پچھلے ماہ31ایڈیشنل سیشن ججز نے 7ہزار299مقدمات نمٹائے

پچھلے ماہ31ایڈیشنل سیشن ججز نے 7ہزار299مقدمات نمٹائے

  

لاہور(کامران مغل)گزشتہ ماہ مئی میں سیشن جج اور31ایڈیشنل سیشن ججز نے 7ہزار299مقدمات نمٹائے ۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق افتخار نے کارکردگی رپورٹ جاری کردی ،جس کے تحت سب سے زیادہ 1ہزار32مقدمات ایڈیشنل سیشن جج صفدر علی بھٹی نے نمٹائے جبکہ سب سے کم 41مقدمات ایڈیشنل سیشن جج نوید اقبال نے نمٹائے ہیں۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طارق افتخار نے 318مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج ارشد علی نے 100مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج نوید اقبال نے41مقدمات نمٹائے ،ایڈیشنل سیشن جج بشریٰ زمان نے 208 مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج عبدالقیوم خان نے 217 مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج خالد محمود بھٹی نے 197مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج غفار مہتاب نے 1ہزار22 مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج اعجاز بٹر نے 191مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج عبدالستار لنگاہ نے 150مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج صفدر علی بھٹی نے 1ہزار 32مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج علی ذوالقرنین نے 156مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج طارق خورشید نے 209مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج شوکت کمال ڈار نے 242مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج علی نواز نے 183مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج چودھری غلام مرتضیٰ نے 171مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج خاور رشید نے 204مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج صادق مسعود نے 189مقدمات نمٹائے۔ایڈیشنل سیشن جج شازب سعید نے 87مقدمات نمٹائے۔ایڈیشنل سیشن جج عرفان حیدر نے 162مقدمات نمٹائے۔ ایڈیشنل سیشن جج غلام عباس سیال نے 99مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج عارف محمود خان نے 193مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج قمر الزمان نے 168مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج اسلم بھٹی نے 138مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج شہزاد رضا نے 229مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج ذوالفقار علی نے 169مقدمات نمٹائے۔ ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی قمر نے 186مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج رانا زاہد اقبال نے 185مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج سلیم اقبال نے 216مقدمات نمٹائے ۔ایڈیشنل سیشن جج ندیم انصاری نے 95مقدمات نمٹائے۔ایڈیشنل سیشن جج مسعود حسین نے 144مقدمات نمٹائے ایڈیشنل سیشن جج چودھری فرخ حسین نے 195مقدمات نمٹائے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج ناصر جاوید نے 203مقدمات نمٹائے ہیں۔

 رپورٹ جاری

مزید :

صفحہ آخر -