آئی ایس آئی ایس نے ’کارکردگی‘ سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کر دی

آئی ایس آئی ایس نے ’کارکردگی‘ سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کر دی
آئی ایس آئی ایس نے ’کارکردگی‘ سے متعلق سالانہ رپورٹ جاری کر دی
کیپشن: ISIS

  

بغداد (نیوز ڈیسک) مشرق وسطیٰ کو تہہ و بالا کر دینے والی شدت پسند تنظیم الدولة الاسلامی فی العراق و الشام (آئی ایس آئی ایس ) کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ تنظیم کسی بڑے کاروباری ادارے کی طرح اپنی کارکردگی کی سالانہ رپورٹ بھی شائع کرتی ہے جس میں ہزاروں ہلاکتوں، بم دھماکوں اور گوریلا حملوں جیسی ’کامیابیوں‘ کی تفصیلات پیش کی جاتی ہیں۔ واشنگٹن میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف وار نے آئی ایس آئی ایس کی 2012ءاور 2013ءکی سالانہ رپورٹوں کا تجزیہ کیا ہے جس سے اس تنظیم کی خوفناک کارروائیوں کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ 2013ءکی رپورٹ کے مطابق آئی ایس آئی ایس نے صرف عراق میں 10 ہزار جنگجو آپریشن کئے، ایک ہزار نمایاں شخصیات کو چن چن کر قتل کیا، چار ہزار بارودی سرنگیں بچھائیں اور اپنے سینکڑوں قیدیوں کو رہا کروایا۔ آئی ایس آئی ایس کا دعویٰ ہے کہ اس کے مسلح جنگجوﺅں کی تعداد 15,000 ہے۔

اس رپورٹ سے آئی ایس آئی ایس کے فنڈز اور بھرتی کے ذرائع کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ گروپ جنوب مشرقی ایشیاءمیں خاصی مقبولیت رکھتا ہے اور خصوصاً انڈونیشیا میں اس کے حمایتی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی ایس کی سالانہ رپورٹوں کا مقصد دنیا کو یہ بتانا ہے کہ یہ گروپ غیر معمولی طور پر منظم اور مضبوط ہے اور اس کے پاس ایک واضح سیاسی نظریہ اور حکمت عملی ہے اور ان رپورٹوں کا ایک اہم مقصد فنڈز فراہم کرنے والے ممکنہ ذرائع کی توجہ حاصل کرنا بھی ہے۔

برطانوی خفیہ تنظیم MI6 کے سابقہ نائب سربراہ نائیجل انکسٹر نے اخبار فنانشل ٹائمز سے بات کر تے ہوئے بتایا کہ آئی ایس آئی ایس بالکل کسی کمپنی کی طرح رپورٹیں شائع کرتی ہے جن میں جنگجو آپریشنوں، اہداف، تنظیم، منصوبہ بندی اور حکمت عملی جیسی معلومات ملتی ہیں۔ ان رپورٹ سے یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے اہم اہداف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عراق کے سنی اکثریت کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا جائے۔

یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضے سے پہلے ہی آئی ایس آئی ایس وہاں کے بڑے کاروباری لوگوں سے بھتہ وصول کر رہی تھی۔ اس گروپ کے جنگجوﺅں کے بارے میں یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ 15,000 میں سے 12,000 کا تعلق عراق اور شام کے علاوہ دیگر ممالک سے ہے جبکہ 2,000 کے قریب یورپی ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق ملائیشیا اور انڈونیشیا سے آنے والے جنگجوﺅں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور جنوب مشرقی ایشیاءاس گروپ کے فنڈز کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -