وزیرستان سے نقل مکانی ، پولیو وائر س دیگر شہروں تک پھیلنے کا خدشہ

وزیرستان سے نقل مکانی ، پولیو وائر س دیگر شہروں تک پھیلنے کا خدشہ
وزیرستان سے نقل مکانی ، پولیو وائر س دیگر شہروں تک پھیلنے کا خدشہ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی وزیرستان میں ’ضرب عضب ‘ کی وجہ سے مکینوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے اور اس دوران پولیو وائر س کے پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیاجارہاہے کیونکہ متعلقہ علاقوں کے تقریباً تین لاکھ بچوں نے 2012ءسے اب تک پولیو کے قطرے نہیں پیئے ۔

تفصیلات کے مطابق پولیو وائرس کا تازہ کیس دتہ خیل سے رپورٹ ہواجہاں پانچ ماہ کے حضرت علی میں پولیو وائر کے مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی جس کے بعد رواں سال کل متاثرہ افراد کی تعداد83ہوگئی جن میں سے 65 کیسز قبائلی علاقوں سے رپورٹ کیے گئے تھے۔

قومی ہیلتھ سروسز کے ایک اہلکارنے تازہ کیس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وزیرستان میں پچھلے دو سالوں سے انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد نہیں کیا جاسکا ،یہ وائرس لوگوں کے ساتھ سفر کررہا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد سرحد پار کرکے افغانستان میں داخل ہورہی ہے یا پھر یہ لوگ اپنے خطے سے نکل کر بڑے شہروں میں آرہے ہیں،بدقسمتی سے صحت کے محکموں کو آپریشن کے ٹائم ٹیبل سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے کوئی تیاری نہیں کی جاسکی ۔انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے یہ افراد مرکزی شاہراہوں کو استعمال نہیں کریں گے اور روایتی داخلی راستوں کے ذریعے خیبرپختونخوا میں داخل ہوں گے،خیبر پختونخوا کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی ایک بچے بھی پولیو ویکسین پیے بغیر اس صوبے میں داخل نہ ہوسکے، وزارت نے تجویز دی ہے کہ بالغوں کو بھی پولیو ویکسین پلوانے کا انتظام کیا جائے تاکہ پولیو وائرس ان کے ساتھ سفر نہ کرسکے۔

مزید :

قومی -