گیسٹرو:بچاؤ کے لیے احتیاط ضروری

گیسٹرو:بچاؤ کے لیے احتیاط ضروری
گیسٹرو:بچاؤ کے لیے احتیاط ضروری

  

حکیم محمد احمد سلیمی

گیسٹرو (Gastroenteritis) نظامِ ہضم کی ایک ایسی شدید بیماری ہے جس میں معدہ اورچھوٹی آنت میں سوزش ہوتی ہے جس سے شدید اسہال آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اس بیماری میں خواتین و حضرات اور بچے یکساں طور پر مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ بیماری دنیا بھر میں عام ہے۔ وائرس سے ہونے والا گیسٹرو ایک شدید وبائی بیماری ہے یہ ایک سے دوسرے کو لگ سکتی ہے لہذا خاص طور پر وبا کے دنوں میں کمزور قوت مدافعت والے افراد بھیڑ بھاڑ والی جگہوں ، بازاروں ، شاپنگ سینٹرز اور تھیٹرز وغیرہ جانے سے گریز کریں ۔ اور یہ آلودہ غذا اور پانی سے پھیلتی ہے - گیسٹرو زیادہ ترمختلف وائرس(روٹا وائرس، اڈینو وائرس، کیلسی وائرس، اسٹرو وائرس، نور واک وائرس اور نورو وائرس) کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض اوقات بیکٹیریا ،ان کے زہر،طفیلیے یا بعض غذاؤں اور دواؤں کے مابعد اثرات کی وجہ سے بھی ہو جاتی ہے ۔ یہ مرض ایک شخص سے دوسرے شخص کو لاحق ہو سکتا ہے۔ آلودہ پانی پینا، آلودہ خوراک ،گلے سٹرے پھلوں کا استعمال،گندے یا غیر مناسب صفائی والے علاقوں میں سفر کرنا یا رہائش رکھنا بھی اس مرض کے پیدا ہونے کے اسباب میں شامل ہے۔نہر ،دریا اور بارش میں نہانے والوں میں بھی یہ مسئلہ عام ہے - جوس یا سوفٹ ڈرنک(کولا مشروبات ) کا استعمال اسہال میں اضافہ کا باعث بنتا ہے بلکہ ان کے استعمال سے اسہال سنگین صورت اختیار کر جاتے ہیں- یہ بیماری عام طور پر شدید صورت میں ظاہر ہوتی ہے - اور خاص طور پر موسم گرما اور برسات میں اس کے مریضوں میں خاصا اضافہ ہو جاتا ہے - اس مرض میں اکثرچھوٹی آنت میں انفیکشن یا بڑی آنت کی سوزش کے ساتھ معدہ میں درد ،تشنج،اسہال اور قے ہوتی ہے- اس کی عام علامات میں اسہال ،قے و متلی، بھوک کی کمی،بخار ،پانی کی کمی ہونا،سر درد ،غیر طبعی تبخیر پیدا ہونا ،پیٹ درد ،خون آلود پاخانہ آنا ،جسمانی کمزوری اور غشی ہونا وغیرہ شامل ہے ۔ وائرس کی وجہ سے ہونے والے اسہال میں پانی جیسے پاخانے آتے ہیں جبکہ بیکٹیریا کی وجہ سے ہونیوالے اسہال میں خون آلود پاخانہ آسکتا ہے- پانی کی کمی (Dehydration) اسہال کی عام پیچیدگی ہے -گیسٹرو سے بچاؤ کے لیے احتیاط بہت اہم ہے اس کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ہم گیسٹرو اور اس جیسے خطرناک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں -

* کھانا کھانے سے پہلے اور رفع حاجت (غسل خانہ استعمال کرنے) کے بعد اپنے ہاتھ لازمی دھوئیں ۔

* پینے والے پانی کی صفائی کا خیال رکھیں۔ پانی ابال کر یا فلٹر شدہ استعمال کریں ۔*حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق تیار شدہ تازہ خوراک استعمال کریں۔

* اپنی غذا میں سرکہ، پیاز اور پودینہ کا خصوصی استعمال کریں۔*آلودہ پانی، گلے سٹرے اور کٹے ہوئے پھلوں کے استعمال بالخصوص تربوز اور کھیرے کے استعمال سے پرہیز کریں۔

* غذا ترک کردینا عقل مندی نہیں بلکہ نارمل غذا کا استعمال جاری رکھیں۔صرفمصالحہ داریا مرغن غذا اور شراب نوشی سے اجتناب کریں۔

* لیکٹوز جو کہ دودھ میں پائی جانے والی مٹھاس ہے کے استعمال سے بھی اسہال میں اضافہ ہو سکتاہے لہذا ایسی صورت میں دودھ کا استعمال نہ کیا جائے مگر شیر خوار بچوں میں ماں کا دودھ جاری رکھنا چاہیے -

* اسہال ،قے و متلی کے دوران اپنے معمولات کم کریں۔

* گیسٹرو اوراسہال کی صورت میں او۔آر۔ایس ملا پانی استعمال کریں- گھر میں ا و۔آر۔ایس بنانے کا طریقہ یہ ہے:۔آدھے لیموں کا رس، نمک، چینی حسبِ ذائقہ اورایک چٹکی سوڈا خوردنی، ایک گلاس پانی میں گھول لیں اور استعمال کریں۔

* گیسٹرو یا اسہال کی صورت میں جوس یاکولا مشروبات کا استعمال نہیں کرنا چاہئیے -

* پہلے24گھنٹے ادرک کا پانی(ادرک تین گرام ایک کپ پانی میں اُبال کر یا ادرک کوٹ کر اس کا1/4چمچ چائے والا پانی نچوڑ لیں)، شوربہ، یخنی یا چائے استعمال کریں۔بعد ازاں مریض کو ہلکی غذا استعمال کرائیں جیسے چپاتی ، شوربہ، کھچڑی، جو کا دلیہ۔

* امرت دھارا (ست پودینہ ، ست اجوائن ، کافور کا مرکب )تین تین قطرے چوعرقہ آدھا کپ میں ملا کر استعمال کرنا گیسٹرو ،پیٹ درد ،اسہال ، قے اور پیچش وغیرہ میں مفید ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -