فیکٹری ایریا ماں بیٹی اور بیٹے کا قتل معمہ بن گیا نعش ورثا کے سپرد

فیکٹری ایریا ماں بیٹی اور بیٹے کا قتل معمہ بن گیا نعش ورثا کے سپرد

  

               لاہور(بلال چودھری)تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ میں ماں ،بیٹی اور بیٹے کا قتل ایک معمہ بن گیا،پولیس نے نعشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاکے حوالے کر دیںاور گھرانہ کے سربراہ پروفیسر عاصم کو ایک رات حوالات میں رکھ کر چھوڑ دیا۔تفصیلات کے مطابق غازی روڈ گلستان کالونی گلی نمبر کے رہائشی پروفیسر محمد عاصم کی پچاس سالہ بیوی فضیلت ،چوبیس سالہ بیٹی فائزہ اور بیس سالہ بیٹے فیضان کی نعشیں پیر کی رات کو گھر کے کمرے میں پائی گئی تھیں۔تفتیشی افسر سب انسپکٹرمحمد ذوالفقار کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کے لیے پولیس نے فرانزک ایکسپرٹس کی مددحاصل کر لی ہے جنہوں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں،بہت جلد فرانزک ٹیم کی جانب سے نتائج سامنے آجائیں گے اور سب کچھ واضح ہو جائے گا،پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ تینوں اموات کنپٹی پر پستول کی گولی لگنے سے ہوئی ہیں، جائے وقوعہ سے ایک پستول بھی ملا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے اس حوالے سے قتل کامقدمہ نمبر 967درج کیا ہے اور کیس کے ہر پہلو پر غور کر رہے ہیں۔متوفی افراد کی نعشوں کو ورثاکے حوالے کر دیا گیا ہے اور جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ یہ قتل ہے یا اجتماعی خودکشی ۔لاشوں کی تدفین کے لیے محمد عاصم کورہا کیا گیا ہے وہ ابھی شک کے دائرے میںہے۔اس حوالے سے پروفیسر عاصم نے "پاکستان"کو بتایا کہ اس کی بیوی اور بچے ڈیفنس کے پوش علاقہ میں شفٹ ہوناچاہتے تھے لیکن اس کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے جس پر اس نے دلبرداشتہ ہو کر یہ انتہائی قدم اٹھایاہے ۔متوفی فیضان کے اہل محلہ اوررشتہ داروں کے مطابق یہ خاندان ایک عرصہ سے یہاں رہ رہا ہے اور ان کا کسی سے کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہے۔ فیضان گلوکار بننا چاہتا تھا اور اس حوالے سے اس نے اپنی البم ریلیز کر کے انڈیا میں چند آرٹسٹوںکو بھجوائی تھیں اوربھارت جانے کے لیے ویزہ کا انتظار کر رہا تھا۔

 

مزید :

علاقائی -