”جب تمہارا بیٹا ہڈیوں پر ہاتھ رکھ کر مرغ کو زندہ کرنے کے قابل ہوجائے گا تو اسکو بھی اجازت ہوگی کہ ..“حضرت غوث الاعظم ؒ نے اعتراض کرنے والی عورت کو ایسا جواب دیا کہ کرامت اور بزرگی کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی

”جب تمہارا بیٹا ہڈیوں پر ہاتھ رکھ کر مرغ کو زندہ کرنے کے قابل ہوجائے گا تو ...
”جب تمہارا بیٹا ہڈیوں پر ہاتھ رکھ کر مرغ کو زندہ کرنے کے قابل ہوجائے گا تو اسکو بھی اجازت ہوگی کہ ..“حضرت غوث الاعظم ؒ نے اعتراض کرنے والی عورت کو ایسا جواب دیا کہ کرامت اور بزرگی کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی

  


فقیری فقرو فاقہ سے ملتی ہے ۔لوگ حجتیں کرتے ہیں کہ جسم کو مار کر روح بیدار کرنے میں کیا حکمت ہے کہ یہ لوگ فقیروں کی طرح فاقے کرتے اور گزربسر کرتے ہیں ،ان کے پیر خوش خوراک ہوتے ہیں اور مرید و سالک لاغر ۔

حضرت شہاب الدیں سہروردی عوارف المعارف میں اللہ کے نیک محبوب بندوں کے اوصاف و رازو نیاز کو بیان کرتے ہوئے حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ فقر اور فقیری میں منشائے الٰہی شامل ہوتی ہے ۔فقیری کے دوران مجاہدے کاٹ کر وہ صاحب کرامت بن پاتا ہے۔ آپؒ بیان فرماتے ہیں کہ ایک بار ایک عورت اپنے بیٹے کو حضرت غوث الاعظم ؒکی بارگاہ میں لیکر پیش ہوئی اور عرض کیا” میرا بیٹا آپ کا بے حد عقیدت مند ہے . لہذا میں اپنے حق سے دستبردار ہوکر اسکو آپؒ کی غلامی میں دیتی ہوں“ اسکا مدعا سن کر آپؒ نے اس لڑکے کو قبول فرما لیا۔

کچھ ہفتوں بعد ممتا تڑپی اور وہ اپنے بیٹے سے ملنے آگئی َدیکھا تو بلک پڑی کہ بیٹا پڑھائی اور مجاہدے میں غرق ہے ۔اس نے بیٹے سے پوچھا”اے میرے لعل تو نے کیسا حال بنا لیا ہے۔کای تمہیں کھانے کو نہیں ملتا“

لڑکے نے بتایا”جو کی روٹی ،کبھی سبزی کے ساتھ اور کبھی صرف نمک کے پانی کے ساتھ کھاتا ہوں“

ماں تڑپ اٹھیں اورحضرت غوث الاعظم ؒ کے پاس جاپہنچی . اس وقت حضرت غوث الاعظم ؒ مرغ مسلم کھا رہے تھے ،سامنے برتن میں مرغ کی ہڈیاں پڑی تھیں .

عورت بولی”اے وقت کے ولی میں نے اپنے جگر گوشے کو آپؒ کی غلامی میں اس لئے تو نہیں دیا کہ وہ صرف جو کی روٹی کھائے اور اپنی جان سے جاتا رہے،اسکے تن پر گوشت کم ہوگیااور وہ لاغر ہوا چلا جارہا ہے “

حضرت غوث الاعظم ؒنے اسے شفقت سے سمجھایا کہ ریاضت کا ایک ہی نتیجہ ہوتا ہے کہ جسم کی کثافت کم ہونے سے کمزور ہو جائے تاکہ روح کی لطافت بڑھ سکے اور اسکی طاقت میں اضافہ ہو . تمہارا بیٹا بھی اسی مرحلے سے گزر رہا ہے“

عورت جھٹ بولی”مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ خود تو مرغ کھائیں اور میرا بیٹا جو کی روٹی کھائے ؟“

حضرت غوث الاعظم ؒ نے کسی ناگواری کا اظہار کئے بغیر مرغ کی ہڈ یوں پر ہاتھ رکھا اور با آواز بلند فرمایا”اللہ کے حکم سے کھڑی ہو جاو،کہ جو بوسیدہ ہڈیوں کو زندہ کرنے والا ہے "

جیسے ہی حضرت غوث الاعظم ؒ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ ادا ہوئے ، مرغ زندہ و کر بولنے لگا .حضرت غوث الاعظم ؒ نے عورت کو مخاطب کر کے فرمایا”جب تیرا بیٹا اس قابل ہو جائے گاتو اسے اجازت ہےجو چاہے کھائے “

مزید : روشن کرنیں


loading...