فٹ بال کی شائقین ایرانی خواتین کی ’بے باکی‘ پر حکومت برہم

فٹ بال کی شائقین ایرانی خواتین کی ’بے باکی‘ پر حکومت برہم
فٹ بال کی شائقین ایرانی خواتین کی ’بے باکی‘ پر حکومت برہم

  

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی خواتین نے برازیل میں اپنے ملک کی پابندیوں سے ماورا ءہوکر ’جسمانی آزادی اظہار‘ کا بھرپور مظاہرہ کیا جس کے تہران حکومت برہم ہوگئی اور اُن کی نظریں کھیل کی بجائے خواتین پر مرکوز رہیں ۔

 تفصیلات کے مطابق ایران میں خواتین کو حجاب اور معقول لباس اختیار کرنے کی سخت تلقین کی جاتی ہے، لیکن ایرانی خواتین تمام شوق دوسرے ملکوں کی سرزمین پر جا کر پورے کرتی ہیں۔ گذشتہ دنوں ایران اور برازیل کے درمیان ورلڈ کپ فٹبال مقابلے کے موقع پرسٹیڈیم میں موجود ایرانی خواتین تماشائی کھیل کے شوق میں منہمک تھیں لیکن ان کی قیادت کی نظریں کھیل کے بجائے ان’بے باک‘ خواتین پر مرکوز رہیں کیونکہ انہوں نے ایرانی روایات کے مطابق لباس کا کوئی خیال نہیں رکھا اورخواتین کا مغربی سٹائل ایرانی پابندیوں اور روایات کا منہ چڑا رہا تھا۔

ایرانی مجلس شوریٰ کی جانب سے ایسے مواقع پر خواتین کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی جاتی ہیں، خواتین کے بطور تماشائی شرکت پر پابندی نہیں لیکن انہیں حجاب کی پابندی اور ایران کی اسلامی اور قومی روایات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معقول لباس زیب تن کرنے کی خصوصی تلقین کی جاتی ہے۔پارلیمانی کمیٹی برائے کھیل نے اس بار بھی خواتین تماشائیوں کو دستور کے آرٹیکل 90 کی یقین دہانی کرائی تھی اور سختی سے ہدایت کی تھی کہ وہ ورلڈ کپ کے فٹبال مقابلوں کے دوران اسلامی لباس کا خاص خیال رکھیں۔حکومت کی تلقین کے باوجود برازیل کے فٹ بال گراو¿نڈ میں تماشائی ایرانی دوشیزاو¿ں کی تصاویر کی سوشل میڈیا پر بھرمار ہے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے ایک رکن حسین آزین کو چند روز قبل برازیل صرف اس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا تاکہ وہ ایرانی ٹیم، فنکاروں اور دیگر تماشائیوں کو قومی روایات کا پابند بنانے کی کوشش کریں گے۔ مسٹر آذین کا کہنا تھا کہ ایرانی فٹبالروں اور تماشائیوں کو بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا، ان کی قریب سے نگرانی ضروری ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -