منہاج القرآن سیکرٹریٹ رکاوٹیں ،ہٹانے پر تصادم ،پولیس فائرنگ سے8افراد جاں بحق،100سے زائدزخمی

منہاج القرآن سیکرٹریٹ رکاوٹیں ،ہٹانے پر تصادم ،پولیس فائرنگ سے8افراد جاں ...

  

لاہور(وقائع نگار خصوصی ،کرائم سیل ،جنرل رپورٹر ،نمائندہ خصوصی ، نامہ نگار خصوصی)تحریک منہاج القرآن سیکرٹریٹ پر سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے پولیس کی کارروائی خونیں تصادم میں بدل گئی جو دو خواتین سمیت آٹھ افراد کی جانیں لے گیا جبکہ ایک سوسے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، پاکستان عوامی تحریک اور ادارہ منہاج القرآن کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پولیس کارروائی کو ریاستی دہشت گردی قرار دیا ہے، کارکنوں کو احتجاج جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی اعلان کیا ہے کہ اس واقعہ کی ایف آئی آر وزیراعظم ،وزیراعظم پنجاب اور ان کی کابیناؤں کے خلاف درج کرائی جائے گی۔ رات گئے تک لاہور، ملتان ،فیصل آباد اور دیگر شہروں میں احتجاج جاری تھا جبکہ جگہ جگہ دھرنے بھی دئیے گئے ،دریں اثناء حکومت پنجاب کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے اس واقعہ کے بارے میں انکوائری کے لئے ایک رکنی ٹریبونل تشکیل دے دیا ہے جبکہ وزیراعظم شہبازشریف نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لئے تیس تیس لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ عدالتی ٹریبونل نے انہیں ذمہ دار ٹھہرایا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔حکومت پنجاب کی درخواست پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری کے لئے یک رکنی ٹربیونل تشکیل دے دیا ہے جو مسٹر جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل ہے۔ٹربیونل کی نامزدگی کے حوالے سے ہوم سیکرٹری پنجاب کو مراسلہ بھجوادیا گیا ہے۔ٹربیونل منہاج القرآن اکیڈمی اور سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں پیش آنے والے سانحہ کے حالات وواقعات کے حوالے سے حقائق اکٹھے کر کے رپورٹ مرتب کرے گا،فاضل ٹربیونل کارروائی کے حوالے سے اپنا شیڈول خود ترتیب دے گا۔یہ ٹربیونل پنجاب ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969کے تحت قائم کیا گیا ہے ۔تفصیلا ت مطابق پیر اور منگل کی درمیانی رات پولیس کی جانب سے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکرٹریٹ اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی گئی تو عوامی تحریک کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے پولیس کو رکاوٹیں ہٹانے سے روک دیا جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان رات بھر مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا اور پھر مذاکرات کی ناکامی کے بعد پولیس اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم ہو گیا، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی، اس کے بعد پو لیس کی جا نب سے شد ید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں پاکستان عوامی تحریک کی2 خواتین سمیت 8 کارکن جاں بحق اور پولیس اہلکاروں سمیت 100افراد سے زا ئد زخمی ہو گئے۔ جھڑپ کے دوران جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر کے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں کی درخواست پر ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر سے رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں کیونکہ ان رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جب کہ عدالتی احکام کے مطابق شہر میں کسی بھی جگہ رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جا سکتیں۔ پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکاروں نے بھاری مشینری کی مدد سے ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ کے باہر سے رکاوٹیں ختم کر کے علاقے کو کلیئر کیا۔ سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ منہاج القرآن سیکرٹریٹ سے جدید قسم کا اسلحہ برآمد ہوا ہے، پولیس جب ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے پہنچی تو پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک ڈی ایس پی، 5 انسپکٹر اور 22 اہلکار سمیت متعدد افراد زخمی ہو ئے، پولیس کی جانب سے اپنے دفاع میں کارروائی کی گئی اور مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔دریں اثناء عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماڈل ٹاؤن پر ریاستی دہشتگردی کیخلاف ملک بھر میں آخری ہدایت تک احتجاج جاری رکھیں، گھبرانے کی ضرورت نہیں اور میرے اگلے حکم کا انتظار کیا جائے ، میری آمد کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی وزیراعظم ، وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کیخلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے گی شہید کارکنان کا قصاص لیں گے ایک کے بدلے ایک اور ساٹھ کے بدلے ساٹھ کا قصاص لیا جائے گا ہمارے 83کارکنان زخمی ہیں سینکڑوں لاپتہ ہیں براہ راست گولیاں ماری گئی ہیں ،بعض کی لاشیں تک غائب کی گئی ہیں۔کینیڈا سے ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر اور دہشتگردی کا مقصد فوجی آپریشن کو روکنا میری وطن آمد اور تیسرا حکومت گھبرا چکی ہے ۔ آئندہ کا لائحہ عمل کا اعلان بعد میں کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر و دہشتگردی کے تین اسباب تھے فوج کو شرارت کا علم تھا حکومت کو دوسرے دن پتہ چلا جس کی وجہ سے وہ یس کہنے پر مجبور ہوگئی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اقتدار جانے والا ہے شہادتوں کے بدلے ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگا آٹھ کے بدلے آٹھ ، ساٹھ کے بدلے ساٹھ کا قصاص لیا جائے گا ۔ جناح ہسپتال میں 83زخمی پڑے ہوئے ہیں وزیراعلیٰ پنجاب ڈھونگ رچا ر ہا ہے حکم دے کر اب سرزنش کررہا ہے آرڈر بھی اس نے خود دیا ہے نواز شریف ، شہباز شریف ، خواجہ سعد رفیق ، رانا ثناء اللہ، چو دھر ی نثار ، پرویز رشید ، موجودہ آئی جی ، ڈی آئی جی پر ایف آئی آر درج ہو گی۔انہوں نے کہا کہ زخمیوں کا صحیح علاج نہیں کیا جارہا ہے، چالیس افراد کے زخم سنجیدہ نوعیت کے ہیں ،وہ شہید ہوچکے ہیں حکومت کاکام محض بیرئر ہٹانے کا نہیں تھا اگر یہی کام تھا تو میرے گھر کے دروازے پر گولیاں کیوں چلانا پڑیں، میرے خاندان کے بچوں پر اوپر چھتوں سے فائرنگ کی گئی ،دروازے کھڑکیاں توڑ دی گئیں بجلی کے کنکشن کاٹ دیئے گئے۔ ظلم و جبر کا خاتمہ ہوکر رہے گا، ملک میں بدامنی اور خلفشار پیدا کرکے شمالی وزیرستان میں ہونے والے پاک فوج کے آپریشن کو ناکام بنانا ہے۔ نہتے اور بے گناہ خواتین پر براہ راست گولیاں ماری گئیں، سوئے ہوئے پرامن کارکنان اور شہریوں پر حملہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی نعوذ بااللہ بے حرمتی کی گئی یہ سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ اللہ کی لاٹھی جب انتقام لیتی ہے تو پھر کوئی نہیں بچ پاتا، کارکنان کی ہمت اور بہادری پر ان کو لاکھوں بار سلام کرتا ہوں ، میرے پاکستان آنے کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی مجھے شہید کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے تیار ہوں، کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی ریاست میں خلاف راشدہ کا نظام نافذ کرنے کی جنگ لڑوں گا، بدعنوان لوگوں کو حکومت سے نکال باہر کرینگے، گوشہ درود پر جہاں ہر وقت درود پڑھا جاتا ہے وہاں کارکنوں کو ہراساں کیا گیا ہے ،جن میں سیاستدانوں نے ساتھ دیا اور بیانات دیئے ہیں ۔تمام قائدین اور لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔نماز جنازہ کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی سے بدلہ نہیں لیں گے اللہ تعالیٰ نے شہدا کو انقلاب کے لئے قبول کیا ، شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا ، اللہ ان شہدا کے خون کو اپنی بارگاہ میں قبول کریں۔ڈاکٹر طاہر القادری واقعہ پر جوڈیشنل کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قاتلوں کے بنائے ہوئے کمیشن کو نہیں مانتے ،جوڈیشنل کمیشن میں یہی قاتل شامل ہوں گے، ہم اپنا کمیشن انقلاب آنے کے بعد بنائیں گے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ آئندہ کا لائحہ تمام حمایتی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کروں گا ، انہوں نے سانحہ میں اظہار افسوس کرنے اور ساتھ دینے پر تمام جماعتوں کو شکریہ بھی ادا کیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے وصیت کی کہ اگر23جون کو میری آمد پرمجھے بھی شہید کر دیا تو اس دھرتی پر مکمل طور پر انقلاب آنے تک مجھے سپرد خاک نہ کیا جائے ، انقلاب کے بعد مجھے دفن کرنے کی اجازت ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -