پولیس نے اپنے آپ کو بری الذمہ کرلیا،منہاج القرآن انتظامیہ اور کارکنان سانحہ ماڈل کے ذمہ دارقرار

پولیس نے اپنے آپ کو بری الذمہ کرلیا،منہاج القرآن انتظامیہ اور کارکنان سانحہ ...

انسداددہشتگردکی عدالت کا 12سالہ قرة العین سمیت 11خواتین کی رہائی کا حکم ، پولیس گھروں سے اُٹھالے گئی تھی:لواحقین

Model Town
کیپشن: Lahore Police

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پولیس نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے صاحبزادے حسن محی الدین اور منہاج القرآن کے سیکیورٹی انچار ج کو مرکزی ملزم قراردیتے ہوئے 3,000مردوخواتین کارکنان کیخلاف دومختلف مقدمات درج کرلیے ہیں جبکہ انسداددہشتگردی کی عدالت 12سالہ قرة العین سمیت 11خواتین کے نام مقدمے سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے رہاکرنے کاحکم دیدیااور دیگر ملزموں کا14روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا، عدالتی وقت ختم ہونے کی وجہ سے تھانہ فیصل ٹاﺅن میں بند 53ملزموں کو پیش نہ کیاجاسکا جبکہ ورثاءکا کہناتھاکہ پولیس نے گھروں میں داخل ہوکر لڑکے اور لڑکیوں کو اُٹھالیا۔

لاہور پولیس نے بیریئرہٹانے کے نام پر منہاج القرآن سیکریٹریٹ پر چڑھائی اور قتل وغارت کا مقدمہ بھی منہاج القرآن کے کارکنان و ذمہ داران کیخلاف درج کرلیا۔ حسن محی الدین ، منہاج القرآن کے سیکیورٹی انچارج اور جنرل سیکریٹری خرم نواز گنڈا پورکے علاوہ 3000کارکنان کیخلاف دہشتگردی ، توڑپھوڑ ،اقدام قتل اورقتل کی دفعات کے تحت دوالگ الگ ایف آئی آر درج کرلیں ، کارکنان میں سے 52نامز د تھے اور یوں پولیس ایف آئی آر نمبر510/14درج کرکے ہلاکتوں سے بری الذمہ ہوگئی جبکہ خود تھانہ فیصل ٹاﺅن کے ایس ایچ اومدعی بن گئے ۔

مقدمات کے اندراج کے بعد سخت سیکیورٹی میں گرفتار کیے گئے مبینہ کارکنان کو انسداددہشتگردی کی عدالت میں پیش کیاجہاں عدالت نے 12سالہ قرة العین سمیت 11خواتین کی رہائی اور مقدمے سے نام خارج کرنے کا حکم دیدیا ۔ فاضل عدالت نے 9افراد کا میڈیکل کرانے کا حکم دیتے ہوئے 14افراد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کا حکم دیدیا۔

عدالت میں پیش کیے گئے لوگوں کے ورثاءنے موقف اپنایاکہ محلے میں ہی اُن کے گھر ہیں اور پولیس نے گھروں میں گھس کر بچیاں اور بچے اُٹھالیے ۔ دوسری طرف تھانہ فیصل ٹاﺅن میں تاحال 53افراد بند ہیں جنہیں 24گھنٹے سے زائد وقت گزرجانے کے بعد عدالتی وقت ختم ہونے کی وجہ سے پیش نہیں کیاجاسکا۔

مزید :

لاہور -