ڈاکٹر طاہرالقادری کا عدالتی کمیشن تسلیم کرنے، پنجاب کابینہ سے ملاقات سے انکار

ڈاکٹر طاہرالقادری کا عدالتی کمیشن تسلیم کرنے، پنجاب کابینہ سے ملاقات سے ...
ڈاکٹر طاہرالقادری کا عدالتی کمیشن تسلیم کرنے، پنجاب کابینہ سے ملاقات سے انکار
کیپشن: minhaj

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کارکنوں کی ہلاکت پر تشکیل دیئے گئے عدالتی کمیشن کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے حقائق پرپردہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے جبکہ عوامی تحریک نے تعزیت کے لئے آنے والے پنجاب کابینہ کے وفد کو بھی روک دیا اور کہا ہے کہ قاتل تعزیت کے لئے نہ آئیں ۔ طاہر القادری نے کینیڈا سے ویڈیو لنک کے ذریعہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انکوائری کمیشن قاتلوں کی ایف آئی آر پر تفتیش کرنا چاہتا ہے ،ہم اس کمیشن کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی اس کے سامنے پیش ہوں گے،ہائی کورٹ کے جج صاحبان بھی جوڈیشل کمیشن سے لاتعلقی کا اظہار کریں،ہمارا مقدمہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے خلاف ہے۔منہاج القرآن کے سربراہ نے کہا ہے کہ سب کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف مستعفی ہوں،میڈیا نے چھتیس گھنٹے ریاستی جبر دکھا کر ہماری ایف آئی آر کٹوا دی ہے۔منہاج القرآن سیکریٹریٹ پر شب خون مارنے کے بعد اسلحہ برآمد کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیاگیا ، اگر حقیقت میں اسلحہ برآمد ہوتا تو کیامیڈیا کے سامنے پیش نہ کیا جا تا ؟انہوں نے کہا کہ ہمارے کسی گارڈ نے ایک گولی بھی فائر نہیں کی ،مرنے والوں کے لواحقین پر دباو ڈالنے کے ساتھ ساتھ انہیں کروڑوں روپے کی پیشکش بھی کی جا رہی ہے۔طاہر القادری نے دعویٰ کیا کہ ہسپتال میں ایک اور زخمی دم توڑ گیا ہے جس کے بعد مرنے والے کارکنوں کی تعداد گیارہ ہو گئی ہے،ہمارے کئی کارکن ابھی تک لاپتہ ہیں جن کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پولیس نے ان کے ساتھ کیا کیا۔دوسری جانب پاکستان عوامی تحریک نے مسلم لیگ (ن)اور پنجاب کابینہ کے وفد کو تعزیت کے لئے منہاج القرآن سیکرٹریٹ آنے سے روک دیا اور کہا ہے کہ قاتلوں کا وفد تعزیت کے لئے نہ آئے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ارکان کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹاون پر افسوس کا اظہار اورذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ تعزیت کے لئے ایک وفد منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ بھیجا جائے اور عوامی تحریک کے کارکنوں کی ہلاکت پر تعزیت کی جائے۔ وفد کی آمد سے متعلق خبرنشر ہونے کے بعد پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے وفد کو آنے سے روک دیا گیا اور کہا گیا کہ پنجاب حکومت ہمارے کارکنوں کی قاتل ہے ، قاتلوں کا وفد تعزیت کے لئے نہ آئے ۔

مزید :

لاہور -