اپوزیشن کا پولیس فائرنگ سے عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر احتجاج ،ایوان سے واک آﺅٹ

اپوزیشن کا پولیس فائرنگ سے عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر احتجاج ،ایوان ...

  

                                لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے پولیس کی فائرنگ سے عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت اور رےاستی تشدد کے خلاف ایوان کی کاروائی سے احتجاجاً واک آﺅٹ کر کے احتجاج کیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان دونوں سے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیاہے دوسری جانب پیپلز پارٹی کی ایم پی اے فائزہ ملک نے عوامی تحریک کے سیکرٹریٹ مےں پولیس تشدد کے خلاف پنجاب اسمبلی کے سیکرٹریٹ میں ایک تحریک التواءکار بھی جمع کروا دی ہے۔ جبکہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے اپوزیشن کو معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ پرتشدد واقعات کے حقائق سامنے لائے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید نے تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں پر پولیس تشدد اورمردو خواتین کارکنوں کی ہلاکت پر ایوان کے اندر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے حکمران خود جمہوریت کے دشمن ہیں اور جس طرح سے ریاستی دہشتگردی کی گئی ہے اس سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ پنجاب کے حکمران خود ہی جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے کی سازش میں ملوث ہیں حکمرانوںنے جلا وطنی کے دوران کچھ اور نہیں صرف بادشاہت سیکھی ہے اوریہ اپنے کسی بھی مخالف کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں اور فوج سمیت کسی بھی ادارے کو بھی ساتھ لے کر نہیں چلنا چاہتے ۔ انہوںنے کہا کہ حکمرانوں کے غیر جمہوری رویے کی وجہ سے پنجاب بھر میںایسی آگ لگ چکی ہے جس کے کچھ بھی نتائج نکل سکتے ہیں بعد اذاں پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمو دالرشید نے کہا کہ اس واقعے کے ذمہ دارشہباز شریف اور رانا ثنا اللہ خان ہیں جنہیں فوری مستعفی ہو جانا چاہیے او رتحریک انصاف ہر فورم پر حکومت کے اس رویے کی مذمت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوامی تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں ۔جبکہ اس سے قبل ایوان میں اپوزیشن اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے واقعے کے خلاف شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی اور ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے ‘ قاتل حکومت ہائے ہائے ‘ غنڈہ گردی نہیں چلے گی کے نعرے بھی لگاتے رہے اور احتجاجاً ایوان کی کارروائی سے واک آﺅٹ کر دیا۔ اس واقعہ پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں کہ وہاں پر مسلح افراد موجود تھے اور طاہر القادری کی جماعت کے لوگ قرآن پاک پر ایک مخصوص تحریر کے ذریعے حلف لے رہے تھے اور ہم یہ تحریر بھی قوم کے سامنے لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف پاک افواج اور سکیورٹی ادارے قبائلی علاقوں میں نو گو ایریا ختم کرانے کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں تو دوسری طرف کوئی لاہور میں نو گو ایریا بنائے تو ایسا نہیں ہونے دینگے ۔

مزید :

صفحہ اول -