بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی
بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ہمیں آئے روز اخبارات میں صنعتی اور گھریلو عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات ،قیمتی انسانی جانوں اور املاک کے ضیاع کی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ خبر پڑھتے ہوئے یا پڑھنے کے تھوڑی دیر تک ہم غمزدہ رہتے ہیں، پھراچانک کسی عزیز کی فون کال کے دوران غیر اضطراری طور پر ہم اخبار اٹھاکر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیتے ہیں جہاں سے ہمارا بچہ اُس اخبار پر یا تو پانی انڈیل کر گیلا کردیتا ہے یا بیگم اخبار اٹھا کر ردی کی ٹوکردی میں ڈال دیتی ہے۔ سائیکالوجی کی معروف پروفیسر ڈاکٹر افشیں مسعود کہتی ہیں کہ ہم دماغی طور پر اس چیز کو سنجیدگی سے نہیں لیتے کہ ایک انسانی جان کی قیمت کیا ہوسکتی ہے۔ امریکہ یا یورپ میں ایک بس میں سوار مسافروں کو اتار کر لائن میں کھڑا کرکے فائرنگ سے ہلا کردیا جائے تو پورا ملک سیل ہو جاتا ہے، لیکن ہمارے ہاں صورت حال بہت مختلف ہوگئی ہے۔ ہمیں پاکستان کے کسی شہر میں اس طرح کے واقعہ کے بارے معلوم ہو تو ہم فوری طور پر کہہ دیتے ہیں کہ ہاں پچھلے دنوں بھی فلاں شہر میں چالیس لوگوں کو ماردیا گیا تھا ، اس بار تیس کو ہلاک کیا گیا ہے۔ افشیں مسعود سنجیدہ ،مگر دبنگ پروفیسر ہیں، لیکن انسانی نفسیات پر انہیں ملکہ حاصل ہے۔


اکثر اوقات یوں ہوتا ہے کہ کسی جگہ آگ لگتی ہے ،ایمرجنسی ریسکیو سروسز وہاں ریسپانڈ کرتی ہیں ، پولیس اہلکار جائے موقع پر پہنچتے ہیں ، مقامی لوگوں کی بڑی تعداد وہاں جمع ہوجاتی ہے جو زیادہ تر تماشائی کا کردارا دا کرتی ہے۔ ایمرجنسی ریسکیو اینڈ فائر سروسز کی ورکنگ کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ جس عمارت میں آگ لگی ہو اس عمارت کا نقشہ انہیں میسر ہو ،تاکہ وہ جائزہ لے سکیں کہ اُس عمارت میں فائر سیفٹی انتظامات کی کیا حالت ہے؟ ایمرجنسی انخلاء کے راستے مہیا ہیں کہ نہیں ،تاکہ آتشزدگی کی صورت میں انہیں باحفاظت نکالا جاسکے۔ کیا اُس عمارت میں سپلنکر سسٹم ٹھیک طرح سے کام کررہا ہے، ایمرجنسی فائر ریسکیورز کے داخلے کے لئے مناسب جگہ موجود ہے کہ نہیں؟ ہمارے معاشرے میں سب سے اہمیت کی بات شاید فائر ہائیڈرنٹس ہیں جو بسا اوقات موجود نہیں ہوتے۔ حیرت کی بات ہے کہ پرانے شہروں کی تعمیر و ترقی میں فائر ہائیڈرنٹس ہر عمارت کے ساتھ موجود ہوتے تھے حتیٰ کہ لاہور کی پرانی عمارتوں میں یہ نصب تھے، لیکن جوں جوں ترقی ہوتی گئی، ہم فائر ہائیڈرنٹس اور دیگر فائر سیفٹی انتظامات سے دور ہوتے چلے گئے۔ جب آتشزدگی ہوتی ہے تو فائر ریسکیورز اور پولیس اہلکاروں کے لئے غیر ضروری لوگوں یا باالفاظِ دیگر تماشائیوں کی موجودگی پریشانی کا باعث بنتی ہے۔ لوگ محض اس لئے جمع ہوجاتے ہیں کہ چلو آگ لگی ہے ذرا دیکھ لیں۔ کیا یہ رویہ مناسب ہے؟


ضلعی انتظامیہ ، پولیس اہلکار اور ریسکیو افسران کے لئے سب سے تکلیف دہ مرحلہ یہی ہوتا ہے کہ غیر ضروری لوگ وہاں سے ہٹنے کانام تک نہیں لیتے، بلکہ حالات کی نزاکت کا فائدہ اٹھا تے ہوئے ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں۔ تیسرا بڑا مسلہ اُن اداروں کے اہلکاروں کا موجو د ہونا ہوتا ہے جو سالہا سال سے حکومتی خزانے پر بوجھ ہیں ،جنہوں نے آج تک وہ کام نہیں کئے جو اُن کے ذمہ تھے ،لیکن آتشزدگی جیسے حادثات پر پہنچ کر ایمرجنسی سروسز کے کام میں روکاوٹ کا باعث بننا وہ اپنا فریضہ سمجھتے ہیں یا شاید پھٹے پرانے سوٹس اور بابائے آدم دور کی گاڑیوں کے قافلوں کے ساتھ اپنی موجودگی کو وہ باعثِ فخر گردانتے ہوں ،لیکن جب معاملہ انسانی جان کا ہو توہمیں احساس کرنا پڑے گا۔ اگرچہ وزیراعلیٰ پنجاب نے شاد باغ آتشزدگی کیس کے بعد انتہائی غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سول ڈیفنس کو ریسکیو 1122میں ضم کرنے اور اُن کی پیشہ ورانہ تربیت کو بڑھانے پر زور دیا تھا ۔ ضم کرنے والی بات شاید درست ہے کہ ایک ہی ڈیپارٹمنٹ ہونا چاہیے ،لیکن جو کمیٹی یہ فریضہ سرانجام دے اُسے سوچنا ہوگا کہ پرانی گاڑیوں کو دوبارہ کار آمد کیسے بنایا جائے گا؟


جس گاڑی کی ریپئر نگ ہی نہیں ہوئی ،جس کوکبھی اُس مقصد کے لئے استعمال ہی نہیں کیا گیا اوروہ کھڑے کھڑے ختم ہوچکی ہے، وہ کیسے چلے گی؟ اسی طرح 55سال عمر کے افراد جن کی پیشہ ورانہ تربیت کا وہ معیار نہیں رہا جو ایک چاک و چوبند ریسکیور کا ہوتا ہے، آپ اُس سے یہ امید کیسے باندھ سکتے ہیں کہ وہ دوڑتے ہوئے دس منزلہ عمارت پر چڑھے گا اور آگ کو کنٹرول کرلے گا؟ اگر یہ نیک کا م کرنا ہے تو دل بھی بڑا کرنا پڑے گا اور الزام تراشی سے نکل کر معاملات کوسدھارنا ہوگا ،کیونکہ ہم سب پاکستانی ہیں اور ہمیں اپنے ملک اور شہریوں سے پیار ہے۔ مختلف انکوائری کمیٹیوں کے انکشافات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جس عمارت میں آتشزدگی کا واقعہ ہوتا ہے، وہ عمارت غیر قانونی طرزِ تعمیر کا نمونہ ہوتی ہے، لیکن مالک مکان نے قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لئے تمام ’’کاغذات‘‘ پورے کررکھے ہوتے ہیں۔ چار انچ کی اینٹ پر چار منزلہ پلازہ کھڑا کرنا کس قانون کے زمرے میں آتا ہے؟ لیکن عمارت کے مالک کے پاس تمام کاغذات پورے ہوتے ہیں؟ ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ کون سے ہاتھ ہیں جو انہیں وہ تمام کاغذات مہیا کرتے ہیں، جن سے اُس لالچی انسان کی جان خلاصی ہوجاتی ہے اور وہ سزا سے بچ جاتا ہے؟


کیا یہ ممکن نہیں کہ عوامی نمائندے اسمبلی کا ایک مکمل اجلاس اپنے شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنانے پر منعقد کریں اور مختلف اداروں کے بجائے ایک ہی۔۔۔ Building Control ۔۔۔Authorityبنائی جائے جو رہائشی یا صنعتی عمارت کی تعمیر سے پہلے انسانی زندگی اور املاک کی حفاظت کے تمام پہلوؤں پر غور کرے ۔ عمارت کی تعمیر کا سرٹیفیکٹ تب دیا جائے جب فائر اینڈ لائف سیفٹی انتظامات پورے ہوں۔۔۔ کیا یہ ممکن نہیں؟ میٹرو بس سروس اتھارٹی طرز پر صرف ایک ہی ادارہ قائم ہو ،جسے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا پھر لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرو ل اتھارٹی کا نام دیا جائے، جس کے افسران تکنیکی مہارتوں میں یکتا اور صرف اُسی محکمے کے ہوں، وگرنہ دیگر محکموں کے لوگ ڈیپوٹیشن پر اپنی من مانیاں کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جسے سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کا ’’جن‘‘ کہتی ہے، کیا اُن کے لئے یہ بڑا کام ہے؟ بلکہ جو بھی سیاسی جماعت اپنے شہریوں کی زندگیوں کو اہمیت دے گی ،شاید اگلے الیکشن میں عوام اسی کو دوبارہ منتخب کریں ۔


ڈاکٹر رضوان نصیر جو ریسکیو اینڈ فائر سروسز کے بانی ڈائریکٹر جنرل ہیں، انہوں نے اکیلے ہی ریسکیو 1122کا اس قدر تناور درخت لگا دیا ہے ،جس کے ثمرات اب خیبر پختونخواہ؛ آزاد جموں اینڈ کشمیر، گلگت بلتستان اور کسی حد تک کراچی کے شہریوں کو بھی مل رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے ساتھ ملاقات میں بلوچ بھائیوں کی زندگی کی حفاظت کے لئے ریسکیو سروسز کے اجراء کے حوالے سے بھی باتیں سامنے آئی ہیں جو خوش آئند ہیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں ایمرجنسی کیئر کا حق بنیادی انسانی تقاضوں جیسا ہے جو پاکستان کے ہر شہری کو میسر ہونا چاہیے ،لیکن سوچنے کی بات ہے کہ ایک انسان نے محض اپنی زندگی کی قربانی دے کر لاکھوں لوگوں کی زندگیو کو محفوظ بنایا ہے کہ ہم عوامی اور قومی سطح پر اپنی زندگیوں کی حفاظت کے لئے کام نہیں کرسکتے؟ کیا ہم اس قدر بے حس ہوگئے ہیں کہ ہمیں اپنی اور اپنے دوست احباب کی زندگیاں عزیز نہیں ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ہمیں صحیح سمت کا تعین کرنا چاہیے کہ اب اگر وقت ضائع کیا گیا تو شاید پاکستان کی آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

مزید :

کالم -