پٹوار سرکل جلانے ،جعلی رجسٹریاں بنانے میں ملوث سٹاف کیخلاف 2سال کا روائی مؤخر

پٹوار سرکل جلانے ،جعلی رجسٹریاں بنانے میں ملوث سٹاف کیخلاف 2سال کا روائی ...

  

لاہور (اپنے نمائندے سے)محکمہ ریونیو تحصیل سٹی کے موضع شاہدرہ کے پٹوار سرکل کو آگ لگا کر جلانے اور 300 سے زائد جعلی رجسٹریوں کو تیار کرتے ہوئے انتقالات کی تصدیق کروانے میں ملوث،ریونیو سٹاف کے خلاف2سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی تاحال کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جا سکی300جعلی رجسٹریوں کی تصدیق اور پٹوار خانے کو آگ لگانے میں ملوث پٹواری کو دوبارہ نواں کوٹ سرکل الاٹ کرتے ہوئے محکمہ ریونیو میں لاقانونیت کی بدترین مثال قائم کر دی گئی سابق سینئر ممبر سلیم سعید،ڈی سی او نورالامین مینگل،اے ڈی سی نادر چھٹہ اور اسسٹنٹ کمشنر سٹی سائرہ عمر کی ہدایتیں،انکوائری اور پٹواری کو نوکری سے فارغ کیے جانے کی رپورٹیں تک غائب کر دی گئی محکمہ اینٹی کرپشن کو بھجوائے جانے والے کیس کو بھی سرخ فیتے کی نذر کر دیا گیا حکومت پنجاب کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے میں ملوث ریونیو سٹاف اور لینڈ مافیا نے لاکھوں روپے کے نذرانے کے عوض محکمہ اینٹی کرپشن کے تفتیشی افسران کو خریدلیا۔ نئے آنے والے افسران اس بدترین وقوعہ سے مکمل طور پر لاعلم دیکھائی دئیے۔3اگست2012کو پٹوار سرکل شاہدرہ کو رات گئے پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کی کوششیں کی گئی جس میں تمام رجسٹری ریکارڈ جلایا جانا تھا تاہم قدرتی طور پر کمرے میں اےئر کولر کی موجودگی کے باعث پانی بہہ جانے پر آگ بجھ گئی اس سانحہ کا سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب سلیم سعید نے نوٹس لیا اور ڈی سی او لاہور نور الامین مینگل اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر نادر چھٹہ کو فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ابتدائی تحقیقات کے بعد معلوم ہوا کہ پٹواری حلقہ ممتاز علی جو کہ اس وقت عمرہ کی ادائیگی پر نکلا تھا نے مختلف اوقات میں جعلی اور بوگس رجسٹریاں تیار کرواتے ہوئے مختلف ریونیو افسران اور قانونگو صاحبان سے ان انتقالات کی تصدیق کروائی تھی اور آگ لگانے کا وقوعہ بھی اس وجہ سے پیش آیا ۔تاہم سینئر ممبر سلیم سعید، ڈی سی او نور الامین مینگل،ایڈیشنل کلکٹر نادر چھٹہ اور اسسٹنٹ کمشنر سائرہ عمر کی وقفے وقفے سے تبدیلی کے بعد اس سانحہ میں ملوث اور روپوش ہونے والے ریونیو سٹاف بھی دوبارہ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے ذریعے واپس آیا اور محکمہ ریونیو کی ایک مخصوص لابی کی ذریعے پٹوار سرکل نواں کوٹ سمیت دیگر قانون گوئی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایک اطلاعات کے مطابق محکمہ ریونیو کے اس وقوعہ میں 4ریونیو افسران کے نام بھی شامل ہیں ۔ اس کیس کی2ایف آئی آر اس وقت تھانہ شاہدرہ میں اندراج کروائی گئی تھی جس میں ایک آگ لگنے پر نامعلوم افراد کے خلاف اور ایک جعلی اشٹام پیپر استعمال کرنے والے اشٹام سیلر کے خلاف تھی۔ بوگس رجسٹریوں کی بنیاد پر درج کیے جانے والے300سے زائد انتقالات کو بعد ازاں خارج کیا گیا اور دوبارہ نئے سرے سے عوام الناس سے سرکاری فیس وصول کرتے ہوئے رجسٹریوں کا انتقال کیا گیا۔

مزید :

علاقائی -