قسط نمبر 63۔ ۔ ۔وہ ناول جو کسی کی بھی زندگی بدل دے

قسط نمبر 63۔ ۔ ۔وہ ناول جو کسی کی بھی زندگی بدل دے
قسط نمبر 63۔ ۔ ۔وہ ناول جو کسی کی بھی زندگی بدل دے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دنیا میں تمام انسانوں کی زندگی وقت کی غلامی میں گزرا کرتی تھی۔ وقت کا پہیہ لمحوں، ساعتوں، ایام اور ماہ و سال کی گردشیں طے کرتا آگے بڑھا کرتا تھا۔ پہروں اور موسموں کی تبدیلی سے وقت کے گزرنے کا احساس ہوا کرتا تھا۔ مگرمیں اب جس دنیا میں تھا، وہاں وقت غلام تھا اور انسان آقا۔ لمحے اور ساعتیں، دن اور ہفتے، مہینے اور سال، صدیاں اور قرن؛ ان کے دن ختم ہو چکے تھے۔ وقت گزرنے کا زمانہ ماضی کی زندگی کی طرح گزرچکا تھا۔ وقت اور زمانے کے آثار قدیمہ میں سے اب جو کچھ باقی تھا وہ صرف پہر اور موسم تھے۔ اور وہ بھی تمام تر ہمارے اختیار میں۔

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول۔۔۔قسط نمبر62 پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

انسانوں کی سلطنت میں کہیں ہمیشہ صبح کی روشنی چھائی رہتی، کہیں دوپہر کے روشن سناٹے، کہیں سہ پہر کی دھیمی تمازت، کہیں شام کی پھیلتی ڈوبتی شفق کی سرخی، کہیں آخر شب کی سیاہ خامشی اور کہیں فجر کا جھٹپٹا،کہیں بدرِ کامل کی چاندنی،کہیں تاروں بھری راتیں، کہیں بہاروں کی گھنی چھاؤں اورکہیں ہزار رنگ خزاں کاروپ۔ اہل جنت کی رہائش گاہوں میں گرچہ موسم بہت معتدل اور خوشگوار رہتا، لیکن لوگوں کے ذوق کی تسکین کے لیے کہیں سانسیں منجمد کردینے والی سردیاں تھیں تو کہیں صحرائی گرمیاں، کہیں برکھا کی رت تھی، کہیں بہار اور خزاں کے رنگ۔ غرض جو دل چاہے اور جس کی انسان خواہش کرے وہ پہر اور وہ موسم انسانی تسکین کے لیے موجود تھا۔

میں ایک بہت بڑی سلطنت کا تنہا اور بلاشرکت غیرے حکمران بن چکا تھا۔ ہمدم دیرینہ صالح اس نئے جہانِ رنگ و بو میں بھی میرا رفیق اور میرا ساتھی تھا۔ اسی نے مجھے بتایا کہ یہ سلطنت وسیع ترین کائناتی نظام کا ایک حصہ تھی۔ اس نئے نظام میں تقسیم اس طرح تھی کہ تمام اہل جنت کی رہائش اسی زمین پر تھی جہاں ہزاروں لاکھوں برس تک انسانوں کی آزمائش ہوتی رہی۔ اہل جنت میں دو کلاسیں تھیں۔ ایک عوام اور دوسرے خواص۔ عوام یا کم درجے کے اعمال والے وہ لوگ تھے جنھیں انعام میں ایک یا ایک سے زیادہ ستاروں اور سیاروں کو دے دیا گیا تھا۔ یہ بتانے کی شاید ضرورت نہیں کہ اب یہ ستارے آگ اور اندھیرے کا مسکن نہیں رہے تھے بلکہ بدل کر حسین جنتوں اور پرفضا وادیوں میں بدل چکے تھے۔

خواص جنت کی حکمران کلاس تھی۔ اس میں پہلے شہدا اور صدیقین تھے۔ ان کو اربوں کھربوں ستاروں پر مشتمل کہکشاؤں کی بادشاہی اور حکمرانی دی گئی تھی۔ میں ایسی ہی ایک کہکشاں کا حکمران تھا۔ ان سے اوپر انبیا کرام تھے جو ان گنت کہکشاؤں پر مشتمل مجموعوں کے حکمران تھے۔

سر دست یہ بات ایک راز تھی کہ کس کو کون سی جگہ کی حکمرانی ملنی ہے، وہاں کیا کرنا ہوگا۔ صالح نے مجھے بتایا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ دربار کے دن بیان کریں گے۔ اسی روز ہر شخص کو اس کی سلطنت رسمی طور پر دے دی جائے گی۔ فی الوقت تو لوگ صرف زمین پر مقیم تھے اور بقول صالح کے ان کو جو کچھ نعمتیں یہاں مل رہی تھیں وہ بس ابتدائی مہمان نوازی کی نوعیت کی چیزیں تھیں۔ اصل نعمتیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل پر ان کا گمان گزرا وہ دربار والے دن کے بعد ہی ملنا شروع ہوں گی۔ جب رسمی طور پر ان کے اعزازات اور مناقب کا اعلان ہوگا۔ البتہ تب تک لوگوں کو پروٹوکول ان کی حیثیت کے مطابق ہی دیا جارہا تھا۔

اس پروٹوکول کا اظہار ان تقریبات، مجالس اور دعوتوں میں ہوتا جو اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کے اعزاز میں کررہے تھے۔ گو ابھی تک سارے جنتی جنت میں داخل نہیں ہوئے تھے، مگر یہاں بھرپور زندگی شروع ہوچکی تھی۔ پیچھے حشر میں صرف اتنا ہورہا تھا کہ ایک کے بعد ایک کرکے صالحین جنت میں داخل ہورہے تھے، مگر یہاں وقت چونکہ رکا ہوا تھا اس لیے صرف دو لوگوں کے داخل ہونے کے درمیان بھی ان گنت سال اور صدیاں حائل ہوجاتے تھے۔ میرا اندازہ یہی تھا اور جس کی صالح نے تائید کی تھی کہ دربار اسی وقت منعقد ہوگا جب سارے جنتی جنت میں داخل ہوچکے ہوں گے۔ یہی جنت کی ابتدائی زندگی تھی۔ اسی دوران میں مجلسیں اور تقریبات ہورہی تھیں۔ زیادہ تر انبیاے کرام ہی تھے جو اپنی اپنی اور دیگر انبیا کی امتوں کے شروع میں آنے والے صالحین کے اعزاز میں دعوتیں کررہے تھے۔

انہی مجلسوں میں میری متعدد لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ میں گرچہ دنیا میں بہت کم کم لوگوں سے ملا کرتا تھا، مگر جنت میں آنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میں خلافِ عادت بہت زیادہ سوشل ہوچکا ہوں۔ اس لیے میرے نئے نئے دوست بننے لگے۔ لوگوں کے حالات اور ایک دوسرے کی سابقہ زندگی سے آگاہی حاصل ہونے لگی۔ میرے لیے یہ غیر متوقع تو نہیں تھا مگر پھر بھی مجھے قدرے تعجب ہوا کہ ابتدائی کامیاب لوگوں میں زیادہ تر غریب اور پریشان حال لوگ تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے دنیا میں بہت پریشانیاں اور دکھ جھیلے، لیکن ہمیشہ صبر شکر سے کام لیا۔ میں نے یہ بات خاص طور پر نوٹ کی کہ اعلیٰ ترین درجے کے ان ابتدائی جنتیوں میں ایک بات قدر مشترک تھی۔ یہ سب کے سب صبر کرنے والے تھے جنھوں نے بدترین حالات میں بھی اللہ پر بھروسہ کیا اور تسلیم و رضا اور تفویض و توکل کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔

اسی دوران میں ایک روز صالح نے میری ملاقات میرے والدین سے کرائی۔ میرے والدین کا انتقال میری پیدائش کے فوراً بعد ایک حادثے میں ہو گیا تھا۔مگر وہ جب تک زندہ رہے پیکر وفا و طاعت بن کر رہے۔وہ مجھے بھی خد مت رب کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔مگرایک ناگہانی حادثے نے انہیں مہلت نہ دی۔تاہم رب کریم نے اپنے صالح بندوں کی لاج رکھی۔ مشیت الہی زندگی بھر ایک یتیم کے لیے ایسے مواقع پیدا کرتی رہی کہ میرے لیے وہ بننا ممکن ہوگیا جو وہ چاہتے تھے۔آج جنت میں آنے کے بعد مجھ پریہ انکشاف ہوا کہ میں جوکچھ بھی تھا اس کا بنیادی سبب میرے والدین تھے اور ان کی نیت کی بنا پر میرے ہر عمل سے ایک حصہ ان کو ملا تھا۔ یوں میری اپنے والدین سے ملاقات رب کی رحمتوں کا ایک اور تعارف بن گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنت کی اس بادشاہی میں آہستہ آہستہ میرے جاننے والے لوگ بھی آتے جارہے تھے۔ مختلف مجالس میں ان سے ملاقاتیں ہورہی تھیں۔ ان میں میری دعوت پر تبدیل ہوکر اعلیٰ ایمانی اور اخلاقی زندگی اختیار کرلینے والے لوگ بھی تھے اور خدا کے دین کی نصرت میں میرا ساتھ دینے والے میرے رفقا بھی۔ ان میں سے ہر شخص سے مل کر یوں لگتا تھا کہ زندگی میں خوشی اور محبت کا ایک در اور کھل گیا ہے۔ تاہم وہ ابھی تک نہیں آئی تھی جس کا مجھے انتظار تھا۔ گرچہ اس انتظار میں کوئی زحمت یا پریشانی نہیں بلکہ مزہ ہی تھا۔ پھر ایک روز، گرچہ اس نئی دنیا میں شب و روز نہیں رہے تھے، صالح میرے پاس آکر کہنے لگا:

’’سردار عبدا للہ! تمھارے لیے ایک بری خبری ہے۔‘‘

مجھے حیرت ہوئی کہ اب جنت میں مجھے یہ کیا بری خبر سنائے گا۔ تاہم اس کا لہجہ ایساتھا کہ میں پوچھنے پر مجبور ہوگیا:

’’کیوں بھائی! یہاں کیا خبر بری خبر ہوسکتی ہے؟‘‘

’’سردار عبدا للہ! بری خبر یہ ہے کہ تمھارے عیش کرنے کے دن ختم ہوگئے۔ تم نے ناعمہ کے پیچھے آزادی کے بہت دن دیکھ لیے۔ اب تمھاری نگرانی کے لیے ناعمہ خود آرہی ہے۔‘‘

’’کیا سچ؟‘‘، میں نے شدت جذبات سے مغلوب ہوکر صالح کو گلے لگاتے ہوئے کہا:

’’اور کیا میں جھوٹ بولوں گا؟‘‘

پھر میرے سر کو سہلاتے ہوئے بولا:

’’مجھے چھوڑدو۔ میں نے ناعمہ کے آنے کی خوش خبری دی ہے۔ مگر میں خود ناعمہ نہیں ہوں۔‘‘

’’تم ہو بھی نہیں سکتے۔‘‘، میں نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا۔

’’لیکن یہ بتاؤ کہ اتنی اچھی خبر تم مجھے دھمکی کے انداز میں کیوں سنارہے ہو۔ ویسے تمھیں ناعمہ سے اگر یہی توقع ہے تو مجھے یقین ہے کہ تمھیں بہت مایوسی ہوگی۔ خیر چھوڑو ان باتوں کو۔ میں ناعمہ کے آنے پر اسے ایک بہترین تحفہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘

’’کیا تحفہ دینا چاہتے ہو؟‘‘

’’ایک بہترین گھر۔‘‘

’’بھائی تمھارے پاس تمھارا گھر ہے اور اُس کے پاس اس کااپنا گھر ہوگا۔ اب اس نئی دنیا میں خاندانی نظام تو ہوگا نہیں کہ گھر دینا تمھاری ذمے داری ہو، نہ اسے تمھارے بچوں کو گھر بیٹھ کر پالنا ہے۔ پھر ایک نیاگھر کیوں بناتے ہو؟‘‘

’’مجھے معلوم ہے کہ ہر جنتی کی اپنی رہائش اور اپنی سلطنت ہوگی، لیکن میری خواہش ہے کہ اپنی پسند سے ناعمہ کے لیے ایک گھر بناؤں جو میری سلطنت میں ہو۔ اور پھر اس گھر کا ناعمہ کو گفٹ کروں۔‘‘

ضرور پڑھیں: خدا کا جواب

’’جانتے نہیں اللہ تعالیٰ نے اسراف کرنے والوں کو شیطان کے بھائی کہا ہے؟‘‘، وہ اس وقت مجھے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔

’’جنت میں شیطان نہیں آسکتا، مگر اس کے بعض شاگرد ضرور موجود ہیں جو میاں بیوی میں محبت پیدا کرنے کے بجائے دوری پیدا کرتے ہیں۔‘‘، میں نے مصنوعی غصے کے ساتھ اسے گھورتے ہوئے کہا۔

’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔‘‘، وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا:

’’مجھے بتاؤ کیا کرنا چاہتے ہو؟‘‘

اس کے بعد میں نے اسے ساری تفصیلات سمجھائیں۔ میری بات ختم ہوئی تو وہ بولا:

’’چلو محل دیکھنے چلو۔‘‘

میں نے حیران ہوکر پوچھا:

’’کیا مطلب؟ کیا محل بن گیا؟‘‘

’’تم کیا سمجھتے ہو تم دنیا میں کھڑے ہو کہ پہلے زمین خریدوگے، پھر نقشہ پاس کراؤگے، پھر ٹھیکیدار ڈھونڈو گے اور پھر کئی ماہ میں محل تعمیر ہوگا۔ سردار عبد اللہ! یہ تمھاری بادشاہی ہے۔ خدا کی قوت تمھارے ساتھ ہے۔ تم نے کہا اور سب ہوگیا۔ یہی یہاں کا قانون ہے۔‘‘(جاری ہے)

دنیا میں تہلکہ مچانے والا مقبول ترین ناول۔۔۔قسط نمبر64پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

(ابویحییٰ کی تصنیف ’’جب زندگی شروع ہوگی‘‘ دور جدید میں اردو زبان کی سب زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن چکی ہے۔ کئی ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں اس کتاب کے تراجم ہوچکے ہیں۔ابو یحییٰ نے علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن کے ساتھ آنرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کی ہیں جبکہ ان کا ایم فل سوشل سائنسز میں ہے۔ ابویحییٰ نے درجن سے اوپر مختصر تصانیف اور اصلاحی کتابچے بھی لکھے اور سفر نامے بھی جو اپنی افادیت کے باعث مقبولیت حاصل کرچکے ہیں ۔ پچھلے پندرہ برسوں سے وہ قرآن مجید پر ایک تحقیقی کام کررہے ہیں جس کا مقصد قرآن مجید کے آفاقی پیغام، استدلال، مطالبات کو منظم و مرتب انداز میں پیش کرنا ہے۔ ان سے براہ راست رابطے کے لیے ان کے ای میل abuyahya267@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مزید : جب زندگی شروع ہوگی