عراق میں جنگجوؤں کے خلاف امریکہ اور ایران کا فوجی اتحاد

عراق میں جنگجوؤں کے خلاف امریکہ اور ایران کا فوجی اتحاد

  

واشنگٹن(اظہر زمان، تجزیاتی رپورٹ)افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں اپنے ہیڈکوارٹر اور مرکزی کمان کے ٹوٹنے یاکمزور پڑنے کے بعد القاعدہ اب اپنی ایک نئی شکل میں دنیا کیلئے خطرے کا باعث بن گئی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادی یورپی ممالک ،عراق، شام اواس کے آس پاس القاعدہ کی مرکزیت سے آزاد اس کی چند ایک فرنچائز تنظیموں کے آرگنائزہونے اور کامیابیاں حاصل کرنے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پہلے شام کے صدر بشارالاسد کو ایک آمر قرار دے کر اس کے خلاف مزاحمت کو جمہوری تحریکیں سمجھ کر اپوزیشن کا ساتھ دیا لیکن اس اپوزیشن میں القاعدہ کی فرنچائز انتہا پسند تنظیموں کے موثر ہونے کے بعد ہاتھ کھینچ لیا ۔ ادھر عراق میں ابوبکر البغدادی کی قیادت میں ’’دولت اسلامیہ فی العراق والشام‘‘ کی یلغار نے خطرے کی نئی گھنٹیاں بجادی ہیں ان فتوحات نے مشرق وسطیٰ کا سیاسی نقشہ تبدیل کردیا ہے اور واضح امکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ کئی عشروں کے مخالف امریکہ اور ایران اس خطے میں اور خصوصاً عراق میں ایک دوسرے کے ساتھ فوجی تعاون کے ساتھ چلیں گے۔ایک تازہ اطلاع کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان فوجی اتحاد قائم کرنے کے لئے ابتدائی رابطہ ہوچکا ہے۔

امریکی ماہرین کے مطابق امریکہ کا فرقہ بندی سے کوئی تعلق نہیں ہے اسے صرف انتہا پسندی سے مسئلہ ہے۔اس وقت مبینہ طور پر عراق اور شام میں اٹھنے والی انتہا پسند تنظیمیں جو القاعدہ کی نئی صورتیں ہیں مبینہ طور پر وہا بی عقیدے سے متعلق زیادہ ہیں۔ عراق اور شام میں ان کی کارروائیوں سے زیادہ ترشیعہ آبادی متاثر ہورہی ہے۔ ایران اپنے ہم عقیدہ باشندوں کا تحفظ چاہتا ہے جبکہ امریکہ شیعوں کے خلاف کارروائیاں کرنے والی انتہا پسند تنظیموں کا مخالف ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال نے امریکہ اور ایران کو کم از کم عراق اور شام میں مشترکہ فوجی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ابھی شام میں سرکاری فوجوں کو اپوزیشن کے خلاف جو تازہ کامیابی ملی ہے اس کا ایک سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ وہاں انتہا پسندوں کے بارے میں مختاط ہوگیا ہے جہاں تک عراق کا تعلق ہے اس کے بارے میں صدر اوبامہ نے بالکل واضح کردیا ہے کہ وہاں پہلے کی طرح دوبارہ امریکی فوج حکومت کی مدد کے لئے نہیں جائے گی۔ تاہم اوبامہ انتظامیہ نے وہاں انتہا پسندوں کی بڑھتی ہوئی شورش کا قلع قمع کرنے کیلئے اس کی مالی اور فوجی امداد میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ اگرچہ امریکہ نے عراق میں 300 فوجیوں کا ایک دستہ بھیجا ہے لیکن اس کا مقصد جنگ میں حصہ لینے کی بجائے امریکی سفارت خانے اور تنصیبات کا تحفظ ہے وہاں بغدادی کی پے درپے فتوحات کے بعد امریکی وزیرخارجہ کیری نے اعلان کیا ہے کہ شمالی عراق میں بغدادی کی یلغار کو روکنے کیلئے وہاں ڈرون حملے بھی کئے جاسکتے ہیں۔

دوسری طرف ایران کو بھی عراق میں موجود اپنے ہم عقیدہ شیعوں کی فکر لاحق ہے جو وہابی عقیدے کے انتہا پسند جنگجوؤں کے خلاف عراقی حکومت کو امداد دینے کیلئے تیار ہو رہا ہے۔ سکیورٹی کے بین الاقوامی ماہرین جان کیری کے اس اشارے کو بہت اہمیت دے رہے ہیں کہ عراق میں ایک عرصے کے مخالف امریکہ اور ایران مشترکہ فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے اور ان کے درمیان ایٹمی مسئلے پر سمجھوتے کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔

القاعدہ کی افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ٹوٹ پھوٹ اور پھر مشرق وسطیٰ میں اپنی فرنچائز تنظیموں کے ذریعے نئی شکل میں ابھرنے کی داستان بہت دلچسپ ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے نائن الیون کے واقع کے بعد القاعدہ کی سرکوبی کیلئے افغانستان کارخ کیا اور یہاں قائم اس کی حامی طالبان کی حکومت گرادی جس نے اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اب موجودہ سال کے آخر میں امریکہ سمیت اس کے اتحادی اپنا مشن مکمل کرکے بتدریج افغانستان سے انخلاء شروع کررہے ہیں۔ اس دوران امریکہ نے متعدد بار بڑے فخر کے ساتھ یہ دعویٰ کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے سرحد ی علاقوں میں موجود القاعدہ کا ہیڈکوارٹر جو دنیا بھر میں پھیلے اپنے کارندوں اور فرنچائز تنظیموں کو ہدایات جاری کرتا تھا توڑدیا گیا ہے ۔ خصوصاً اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس کی باقی ماندہ ہائی کمان کمزور ہوکر تتربتر ہوگئی ہے۔ اسامہ کے نائب ایمن الظواہری نے اپنے سربراہ کی ہلاکت کے بعد جو قیادت سنبھالی وہ موثر نہیں رہی۔ امریکہ کے اس دعوےٰ میں خاصہ وزن ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں القاعدہ کی مرکزی کمان اب باقی نہیں رہی۔ اگر چند ایک لیڈر موجود ہیں تو ان کا کنٹرول برائے نام ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں موجود حقانی نیٹ ورک القاعدہ کا ایک مضبوط ونگ ہے جسے کافی نقصان پہنچا کر کمزور کردیا گیا ہے لیکن اسے مکمل ختم نہیں کیا جاسکا۔

اس دوران ایک نئی پیش رفت ہوئی۔ القاعدہ کا مرکز کمزور ہونے کے بعد اس کی فرنچائز تنظیموں نے مرکز سے بغاوت کرکے زیادہ آزادانہ طریقے سے مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ۔ نائیجریا اور نواحی افریقی ممالک میں بوکو حرام نے اغواء کی وارداتوں کے ذریعے حکومتوں کے ناک میں دم کررکھا ہے۔

ادھر عراق اور شام کی شورش سے فائدہ اٹھا کر وہاں القاعدہ کے دہشت گرد گروپوں نے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کرکے کچھ علاقوں پر نیا کنٹرول حاصل کرلیا۔ یہ تمام دہشت گرد گروپ بغیر کسی مرکزیت کے مزاحمتی تحریکوں میں اپنا کردار ادا کررہے تھے۔ لیکن حال ہی میں ایک ایسی پیش رفت ہوئی جس نے پوری دنیا کیلئے خطرے کا الارم بجادیا۔ یہ چھوٹے چھوٹے گروہ جن میں ’’القاعدہ اِن عراق‘‘مجاہدین شوریٰ کونسل’’جیش الفاتحین‘‘،’’جندالصحابہ، کا تبیان انصار الواحد و السنت اور جیش الطائفہ المنصورہ‘‘ شامل تھے ماضی میں القاعدہ کی کمان میں کام کرنے والے ایک نسبتاً گم نام جنگجو ابو بکر البغدادی کی قیادت میں اکٹھے ہوگئے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس لیڈر کا تعلق بغداد سے ہے جس نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد ایمن الظواہری کی قیادت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

اب عملی صورتحال یہ ہے کہ ابو بکر البغدادی القاعدہ ہی کے مقاصد کو آگے بڑھارہا ہے لیکن وہ آزاد حیثیت میں اپنی نئی تنظیم کے بیتر تلے کام کررہا ہے جسے اختصار میں ISIL یا ISIS کہہ سکتے ہیں۔ دراصل یہ ایک نئی اسلامی مملکت کانام ہے جو اپنے تصور کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے، اس کا عربی میں اصل نام’’الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام‘‘ہے ۔ جسے مغربی دنیا میں ISLAMIC STATE IN IRAQ AND SYRIA(ISIS)کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اس کا بنیادی مقصد پہلے مرحلے میں عراق اور شام کی حکومتوں کو ختم کرکے وہاں اپنی مرضی کی اسلامی ریاست قائم کرنا ہے اور بعد میں اس کا دائرہ دوسرے ممالک تک وسیع کیا جائے گا جس میں سب سے اہم لبنان اور کویت ہیں۔ یہ تنظیم نظریاتی اعتبار سے وہابی تحریک کی حامی ہے۔

واشنگٹن کے ایک تھنک ٹینک’’انسٹی ٹیوٹ فاردی سٹڈی آف وار‘‘کی ایک ماہر جیسیکا لیوس کے خیال میں ISIS ایک دہشت گرد تنظیم کی بجائے ملیشیا ہے جو فوجی حیثیت سے عراق اور شام کے علاقوں کو فتح کرنے کیلئے لڑائی میں مصروف ہے۔ ان کے مطابق یہ تنظیم وسیع مالیاتی حیثیت کی حامل ہے اور اس کے پاس بے پناہ افرادی قوت ہے جس کی بناء پر اسے کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس تنظیم کے شرکاء کے تانے بانے سودیت یونین کے خلاف افغانستان میں مزاحمت سے جاملتے ہیں۔ اب عراق اور شام کی جنگ میں اس تنظیم کے مقاصد یہ ہیں کہ یہاں کی حکومتوں کو ختم کیا جائے شیعہ آبادی کو کچل دیا جائے یا اسے نقل مکانی پر مجبور کردیا جائے اور پھر بالآخر ان کے سنی یا وہابی عقیدے کے مطابق خالص اسلامی ریاست قائم کی جائے۔

تاہم امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ISIS کو ایک ایسی دہشت گرد تنظیم قراردیتے ہیں جو پوری دنیا کی امن پسند قوتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ صدر اوبامہ نے اس خطرے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عراقی حکومت کی مالی اور فوجی امداد میں اضافہ کرے گا اور دیگر یورپی ممالک کو بھی ایسا کرنا چاہےئے تاکہ عراق کو اس تنظیم کے قبضے سے بچایا جائے۔

موصل کے شہر پر قبضے کیلئے اس تنظیم نے جو ظلم وستم کئے ہیں ان کی ویڈیو ٹیپ امریکی میڈیا پر جاری ہوئی ہیں جن میں تنظیم کے جنگجو سینکڑوں عراقی فوجیوں ،عورتوں اور بچوں کو ریوڑ کی طرح ہانک کرلے جا رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان میں سے بہت سے افراد کا سرقلم کرنے کی غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

امریکی میڈیا اور تجزیہ نگاروں میں یہ تاثر عام ہے کہ جس رفتار سے یہ تنظیم آگے بڑھ رہی ہے وہ بغداد پر قبضے میں کامیاب ہوجائے گی۔ ادھر امریکی انتظامیہ کی خواہش کے مطابق شام میں بشارالاسد کی حکومت بھی ختم ہوجائے گی لیکن اس کی جگہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک یہ تنظیم اقتدار سنبھال سکتی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -