سانحہ کے بعد طاہرالقادری نے حوصلے کے ساتھ بڑے پن کا ثبوت دیا ، شجاعت حسین

سانحہ کے بعد طاہرالقادری نے حوصلے کے ساتھ بڑے پن کا ثبوت دیا ، شجاعت حسین

  

لاہور( جنرل رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم سینیٹر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ سانحہ لاہور کے بعد اگر طاہرالقادری چاہتے تو ملک کے اندر آگ لگا سکتے تھے لیکن انہوں نے بڑے حوصلے اور تحمل کے ساتھ بڑے پن کا ثبوت دیا ہے اور اس خونی کارروائی کیخلاف احتجاج کرنے والوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی ہے اور پرامن راستہ سے اپنی انقلاب کی منزل کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے ان کے اس مشن کو اپنایا ہے، ڈاکٹر صاحب انقلابی اصلاحات کیلئے نیک نیتی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ہمیں بھی نیک نیتی کے ساتھ ان کا ساتھ دینا چاہئے، ہم ان کے اس مشن میں مکمل طور پر ان کے ساتھ ہیں ان کا جو فیصلہ ہو گا ہم ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ انقلاب سالوں میں نہیں مہینوں میں آئے گا، موجودہ جمہوریت قوم سے مذاق ہے، آئین میں سب سے پہلے قرارداد مقاصد میں تحریر ہے کہ عوام کی سیاست میں شرکت ضروری ہے۔ وہ سجادہ نشین گولڑہ شریف پیر سید غلام معین الحق گیلانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ طارق بشیر چیمہ ایم این اے اور سینئر صوبائی نائب صدر محمد بشارت راجہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اصل جمہوریت وہ ہے جس میں عوام کو اقتدار میں شامل کیا جائے، موجودہ حکمران ملک میں بلدیاتی انتخابات نہ کرا کر عوام کو سیاست اور اقتدار میں شرکت سے محروم رکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کے محلہ میں نالی خراب ہو جائے تو کیا وہ ایم این اے کے پاس جائے گا؟ چودھری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ ہم آئین سے متصادم کوئی فیصلہ نہیں کریں گے، ہر سیاسی جماعت کو اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اور ڈاکٹر طاہر القادری کی انقلابی اصلاحات 10 نکاتی ایجنڈا پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے ملک میں دن بدن بڑھتی مہنگائی، بیروزگاری اور بدامنی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی کے جان و مال کا تحفظ اور اس کو بنیادی ضروریات کی فراہمی حکومت کا فرض ہے لیکن حکمران اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کر رہے۔ چودھری شجاعت حسین نے ایک سوال پر کراچی میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے وہاں اپنی جانیں قربان کرنے والے شہداءکو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ طالبان سے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہونے کا امکان نہیں۔

مزید :

صفحہ اول -