پنجاب اسمبلی،بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن کی حکومت پرشدید تنقید

پنجاب اسمبلی،بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن کی حکومت پرشدید تنقید

  

لاہور( نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتی رہی لیکن حکومتی ارکان بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے رہے اور اپنی قیادت کی تعریفیں کرتے رہے بجٹ پر بحث کے دوران حکومت او راپوزیشن کے ارکان کے درمیان شیم شیم اور جھوٹے جھوٹے کے نعروں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزپنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوسرے روز اپوزیشن جماعت تحریک انصاف کے رکن میاں اسلم اقبال نے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کا بجٹ جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے حکمرانوں نے 2013ءمیں ایک ارب سے ایک ہزار کمپیوٹر لیبز بنانے کا اعلان کیا مگر اس پر آج تک عمل نہیں ہوسکا جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور ہیں ۔ حکمرانوںنے تعلیم کے بجٹ میں اضافہ نہیں بلکہ کمی کی ہے کیونکہ یہ بجٹ گزشتہ سال6.68ارب تھا اواب اسے 6.67ارب کر دیا گیا ہے جس سے یہ بات سامنے آتی ہے حکمران صرف شعبدہ بازی کے بجٹ میں اضافہ کر رہے ہیں باقی بجٹ پیچھے جارہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ حکومت نے لاہور میں صوبے کے دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والی تین یونیورسٹیز کو کیمپس بنانے کی اجازت دی ہے لیکن میر امطالبہ ہے اس کی انکوائری کرائی جائے کیونکہ وزراءنے پیسے لے کر کیمپس بنوائے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہیلتھ انشورنس کا وعدہ کیا گیا لیکن ایک شخص کو بھی یہ کارڈ جاری نہیں ہو سکا۔ حکمرانوں کو عوام کی بیماری‘ غربت ‘ مہنگائی سے کوئی غرض نہیں انک کو صرف اپنی کرپشن کی فکر ہے اور انکی ساری توجہ پل بنانے پر ہے کیونکہ حکومت بینک ‘ سریا ‘سیمنٹ اور شوگر مافیا پر مبنی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اگر طاہر القادری کے گھر کے باہر سے بیرئیر ہٹائے جارہے ہیں تو شریف برادران کے ماڈل ٹاﺅن‘ ڈیفنس اور جاتی امراءمیں لگائے گئے بیرئیر کیوںنہیں ہٹائے جاتے ۔ (ن ) لیگ کے رانا ارشد نے کہا کہ پنجاب حکومت نے عوام دوست بجٹ دیا ہے اور ہم نے سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دی ہے ہم نے پہلے اسی ہزار اور اب تیس ہزار ایجوکیٹرز بھرتی کئے ہیں تاکہ غریب کے بچوں کو معیاری تعلیم مل سکے ۔پنجاب میں ایجوکیشن فاﺅنڈیشن کے ذریعے 15لاکھ بچوں کومفت تعلیم سہولت دی جارہی ہے۔ (ن) لیگ نے چوہدری سرفراز افضل نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ نو جوانوں‘ خواتین او رغریب آدمی کا بجٹ ہے اور 196ارب روپے کھیلوں کے نئے میدان اور سپورٹس کی سرگرمیوں کےلئے رکھے گئے ہیں۔ موجودہ حکومت کا مشن صرف اور صرف عوام کی خدمت ہے ۔

بجٹ پر بحث

 

مزید :

صفحہ آخر -