قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر حکومت پر کڑی تنقید

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر حکومت پر کڑی تنقید

  

                                        اسلام آباد(اے این این) قومی اسمبلی میں منگل کوبھی وفاقی بجٹ پرعام بحث جاری رہی تاہم ایوان میں زیادہ تر شمالی وزیرستان آپریشن اورپولیس کے ہاتھوں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکتوںکامعاملہ چھایارہا،اپوزیشن کی سانحہ ماڈل ٹاو¿ن لاہورپرحکومت پرکڑی تنقید،قائدحزب اختلاف خورشید نے دعویٰ کیا ہے کہ طاہر القادری کی آمد پر حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، بعض اراکین تو انہیں مارنے کے چکر میں ہیں ، آفتاب احمد شیرپاﺅ نے شمالی وزیرستان آپریشن کو سمجھ سے بالاتر قراردیا،اعتماد میں نہ لئے جانے کاشکوہ۔ ایوان کے اجلاس میں بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے آفتاب احمد شیرپاﺅ نے کہا کہ شمالی وزیرستان آپریشن درست نہیں ہے ، اپنے ہی ملک میں اپنے ہی عوام کیخلاف آپریشن سمجھ سے بالاتر ہے ، حکومت نے اپوزیشن تو دور کی بات اپنے اتحادیوں کو بھی اعتماد میں نہیں لیا ، چار اتحادی جماعتوں نے قرارداد پر دستخط ہی نہیں کئے ، شمالی وزیرستان کی نگرانی کے لئے پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دی جائے ، داخلی بے گھر افراد کا بحران المیہ سے کم نہیں ہو گا، آپریشن کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے ، نوازشریف کو خود پشاور جاکر جرگہ کی صدارت کرنی چاہیے ،موجودہ حکومت کو خود اپنے بھاری مینڈیٹ سے خطرہ ہے ، پنجاب کے بل بوتے پر ملک پر حکمرانی کرنا خطرناک عمل ہے ،اس سے وفاق کو سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ، تینوں صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ، اس دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے وضاحت کی کہ کئی اہم عہدوں پر خیبرپختونخوا کے افسران تعینات ہیں اور یہ تاثر درست نہیں کہ وفاق تین صوبوں کو نظرانداز کررہا ہے ، براہ کرم صوبائیت کی بات نہ کی جائے ۔ آفتاب شیرپاﺅ نے کہاکہ میں وہی بول رہا ہوں جو حقائق ہیں، تینوں صوبے وفاق سے ناراض ہیں ، فاٹا سے پہلے ہی گیارہ لاکھ افراد نقل مکانی کرچکے ہیں ۔احسن اقبال نے سانحہ لاہور ک حوالے سے کہاکہ انسانی جانوں کے ضیاع پر ہمیں دکھ اورافسوس ہوا ہے ، سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں ،ایک دن پہلے اس ایوان میں اظہار یکجہتی کی فضاءپیدا ہوئی تھی ،ہم نہیں چاہتے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو، اس واقعہ میں صوبائی حکومت کا ہاتھ نہیں ہے ، طاہر القادری کی رہائش گاہ کے آس پاس تجاوزات کیخلاف پولیس نے آپریشن کیا جس پر پولیس فائرنگ کا نشانہ بنی ، پہلی گولی طاہر القادری کے گھر سے چلی ہے جس کی چھت پر بنکر بنے ہوئے ہیں ، پولیس اہلکار خود شدید زخمی ہوئے ہیں ، پولیس جب مسلح افراد کو گرفتار کرنے گئی تو انہوں نے خواتین کو پناہ اور ڈھال بنا لیا ، جوابی فائرنگ سے ہلاکتیں ہوئیں ، ہم واقعہ کی شفاف تحقیقات کریں گے ، اس سانحہ میں شرپسندوں کا ہاتھ خارج ازامکان نہیں ہے ، یہ سانحہ انتقامی کارروائی نہیں ہے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت کی صفائی پنجاب کو بچانے کے لئے ہے ، طاہر القادری کی آمد پر حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے ، بعض اراکین تو طاہر القادری کو مارنے کے چکر میں ہیں ، طاہر القادری کے گھر پر بیریئرز ہیں تو کیا وزیراعلیٰ ہاﺅس لاہور ،رائے ونڈ محل اور مری ہاﺅس پر بیریئرز نہیں ہیں ، طاہر القادری پانچ سال باہر رہے تب تو انہیںبیریئرز نظر نہیں آئے ، قتل عام خود حکومت نے کیا ہے ، پنجاب حکومت عوام سے اہل لاہورسے معافی مانگے ، ذمہ داروں کو فی الفور سزا دی جائے ، حکومت دو تہائی اکثریت کے گھمنڈ میں ہے ،حکومت غلطی تسلیم کرے ۔ تحریک انصاف کے عارف علوی نے کہاکہ سانحہ لاہور سراسر حکومت کی غلطی ہے ،حکومت کی وضاحتیں بے جا اورغلط ہیں ،نہتے شہریوں کو مار کر صفائیاں پیش کی جارہی ہیں ۔ احسن اقبال نے کہاکہ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کا حکم دیدیا ہے ۔ فہمیدہ مرزا نے بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بجٹ زمینی حقائق سے متصادم ہے ، بجٹ عوامی امنگوں کا عکاس نہیں ہے ، ترجیحات کا صحیح تعین نہیں کیا گیا ، سوات آپریشن کافیصلہ پارلیمنٹ نے کیا تھا ، شمالی وزیرستان کے بارے میں کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوںکو بھی شامل کیا جائے ، جمہوریت کی مضبوطی پارلیمنٹ میں ہے، ملک کی پچاس فیصد سے زائد آبادی خط غربت سے نیچے رہ رہی ہے ، فاٹا اور بلوچستان کو نظراداز کردیا گیا ہے ، شرح آبادی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، بی آئی ایس پی ہمارا شروع کردہ پروگرام تھا جسے مجبوراً حکومت چلا رہی ہے ، ہم نے غربت سروے کرایا ، میٹروبس چلانے سے غربت ختم نہیں ہوسکتی ، لوگ روٹی کو ترس رہے ہیں ، لیپ ٹاپ سکیم قابل اعتراض ہے ، یہ بھوکوں کو کیک کے خواب دکھانے والی بات ہے ، تعلیم کے شعبے میں ایمرجنسی لگانے کی ضرورت ہے ،عوام کو ادویات دستیاب نہیں ہیں، لوگ ہسپتالوں میں دوائیاں نہ ملنے سے مررہے ہیں اور یہ مہنگی میٹرو بسیں چلا رہے ہیں ، حکومت کوتمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑے گا ،حکومت بجٹ اہداف پورے نہیں کرسکی ، فنانس کمیشن میں سندھ کا حصہ بڑھایا جائے کراچی کی صنعتوں کو بحال کیا جائے ۔

مزید :

علاقائی -