خواتین ایکٹ 2010میںترمیم کی ضرورت ہے،خاتون صوبائی محتسب

خواتین ایکٹ 2010میںترمیم کی ضرورت ہے،خاتون صوبائی محتسب

  

لاہور (نمائندہ خصوصی ) گورنر پنجاب چودھر ی محمد سرور کو خاتون صوبائی محتسب پنجاب میرا فیلبوس نے خواتین ایکٹ 2010کے تحت ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی -اس موقع پر رجسٹرار اور لیگل کنسلٹنٹ بھی موجودتھے-خاتون صوبائی محتسب نے گورنر پنجاب کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ انہیں پنجاب کے مختلف سرکاری و نجی اداروں میں ملازمت کرنے والی خواتین کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے پر 45درخواستیں موصول ہوئیں جن پر فوری ایکشن لیا گیا اور درخواست گذار خواتین کو ریلیف فراہم کیا گیا-میرافیلبوس نے بتایا کہ ملازمت پیشہ خواتین کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں پر انکوائری انتہائی خفیہ طریقے سے کی جاتی ہے جس کا طریقہ کار تھانے اور کچہریوں سے بالکل مختلف ہے- انہوں نے گورنر پنجاب کو بتایا کہ خواتین ایکٹ 2010میں فوری ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ ملازمت پیشہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جاسکے اور اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کے تمام اضلاع میں خاتون صوبائی محتسب کے دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ ملازمت کرنے والی خواتین کو بلاتعطل انصاف کی فراہمی ممکن ہوسکے-    بعدازاں میرا فیلبوس نے گورنر پنجاب کو ادارے کے انتظامی مسائل سے بھی آگاہ کیا جنہیں گورنر نے فوری حل کرنے کی یقین دہانی کروائی-

خاتون صوبائی محتسب

مزید :

صفحہ آخر -