آئی ایس آئی ایس کی موصل پر قبضے کی اصل کہانی سامنے آگئی

آئی ایس آئی ایس کی موصل پر قبضے کی اصل کہانی سامنے آگئی
آئی ایس آئی ایس کی موصل پر قبضے کی اصل کہانی سامنے آگئی
کیپشن: ISIS

  

بغداد(نیوز ڈیسک) پچھلے ہفتے جب شدت پسند گروپ الدوتہ الاسلامی فی العراق و شام(ISIS)نے عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر دھارا بولا تو عراقی فوج ناقابل تصور پسپائی اختیار کرتے ہوئے رفو چکر ہو گئی لیکن اب فرار ہونے والے فوجیوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ لڑنے کیلئے پر عزم تھے مگر ان کے کمانڈر حملہ ہوتے ہی میدان سے غائب ہو گئے اور سپاہیوں کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ موصل شہر کے مشرق میں واقع کرد علاقہ کی ایک محفوظ پناہ گاہ میں مقیم عراقی فوجی حسین نے بتاےا کہ ان کا فرار بزدلی کی وجہ نہ تھا بلکہ ان کے کمانڈر کے جرت انگیز فرار کے بعد ان کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو آئسس کے سامنے ہتھیار ڈالیں یا پھر کردسیکیورٹی فورس کے سامنے اور انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ حسین کا کہنا ہے کہ عراقی فوجی شدت پسندوں کے سامنے چار روز تک ڈٹے رہے اور اپنے کمانڈروں کو ڈھونڈتے رہے جن کی تلاش کی ہر ممکن کوشش کی گئی اور ان سے فون پر رابطے کرنے کی بھی بڑی کوشش ہوئیں لیکن یوں لگتا ہے کہ انہیں آئسس کی طرف سے بھاری رقوم ادا کی گئیں تھیں اور وہ حملہ ہوتے ہی غائب ہو گئے ۔ فرار ہونے والے فوجیوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس جنگ لڑنے کیلئے سوائے رہنماﺅں کے سب کچھ تھا انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ دوبارہ محاذ پر جانے کیلئے بے تاب ہیں اور منتظر ہیں انہیں کوئی بہادر لیڈر میسر آئے اور وہ شدت پسند کے مقابلہ کیلئے نکلیں۔

مزید :

بین الاقوامی -