ماڈل ٹاؤن آپریشن ،ایل ڈی اے نے مزاحمت پر پولیس سے مدد مانگی

ماڈل ٹاؤن آپریشن ،ایل ڈی اے نے مزاحمت پر پولیس سے مدد مانگی

  

لاہور(جاوید اقبال)ماڈل ٹاؤن ایل ڈی اے کا کنٹرولڈ علاقہ ہے اس علاقے میں جائز اور ناجائز تجاوزات ہٹانے کی تما م تر ذمہ داری ایل ڈی اے کی ہے تجاوزات کے خلاف آپریشن بھی ایل ڈی اے نے شروع کروایا نشتر ٹاؤن اقبال ٹاؤن کے تجاوزات ہٹاؤ سکواڈکو بطور امداد ڈی سی او لاہور کے ذریعے ڈی جی ایل ڈی اے نے طلب کیا جب پیر کی رات طاہر لقادری کے گھر اور منہاج القران یونیورسٹی کی طرف جانے والے راستوں پر قائم کی گئی روکاوٹیں اور بیرئیر ہٹانے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن کے خلاف عوامی تحریک کے کارکنوں نے مزاحمت کی تو ایل ڈی اے اور ٹاونوں کا عملہ پسپا ہو گیا جس کی اطلاع آپریشن کی نگرانی پر معمور ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر سٹیٹ نے ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ اور اسسٹنٹ کمشنرماڈل ٹاؤن چانڈیو نے ڈی سی او لاہور کیپٹن عثمان کو دی ان افسروں نے پولیس کے اعلی حکام سے رابطہ کیا اور آپریشن کرنے والی ٹیم کو مکمل سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ان افسروں کی درخواست پر رات کو ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی پولیس کی کم نفری ہونے پر تحریک کے کارکنوں کے بجائے زیر تعلیم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں سے تصادم ہوا بعد ازاں آپریشن جاری رہا اس دوران بوتلیں اور پتھر لگنے سے سرکاری عملہ کے کچھ لوگ زخمی ہوئے جس کے بعد آپریشن بند کر دیا گیا سول اور پولیس کے افسروں کی رات گئے میٹنگ ہوئی اور دوبارہ پوری طاقت کے ساتھ آپریشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس پلان پر پولیس اور سول انتظامیہ کی اعلی کمان نے صوبے کی اعلی کمان کو بھی آگاہ کیا گیا اور اعلی حکام کو بھی اعتماد میں لیا گیا اور جس میں صوبے کی اعلی کمان کو بتایا گیا طاہرلقادری کے اداروں اور رہائش گاہ میں مسلح لوگ موجود ہیں جو علاقے کو نو گو ایریا بنانا چاہتے ہیں اور وہ آپریشن کے دوران مسلح مزاحمت کر سکتے ہیں اور باقی بچنے والی روکاوٹوں کو ختم کرایا جائے جس کے لیے پولیس کی بھاری نفری ا یلیٹ فورس اور پولیس کمانڈوز درکار ہوں گے جس کے لیے گولی کا جواب گولی سے دینا پڑا تو اس کی اجازت دی جائے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پر وزیر قانون کو بھی آگاہ کیا گیا ڈی سی او سے لے کر چیف سیکر ٹری تک اور ایس ایچ او سے لے کر آئی جی تک سب آگاہ تھے اور یہ ہو نہیں سکتا کہ صوبے کی اعلی قیادت کو نہ اعتماد میں لیا گیا ہو جہاں تک مظاہرین پر فائرنگ کرنے کے لیے حکم جاری کرنے کا تعلق ہے تو ماضی میں اس کی اجازت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے حاصل کی جاتی تھی اب یہ ا ختیارات ڈی سی او کے پاس ہونے چاہیں مگر نہیں ہیں پولیس آرڈینینیس ۳۰۰۲ نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی قید سے آزاد کر دیا ہے اب موقع کی مناسبت سے گولی چلانے کی اجازت ایس ایچ او لے کر ایس ایس پی تک اور ڈی پی او سے لے کر آر پی او تک اور ڈی آئی جی سے لے کر سی سی پی او تک سب خود کو آزاد سمجھتے ہیں لیکن اتنے بڑے مجمع پر فائر کھولنے کا فیصلہ اکیلا ایس پی یا ڈی آئی جی نہیں کر سکتا وہ سی سی پی او یا آئی جی کے ذریعے اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو میسر نہ تو وزیر قانون یا وزیر داخلہ سے اجازت لینے کے پابند ہیں مگر گزشتہ روز کے سانحہ میں پولیس کو مدد کے لیے طلب کرنے والے ڈی سی او اور ڈی جی ایل ڈی اے دونوں منظر سے غائب ہیں اگر مظاہرین پر گولیاں چلانے کا سراغ لگانا درکار ہو تو یہ دونوں افسر حکم دینے والے کا پتا بتا سکتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -