈیسشنل انکوائری کا حکم دیدیا ،ظلم کرنیوالے اقرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے،شہباز شریف

واقعہ کی جوڈیسشنل انکوائری کا حکم دیدیا ،ظلم کرنیوالے اقرار واقعی سزا سے بچ ...

  

لاہور(پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ماڈل ٹاؤن کے انتہائی افسوسناک واقعہ پر ہم سب رنجیدہ ہیں ۔دل خون کے آنسو رورہا ہے ۔واقعہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی دکھ ہوا ہے ۔سوگوار خاندانوں کے ساتھ اظہار افسوس کرتے ہوئے دعا گو ہو ں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبرجمیل دے اوریہ غم برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔عدالت عالیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ عدالتی کمیشن روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کرے اورحقائق جلد سے جلد قوم کے سامنے لائے جائیں۔ وعدہ کرتا ہوں کہ عدالتی کمیشن کی تحقیقات سے سامنے آنے والے حقائق سے قوم کو آگاہ کیا جائے گااورجب تک دودھ کا دودھ پانی کا پانی نہیں ہوجائے گا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔عدالتی کمیشن کی تحقیقات کے نتیجے میں ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ادارے کے سربراہ طاہر القادری سے بھی واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہوں۔میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عدالتی تحقیقات کا حکم دید یا ہے ۔انہیں بھی یقین دلاتا ہوں کہ عدالتی کمیشن کی تحقیقات کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف بلاتاخیر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وہ یہاں ماڈل ٹاؤن میں ماڈل ٹاؤن میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کے حوالے سے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔صوبائی وزیر قانون و بلدیات رانا ثناء اللہ خان،صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد،صوبائی وزیر ماحولیات کرنل (ر) شجاع خانزادہ اوردیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پر امن رہیں ،بلا شبہ اس اندوہناک واقعہ پر عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے۔ لیکن میں یقین دلاتاہوں کہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔میں نے کبھی لاٹھی اور گولی کی سیاست نہیں کی اور نہ ہی کبھی سیاسی مخالفین سے ناجائز سلوک روا رکھاہے۔اس بات کا میرا گذشتہ6سالہ دورشاہد ہے ۔لیکن جو لوگ خائن ہیں ،لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔خواتین سے زیادتی کرتے ہیں،معصوموں پر ظلم کرتے ہیں،ان کے خلاف میں ہمیشہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بناہوں اورماڈل ٹاؤن واقعہ میں بھی جن لوگوں نے ظلم کیا ہے میں ان کے خلاف بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنوں گا۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ پر ہم سب رنجیدہ اورغم گیرہیں ،دل خون کے آنسو رورہا ہے ۔اس بربریت کے اس واقعہ میں جن کے پیارے چلے گئے ان سوگوار خاندانوں کے دکھ میں پوری طرح شریک ہیں اوراس دکھ کو محسوس کرسکتے ہیں کہ ان کے دل پر کیا گزری ہے ۔یہ افسوسناک واقعہ کس طرح ہوا،معصوم اور بے گناہ افراد کی ہلاکتیں کیسے ہوئی ،اس ضمن میں لاہورہائی کورٹ کے کمیشن کے قیام کا حکم دیا ہے اورجوڈیشل انکوائری کے ذریعے حقائق منظر عام پر لائے جائیں گے اورتحقیقات کے بعد اس المناک واقعہ کا جو بھی ذمہ دارہوا اس کو قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا ملے گی۔وزیراعلیٰ نے میڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماڈل ٹاؤن واقعہ کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے عدالتی کمیشن کے قیام کے لئے درخواست دے دی گئی ہے اوراس ضمن میں کسی کوکوئی شک نہیں ہونا چاہے ۔میں نے خادم پنجاب کی حیثیت سے اگر اپنے کسی عزیز ترین رشتے دار کو قید کروانے میں ہچکچاہٹ محصوس نہیں کی تو اس واقعہ میں بھی ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے حوالے سے کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر جنگلے ہٹانا میرا کام نہیں ،یہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے تاہم بطور خادم پنجاب 8معصوم جانوں کے قتل پر میں عوام اوراللہ کی عدالت میں حقائق کے ذریعے جواب دینے کا پابند ہوں اوراس کا بہترین طریقہ یہ ہی ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن بنایا جارہا ہے اور اس مقصد کے لئے ہائی کورٹ کو درخواست دے دی گئی ہے اور میری چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے درخواست ہے کہ یہ عدالتی کمیشن روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات کرے اور اگر یہ عدالتی کمیشن چند ہفتوں میں تحقیقات مکمل کر کے حقائق عوام کے سامنے لائے تو یہ چیف جسٹس کا قوم پر بڑا احسان ہوگا۔ایک سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کوئی میرے خلاف مقدمہ درج کرانے کی خواہشمند ہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔کیونکہ 8معصوم لوگوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں،ناانصافی ہوئی ہے۔ میں نے کبھی سیاسی مخالفت برائے مخالفت نہیں کی اور ماضی کے حکمرانوں کی طرح کبھی بڑے عظیم مذہبی جلوسوں پر تشدد نہیں کیا اورنہ ہی میری ڈکشنری میں سیاسی مخالفت برائے مخالفت کا لفظ موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر عدالتی کمیشن تحقیقات کے بعداس واقعہ کا مجھے ذمہ دار ٹھہراتا ہے تو میں ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر عوام کی عدالت میں حاضر ہوں گا اورذمہ داری قبول کر کے استعفیٰ دے دوں گا اورجوتحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آئے گا اور اسے من و عن تسلیم کروں گا ۔میں شعبدہ بازی پر یقین نہیں رکھتااوراس ضمن میں ماضی کے حکمرانوں کی مثالیں نہیں دینا چاہتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری رپورٹ کے مطابق واقعہ میں 97لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 52سویلین ہیں اور28پولیس کے افسر و اہلکار ہیں۔واقعہ کے نتیجے میں 8معصوم جانیں بھی ضائع ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ رکاوٹوں کوہٹانا انتظامیہ کا کام ہے ۔انہوں نے اگررکاوٹوں کو ناجائز یہ غیر قانونی سمجھا ہے تو یہ ان کی ہی ذمہ داری ہے ۔لیکن اس کی آڑمیں بربریت اورظلم کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ کوئی ظلم کرے اورسزا سے بچ جائے شہباز شریف کے دور میں ایسا کبھی نہیں ہوسکتا ۔ظلم کرنے والے کسی صورت قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -