یہودیوں کی گمشدگی پر اسرائیل کی پکڑدھکڑجاری ،زیرعلاج فلسطینی خاتون اول کو یرغمال بنانے کا مطالبہ

یہودیوں کی گمشدگی پر اسرائیل کی پکڑدھکڑجاری ،زیرعلاج فلسطینی خاتون اول کو ...
 یہودیوں کی گمشدگی پر اسرائیل کی پکڑدھکڑجاری ،زیرعلاج فلسطینی خاتون اول کو یرغمال بنانے کا مطالبہ

  

مقبوضہ بیت المقدس(مانیٹرنگ ڈیسک) فلسطین سے لاپتہ ہونیوالے یہودی آبادکاروں کی تلاش کے بعد فلسطینیوں کی پکڑدھکڑجاری ہے اور مزید 44فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے لیاگیا جبکہ انتہاءپسند یہودیوں کی طرف سے مطالبہ سامنے آیا ہے کہ لاپتہ یہودیوں کی بازیابی تک فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی تل ابیب میں زیر علاج اہلیہ کو یرغمال بنا لیا جائے۔

عرب میڈیا کے مطابق گذشتہ ہفتوں لاپتہ ہونیوالے تین یہودیوں کے بارے میں سرائیلی فوج کا خیال ہے کہ ان تینوں لڑکوں کو اسلامی تحریک ’حماس ‘ کے کارکنان نے یرغمال بنا رکھا ہے اور مغربی کنارے کے شہروں اور دیہاتوں میں فلسطینیوں کیخلاف کریک ڈاو¿ن جاری ہے اور اب تک 200 سے زائدفلسطینیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔اسرائیلی فوج نے تازہ گرفتاریاں شمالی شہر نابلس سے کی ہیں لیکن اس نے جنوبی شہر الخلیل پر زیادہ توجہ مرکوز کررکھی ۔واضح رہے کہ حماس نے اسرائیلی حکام کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایاکہ لاپتہ لڑکے اسرائیل کے اپنے مکمل کنٹرول والے علاقے ہی میں کہیں لاپتا ہوگئے تھے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کے ایک انتہا پسند رکن میخائل بن آرئے نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تین یہودی آباد کاروں کی بازیابی تک محمود عباس کی اہلیہ کو حراست میں لے،بازیابی کا یہ بہترین موقع ہے اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل گیا تو اسرائیل کو یہودی آباد کاروں کی بازیابی میں بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ محمود عباس کی اہلیہ امینہ عباس گذشتہ جمعہ کو پاﺅں میں تکلیف کے بعد اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے ”اسوتا“ہسپتال میں لے جایا گیا تھا جہاں ان کے پاﺅں کی سرجری کی گئی اور سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق امینہ محمود عباس کو یرغمال بنانے کا حامی صہیونی رکن پارلیمنٹ ’کاخ‘ نامی انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھتا ہے اور بن آرئے کا ماضی کا ٹریک ریکارڈ بھی فلسطین دشمنی، نفرت اور عربوں کی نسل کشی کے مطالبات سے عبارت ہے۔2012ءکے شروع میں میخائل بن ارئے نے اسرائیل میں ’مسیحی فاﺅنڈیشن‘ کے قیام پر بطور احتجاج انجیل مقدس کا نسخہ پھاڑ ڈالا تھا۔

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -