الخیر یونیورسٹی سے نیشنل بُک فاﺅنڈیشن تک

الخیر یونیورسٹی سے نیشنل بُک فاﺅنڈیشن تک
الخیر یونیورسٹی سے نیشنل بُک فاﺅنڈیشن تک
کیپشن: nasir basheer

  

یہ23نومبر2013ءکی بات ہے۔ مَیں الحمراءمیں منعقد ہونے والی ایک ادبی تقریب میں شریک تھا۔ میرے دائیں طرف اسلام آباد سے آئے ہوئے ممتاز مزاحیہ شاعر اور میرے پرانے مہربان ڈاکٹر انعام الحق جاوید بیٹھے تھے۔ مَیں نے ان سے پوچھا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ریٹائر ہونے کے بعد ان دِنوں کیا کر رہے ہیں تو بولے:”الخیر یونیورسٹی بھمبر آزاد جموں و کشمیر کا وائس چانسلر ہوں“۔ جب انہوں نے بتایا کہ ان کی یونیورسٹی اردو میں ایم فل اور پی ایچ ڈی بھی کرواتی ہے، تو مَیں نے ازراہ مذاق کہا:”اس کا مطلب ہے کہ اب مجھے بھی حلقہ ¿ بگوش انعام ہو جانا چاہئے تاکہ مَیں بھی ڈاکٹر بن سکوں“۔ میری بات سن کر بولے:” وہ تو آپ پہلے ہی سے ہیں، لیکن ڈاکٹر بننے کے لئے اب پہلے ایم فل کرنا پڑتا ہے“۔ مَیں نے ترکی بہ ترکی کہا:”گویا اسلام آباد جانے کے لئے اب ضروری ہے کہ پہلے ہم بھاگ کر فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کو چھو آئیں“۔ بولے: ”یوں ہی سمجھ لیں“۔ پھر وہ میرا ہاتھ تھام کر پروفیسر ساجد نظامی کے پاس لے گئے جو الحمرا ہال نمبر3 کی ایک تقریب میں موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: ”نظامی صاحب! ناصر صاحب کانام ایم فل کے طلبہ میں لکھ لیں“۔ یوں ایم فل اردو میں میرا داخلہ ہو گیا۔ پہلے سمسٹر میں ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور ڈاکٹر رشید امجد کے علاوہ اپنے کئی ہم عصر استادوں کے لیکچر لئے۔ ظاہر ہے کہ اب مَیں ان سب کے حلقہ¿ تلامذہ میں شامل ہو گیا تھا۔

ابھی میرا ایم فل اور الخیر یونیورسٹی سے یہ رومانس اپنے ابتدائی مرحلے ہی میں تھا کہ خبر آ گئی کہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کو وزیراعظم پاکستان نے نیشنل بُک فاﺅنڈیشن کا منیجنگ ڈائریکٹر لگا دیا ہے....ڈاکٹر انعام الحق جاوید، اب الخیر یونیورسٹی میں نہیں ہیں، لیکن میرا اس یونیورسٹی سے رومانس ابھی تک چل رہا ہے۔ وہ حسرت کا سا حال ہے:

ہے، مشق ِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

گویا شاعری بھی ہو رہی ہے، کالم بھی لکھا جا رہا ہے، تدریسی ذمہ داریاں بھی نبھا رہا ہوں، ادبی تقریبات کو بھی وقت دے رہا ہوں۔

یکم جون کو پروفیسر ڈاکٹر ساجد نظامی صاحب نے فون پر اطلاع دی کہ الخیر یونیورسٹی کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ و طالبات کے لئے اسلام آباد کے علمی و ادبی اداروں کا ایک وزٹ رکھا گیا ہے، اگر آپ کے پاس اپنی یونیورسٹی کے لئے وقت ہو تو آ جایئے گا۔ یہ اگرچہ ایک دھیمی سی درخواست تھی، لیکن میرے لئے یہ فرمانِ استاد تھا، چنانچہ مَیں7جون کی صبح اسلام آباد پہنچ گیا۔ یہاں ڈاکٹر رشید امجد صاحب سے ملاقات ہوئی جو اب شعبہ¿ اردو کے سربراہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مختلف کالجوں میں پڑھاتے رہے ہیں، پھر نمل یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ بہت سے تشنگانِ تحقیق کو ایم فل اور پی ایچ ڈی کرائی، اب الخیر میں آ گئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب جہاں بہت بڑے افسانہ نگار، نقاد اور محقق ہیں ،وہاں وہ ایک نہایت عمدہ، نفیس اور شائستہ انسان بھی ہیں۔ استادمیں جتنی بھی خوبیاں ہونی چاہئیں، وہ ان میں دکھائی دیتی ہیں۔ موضوع پر پوری گرفت رکھتے ہیں، اس لئے ہر ذہنی سطح کا طالب علم ان سے مطمئن رہتا ہے۔

ڈاکٹر ساجد نظامی کی قیادت میں الخیر یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کا وفد سب سے پہلے نیشنل بُک فاﺅنڈیشن پہنچا، جہاں میرے یارِ دیرینہ اور بانکے شاعر اصغر عابد ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ جناب سلیم اختر بھی چشم براہ تھے۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں ہماری ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مَیں اس اعزاز پر خوش تھا کہ ایم ڈی نیشنل بُک فاﺅنڈیشن ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے دائیں طرف ڈاکٹر ساجد نظامی بیٹھے تھے تو بائیں طرف مجھے بٹھایا گیا تھا۔ ڈاکٹر انعام نے حسب معمول ہنستے مسکراتے، ہنستی مسکراتی گفتگو کی۔ یہاں انہوں نے ایک واقعہ سنایا، جس میں نئی راہوں کے مسافروں کے لئے بہت سے سبق موجود تھے۔ کہنے لگے: ” ایک بار ہم نے فیصل آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ دلدار پرویز بھٹی کو خصوصی طور پر لاہور سے مدعو کیا گیا تھا۔ وہ وہاں قدرے تاخیر سے پہنچے تھے، اس لئے انہوں نے ابتدا میں ہی گاڑی کی خرابی کا ذکر کر دیا۔ وہیں بیٹھے اُن کے ایک بے تکلف دوست نے کہا: ”لیکن آپ کے پاس تو سکوٹر ہوتا تھا“ ۔اس پر دلدار پرویز بھٹی نے کہا: ”میرے پاس پہلے بائیسکل بھی تھی اور بائیسکل سے پہلے مَیں پیدل پھرا کرتا تھا“۔

یہ واقعہ سنا کر ڈاکٹر انعام بولے: تو خواتین و حضرات! کسی کی موٹر دیکھ کر آپ ابھی سے موٹر کے خواب نہ دیکھیں،ہاں وقت کا انتظار کریں، ابھی آپ اپنی بائیسکل چلائیں،جو بائیسکل چلاتا ہے، اُسے موٹر بائیک مل جاتی ہے اور موٹر بائیک کے بعد کار بھی مل جاتی ہے۔

عام قارئین کے لئے عرض کرتا چلوں کہ نیشنل بُک فاﺅنڈیشن حکومت ِ پاکستان کا ایک ادارہ ہے جو پورے ملک کے شہریوں کو کم قیمت، لیکن معیاری کتابیں فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان دِنوں نیشنل بُک فاﺅنڈیشن نے ریڈرز کلب بنا رکھا ہے، صرف 110 روپے ادا کر کے اس کلب کی رکنیت حاصل کیجئے اور 55فیصد پر عمدہ اور معیاری کتابیں خریدیئے۔ خود مَیں نے بھی وہیں کھڑے کھڑے ریڈرز کلب کی رکنیت لی اور اپنی جیب کے مطابق کچھ کتابیں خرید لیں۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید کتاب کو عام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہوں گے۔

 

مزید :

کالم -